جنرل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم:

عالمی قوتیں ارض پاک کو متعصب مسلکی ملک بنانے کے درپے/ شیعہ سنی وحدت ہی مضبوط پاکستان کی ضامن

خبر کا کوڈ: 1381331 خدمت: پاکستان
علماء شیعہ کانفرنس

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل شیعہ سنی اتحاد کو مملکت خداداد کے استحکام کا ضامن قرار دیا اور کہا کہ عالمی قوتیں ارض پاک کو ایک متعصب مسلکی ملک بنانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں جس کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے اسلام آباد میں جاری مرکزی کنونشن کے آخری روز علما شیعہ کانفرنس کا انعقاد جامعہ امام صادق ؑ میں ہوا جس میں ملک بھر کے سینکڑوں علما نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے عالمی قوتیں ارض پاک کو ایک متعصب مسلکی ملک بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ لاکھوں افراد کو عسکری تربیت دی گئی۔ پاکستان کو داخلی و خارجی سازشوں کا شکار کیا جارہا ہے۔ پاراچنار، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف علاقے ملت تشیع کے لیے مقتل کا روپ دھار چکے ہیں۔ اپنی قوم کی حفاظت کے لیے ہم نے ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کی ہے۔ آج پاکستان کے ملت تشیع تنہا نہیں۔ سانحہ پاراچنار کے بعد آرمی چیف کا پاراچنار پہنچنا ملت تشیع کی استقامت کا نتیجہ ہے۔ آج اہلسنت برادران ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ تکفیری گروہوں کو ملک کا دشمن اور قابل نفرت سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت، وزارت داخلہ اور نیکٹا ان تکفیریوں کو کلین چٹ دینا چاہتے ہیں۔ پوری قوم ان رسوا چہروں کی شناخت کر چکی ہے۔ کسی بھی کالعدم جماعت کو اس ملک میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینا ملک و قوم سے غداری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کی تشکیل کے بعد علما کے احترام میں اضافہ ہوا ہے۔ علما نے ہمیشہ عزاداری سید الشہدا کا دفاع کیا۔ سانحہ راولپنڈی میں علما نے صف اول میں رہ کر یہ ثابت کیا کہ کسی بھی مشکل مرحلے میں قوم کو علما نے تنہا کبھی نہیں چھوڑا۔ قومی وحدت ہمیں ہر ایک شے پر مقدم ہے۔ قوم کی بہتری کے لیے بزرگ علما کی ہر رائے پر لبیک کہنے اور قومی اتحاد کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان کی سالمیت و استحکام کے لیے ہم سب کو مشترکہ طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔ شیعہ سنی وحدت ہی مضبوط پاکستان کی ضامن ہے۔ ہماری حکومت اور ادارے ایک ایک الائنس کا حصہ بننے جا رہے ہیں جن کے نتائج افغان پالیسی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو نگے۔ ہمیں اس بات سے قطعی غرض نہیں کہ اس الائنس میں ایران یا کوئی دوسرا ملک شامل ہے یا نہیں۔ سینیئر عسکری شخصیات کی طرف سے اس اتحاد کے حوالے سے متعدد خدشات کا اظہار اس امر کا عکاس ہے کہ یہ اتحاد قومی و ملکی مفاد کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام کعبہ پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے آیا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے چین، روس، افغانستان کے ساتھ اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہم نے وطن میں محبت کو رواج دینا ہے، نفرتوں کا راستہ روکنا ہے۔

انہوں نے لاپتہ شیعہ افراد کے حوالے سے کہا کہ ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویش مسنگ پرسنز کی ہے۔ دو سو کے قریب ہمارے علما اور غیر علما افراد لاپتہ ہیں۔ علما نے اسیر علما اور جوانوں کے لیے آواز بلند کرنی ہے۔ ہم پُرامن لوگ ہیں۔ بیس ہزار سے زائد لاشیں اٹھانے کے باوجود ہم نے آئینی و قانونی حقوق سے کبھی تجاوز نہیں کیا۔ مئی کے پہلے ہفتے میں شیعہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ قومی مسائل میں قوم کے عمائدین کو ملا کر فیصلہ سازی کی ضرورت ہے۔ 5اگست کو اسلام آباد میں شہید قائد حسینی کی برسی ہماری تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہو گا۔

اس موقع پر شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ علامہ مرز ا یوسف نے کہا کہ دین کی حفاطت کے لیے ہر طرح کی مشکلات کے لیے خود کو تیار رکھنا ہو گا۔ اس وقت اسلام دوحصوں میں بٹ چکا ہے۔ ایک اسلام محمدی ہے اور دوسرا اسلام امریکیائی ہے۔ امریکہ کو حقیقی اسلام سے خطرہ ہے۔ اس حقیقی اسلام کی نمائندگی ملت تشیع کر رہا ہے۔ ایسا اسلامی اتحاد جس کی حمایت امریکہ و اسرائیل کریں وہ عالم اسلام کے لیے کیسے نفع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔

علامہ سید باقر شیرازی نے کہا علما کو اپنی ذات کا بھی محاسبہ کرنا چاہیے۔ اپنی اجتماعی و انفرادی زندگیوں کو سیرت طیبہ میں ڈھالنا عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ قول و فعل میں ہم آہنگی لائے بغیر زبان میں تاثیر پیدا نہیں ہو سکتی۔

مدارس جعفریہ کے سربراہ حسین نجفی نے کہا کہ علما کی مشکلات کے حل کے لیے بھی موثر اور مربوط نظام کی ضرورت ہے۔

علامہ غلام شبیر بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید عارف حسینی کو پاکستان کے تشیع میں جو مقام حاصل ہے وہ کسی کو حاصل نہیں ہو سکا۔ لوگوں کی ان سے بے پناہ محبت ان کے اعلی کردار کی بدولت تھی۔

علامہ باقر عباس زیدی نے کہا کہ معاشرے میں دین کا نفاذ علما کی ذمہ داری ہے۔ اجتماعی دینی مسائل میں ملکی سطح پر شیعہ فقہا کی نمائندگی انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں ان معاملات میں اپنے موقف کو وضاحت کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔

کانفرنس میں علامہ حیدر موسوی، علامہ سید علی محمد نقوی، سیدحسنین گردیزی، مبارک موسوی، علامہ ظہیر الحسن نقوی سمیت دیگر نامور علما نے بھی خطاب کیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری