خان شیخون پر کیمیایی حملہ اور اسکے ذمہ دار (آخری قسط)

خبر کا کوڈ: 1379343 خدمت: اسلامی بیداری
خان شیخون8

عربی تجزیہ نگار ماہر خلیل کے مطابق ہر حملے کا کوئی مقصد ہوتا ہے اگر شامی افواج نے یہ حملہ کیا ہو تو دیکھتے ہیں انکا کیا مقصد ہو سکتا تھا۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: خان شیخون پر کیمیایی حملہ اور اسکے ذمہ دار کی پہلی قسط کیلئے یہاں کلک کریں۔

2013ء میں غوطہ میں ہوئے کیمیائی حملوں کا الزام بھی بلا فاصلہ شامی حکومت کے سر ڈال دیا گیا تھا۔

عربی تجزیہ نگار ماہر خلیل کے مطابق ہر حملے کا کوئی مقصد ہوتا ہے اگر شامی افواج نے یہ حملہ کیا ہو تو دیکھتے ہیں انکا کیا مقصد ہو سکتا تھا۔

اگر میدان جنگ کے حالات کا جائزہ لیں تو شامی افواج اپنی بہترین حالات سے گزر رہی ہے شامی افواج نے اپنے کسی بھی مشن میں ناکامی کا منہ نہیں دیکھا ہے دہشت گرد تنظیموں کو مسلسل منہ کی کھانی پڑ رہی ہے لہذا پوچھا جانا چاہئے کہ شامی افواج کا ان حملوں سے کیا مقصد ہو سکتا ہے؟

شامی افواج اب دفاعی پوزیشن میں نہیں ہے بلکہ ہر منظم حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بہترین حالت میں ہے جوبر اور تدمر کی لڑائی پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ شامی افواج نے اپنی جنگی تدبیروں کو یکسر بدل دیا ہے داعش و دیگر خودکش بمبار گروپس آٹھ آٹھ ہزار کے لشکر کے ہمراہ کئی شہروں پر حملہ کرنے کے بعد بری طرح شکست کھا چکے ہیں۔ شامی افواج نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 90٪ سے زیادہ علاقہ آزاد کروایا ہے۔

دمشق، حمص، درعا میں لوٹتے امن و امان نیز شامی قیادت کی صلح و امن پالیسی سے متأثر نوجوان طبقہ ملک کی آزادی کیلئے فوج کے ساتھ جڑ رہا ہے۔

بشار اسد کو لیکر امریکا، فرانس حتیٰ ایک ہفتہ قبل تک شام میں متجاوزانہ کارروائی میں سرگرم عمل ترکی کے بدلتے نظریوں نے دہشت گرد تنظیموں کے حوصلے پست کر دئے ہیں۔

یہ تمام موارد شامی سرکار کے اقتدار اور مستحکم حالات کو بیان کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ مضبوط پوزیشن میں ہونے کے بعد ایسی کیا بات ہو سکتی ہے جو شامی سرکار کو مجبور کرے کہ اس کی فوج کیمیائی اسلحوں کا استعمال کرے؟ اگر شامی سرکار کو کیمیائی اسلحہ استعمال کرنا ہی ہوتا ہو کیا مناسب نہ ہوتا کہ وہ عام شہریوں کے برخلاف داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ان کا استعمال کرتے؟ کیا دیر الزور پر قابض ہزاروں دہشتگردوں کے خلاف ان کا استعمال کرنا آسان نہ ہوتا؟

داعش کو پوری دنیا دہشتگرد تنظیم مانتی ہے اور اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئیے شامی حکومت اس کے خلاف سبھی ممکنہ اقدامات کر سکتی ہے لیکن شامی سرکار نے کبھی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھی کیمیائی اسلحہ کا استعمال نہیں کیا۔ بشار حکومت کبھی بھی کیمیائی اسلحہ کا استعمال کرکے اس جال میں نہیں الجھے گی جو دہشت گرد تنظیموں کے حامی کئی ممالک نے مل کر بچھایا ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ امریکا نے ان حملوں کی جانچ کیلئے بننے والی ٹیم کی مخالفت کیوں کی؟ کیوں بنا کسی سبب اور ثبوت کے شام پر چڑھ دوڑا؟ جب اقوام متحدہ کا متعلقہ ادارہ کہہ چکا کہ شام کے پاس کوئی کیمیکل ہتھیار نہیں ہیں تو شام پر یہ الزامات کیوں؟

دہشت گرد تنظیموں کے دعوے کی ہوا تب بھی نکل جاتی ہے جب ہزاروں فلسطینی، لبنانی، شامی مسلمانوں کے خون میں نہایا صیہونی وزیراعظم ان کے دعوؤں کی تصدیق کرتا ہے  اور کہے کہ دہشت گردوں سے انسانی رفتار سے پیش آنا چاہئیے۔

صیہونی وزیر داخلہ نے بھی دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ نشر کی گئی تصویروں پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ شام میں بہت دردناک صبح ہے، کئی بچے مارے گئے ہیں۔ علاقے میں اسرائیل ہی صرف ایسی طاقت ہے جو ان جرائم کو روکنے میں دنیا بھر کی رہبری کر سکتا ہے۔

سعودی شاہ نے بھی شام پر حملے کے فورا بعد ٹرمپ کو فون کر کے مبارکباد دیتے ہوئے امریکی حملے کو ایک شجاعانہ اقدام قرار دیا۔

اس سے پہلے بھی انسانی حقوق کی تنظیم کے سوئڈن کے ڈاکٹرز نے وائٹ ہیلمٹ کے جرائم سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تنظیم بچوں کی حفاظت تو دور، اپنے مقاصد نیز فلم بنانے کیلئے ان کا قتل تک کر دیتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ شام میں دہشت گردوں کی مسلسل شکست نیز شامی افواج کی کامیابیوں کے بیچ امریکہ اور یورپ کے بدلتے رخ سے دہشت گرد تنظیمیں حواس باختہ تو ہیں ہی جبکہ اوپر سے امریکہ کا فرمان کہ اگر وہ اسی طرح متفرق رہے اور شام میں کوئی عمدہ کارکردگی سے قاصر رہتے ہیں تو انکی تنخواہیں نیز دیگر سہولیات روک دی جائیں گی۔

ان  تمام اسباب کے تحت دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے آقاؤں نے منظم پلاننگ نیز تبلیغاتی مہم جوئی کے ہمراہ خان شیخون کا نیا ڈرامہ رچایا۔

ذرائع ابلاغ کا ذمہ پھر سے وائٹ ہیلمٹ کے سر تھا جو ہر حادثہ کے چند منٹ بعد ہی جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے ہیں۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان تصویروں میں یہ بات واضح ہے کہ یہ تصویریں کسی رہائشی بستی کی نہیں بلکہ کسی پہاڑی علاقے کی ہیں جہاں غار اور ایسے ٹھکانوں کی کثیر تعداد ہے جنہیں ہتھیاروں کی حفاظت کیلئیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ بچے یہاں کیا کر رہے ہیں انکا گھربار کہاں ہے؟

حقیقت یہی ہے جو امریکی ریاست ورجینیا کے سینیٹر ریچرڈ بلاک کہتے ہیں کہ امریکہ سعودی عرب کی جنگ لڑ رہا ہے اور امریکی باشندے دوسروں کی نیابت میں لڑی جانے والی جنگوں سے تھک گئے ہیں۔

ان کے مطابق امریکہ شام کے ساتھ جنگ میں الجھ گیا ہے کیونکہ قطر اور سعودی عرب شام کے راستے ترکی تک گیس پائپ لائن بچھانا چاہتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری