پاک ایران تعلقات کے مخالف عناصر ایک بار پھر سرگرم/ ایرانی حکام اور میڈیا اس گھناؤنی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے

پاکستانی کالم نگار کا کہنا ہے کہ بدخواہوں کو خوش کرنے کے چکر میں پاکستان کہیں دوستوں سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے کیونکہ پاک ایران تعلقات کے مخالف عناصر ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں تاہم ایرانی حکام اور میڈیا اس گھناؤنی سازش سے آگاہی کی وجہ سے اس ناپاک کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

پاک ایران تعلقات کے مخالف عناصر ایک بار پھر سرگرم/ ایرانی حکام اور میڈیا اس گھناؤنی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے

خبر رساں ادارہ تسنیم: "تسنیم نیوز کی ٹیم، قارئین کی جانب سے عزیر بلوچ کے متعلق بے پناہ پیغامات اور مضامین ارسال کرنے پر بے حد شکریہ ادا کرتی ہے، اگرچہ قارئین کی خواہش ہے کہ ان کے مطالب لازمی طور پر نشر ہوں تاہم ادارے کا منشور اور پالیسی ہر قسم کے مطالب کے نشر و اشاعت کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ ادارہ، دشمن کی اس قسم کی سازشوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس گھناؤنے کھیل کا حصہ نہیں بنے گا۔ ادارہ اس قسم کی سازشوں کے روک تھام کیلئے اپنی کاوشوں کو جاری رکھنے کا بھرپور ارادہ رکھتا ہے۔ بنابراین، قارئین کی خدمت میں ان ہی کے ارسال کردہ مطالب میں سے منتخب مطالب شائع کئے جائیں گے جو سچ پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ پاک ایران تعلقات میں رخنہ ڈالنے کا سبب نہ ہوں۔"

عبدالرحمٰن خان کے مقالے کا متن من و عن پیش خدمت ہے:

پاکستان کے بدنام زمانہ گینگ وار سرغنہ  عزیر بلوچ کے پچھلے سال کےاپنے ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی  کے ساتھ تعلقات کے بے بنیاد انکشافات پر  پاکستانی میڈیا  کی غیر ذمہ دارانہ اور غیر  پیشہ ورانہ  روش  سے پاکستان ایران تعلقات پر لگے کاری وار کے زخم  پوری طرح مندمل بھی نہ ہو پائے تھے کہ گزشتہ ہفتے عزیر بلوچ کے پاکستان آرمی کی تحویل کے بعد ایک بار پھر ایک مذموم منصوبہ بندی کےذریعے پاکستانی میڈیا کی صفوں میں موجود  ایران مخالف زر خرید  لابی برادر ملک ایران کے خلاف زہر فشانی کا بازار گرم کرچکی ہے۔

ایرانی سفارت خانے نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ حالیہ  دنوں میں میڈیا میں آنےوالی بے بنیاد افواہوں جن میں کچھ شرپسند عناصر کا تعلق ایرانی اداروں سے جوڑا گیا ہے، کی پرزور تردید کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کی بے بنیاد باتوں کی اشاعت کا مقصد رائے عامہ  کی گمراهی اوراس عمل کو دونوں ملتوں کی دوستی و بھائی چارے کی روح کے منافی سمجھتا ہے۔ اس طرح کی جھوٹی باتوں کا شایع ہونا، دونوں دوست برادر ممالک ایران-پاکستان کے درمیان جاری تعلقات میں روز افزوں اور همہ جہت پہلو کو  وسعت  دینےکے سلسلے سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔   

خود عزیر بلوچ نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم(جے آئی ٹی )کی جانب سے کی جانے والی  تفتیش  کےدوران یہ انکشاف کیا کہ  اس کی خالہ  جو کہ مستقل طور پر ایران میں رہائش پذیر ہے اور اس کے  پاس ایران اور پاکستان دونوں ممالک کی شہریت ہے، نے  اس  کو  1987 میں جعلی ایرانی برتھ سرٹیفکیٹ  بنوا کر دیا  تھا۔  

ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے بتایا تھاکہ ایران میں مقیم اسکی خالہ کے بیٹے عبدالغنی کا 1980 میں 14,15 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا جس کےبعد 1987 میں خالہ نے عزیر بلوچ  سے اسکی تصویر حاصل کرکے اپنے بیٹے کے نام پر عزیر بلوچ کا جعلی برتھ سرٹیفکیٹ بنوا دیا۔ جس زمانے میں برتھ سرٹیفکیٹ بنوایاگیا اس وقت تصویر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اسلئے سرٹیفکیٹ باآسانی بن گیا۔ اور  2006 میں جب عزیر بلوچ ایران فرار ہوا تو اس نے  وہاں جاکر اپنی اسی خالہ کی مدد سے اپنے جعلی ایرانی برتھ سرٹیفکیٹ کے ذریعے ایرانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کیلئے اپلائی کردیا اور  2009 میں اسکے ایرانی پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد ایران میں مقیم اپنے دوست صابر عرف صابری کی مدد سے اپنے ایرانی پاسپورٹ کی تجدید کرالی۔ مگر پاکستانی میڈیا میں موجود ایران مخالف لابی ان حقائق کو پس پشت ڈال کر بے بنیاد الزامات کا سہارا لیکر پاکستان ایران کے  70 سالہ برادرانہ تعلقات کو اپنے زہریلے پراپیگنڈہ کے ذریعے  زک پہنچا رہی ہے۔  

گزشتہ سال بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اہلکار کلبھوشن یادو کی گرفتاری کے بعد کچھ پاکستانی میڈیا چینلز اور اینکرز کی ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت ایران کے خلاف رکیک حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اس وقت بھی یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہ تھا کہ  اس قسم کا منفی پراپیگنڈہ  پاک ایران تعلقات  میں رخنہ ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا شاخسانہ ہے۔

میڈیا کے اسی غیر ذمہ دارانہ رویہ پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے  پریس کانفرنس منعقد کرکے کہا تھا کہ "برادر اسلامی ملک ایران پاکستان کے خلاف کسی منفی سرگرمی میں ملوث نہیں۔ پاک ایران تعلقات کو را کے ایجنٹ کی گرفتاری سے نہ جوڑا جائے۔ ہمارا مسئلہ را سے ہے ایران سے نہیں۔ ایران نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ بھارتی جاسوس کے حوالے سے ایران کے سہولت کار ہونے کا تاثر دینا بالکل غلط ہے۔"

چوہدری نثار علی خان نے ایران پاک تعلقات کے حوالے سے میڈیا پرسنز کو خصوصی تاکید بھی کی تھی کہ وہ لکھتے اور بولتے ہوئے انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ انھیں اس کی ضرورت اس لیے ہوئی کہ کلبھوشن  کے حوالے سے ہمارے بعض اینکرز اور کالم نگاروں نے ایران کے بارے میں عوام میں کنفیوژن پیدا کرنے اور پاکستانی عوام جو کہ پڑوسی ملک ایران کو ایک دوست اور برادر ملک کی حیثیت سے دیکھتی ہے، کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی۔

یہ غیر ذمے داری کی انتہا ہے۔ یہ ایک ایسی  مذموم کوشش تھی جس کا مقصد پاک ایران دیرینہ تعلقات کو خراب کرنا اور دونوں دوست ممالک کے درمیان دوستی اور اخوت کو نقصان پہنچانا تھا۔ اسی برادرانہ تعلقات کی بنا پر گذشتہ 70 سالہ تاریخ میں پاکستان کی مغربی سرحدوں پر کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا گیا۔

ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے گزشتہ ہفتے پریس کلب اسلام آباد کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان سے تعلقات کو زیادہ فوقیت دیتا ہے۔ مشکل حالات میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خطے میں ایران اور پاکستان جیسے قریبی ممالک اور کوئی نہیں ہیں۔ کوئی بھی ملک ایران کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا۔

یہ بات واضح ہے کہ خطے میں پاکستان ایران کے مفادات مشترکہ ہیں۔ دونوںممالک مشکل حالات میں ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے ہیں۔ آج پاک ایران تعلقات میں مزید گرمجوشی پائی جاتی ہے۔ نیول مشقوں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ گیس اور بجلی کے منصوبے روبہ عمل ہیں۔ ایران کا بحری بیڑہ ان دنوں کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہے۔ ایرانی سفیر نے یہ بھی کہا ہے کہ پاک ایران تعلقات تیسرا ملک خراب کر رہا ہے۔

ان کا اشارہ کسی بھی ملک کی طرف ہو تاہم خطے میں پاک ایران تعلقات میں سردمہری اور کشیدگی کے در آنے کو روکنے کے لیے بدخواہوں کی سازشوں پر دونوں ممالک کو نظر رکھی چاہیے۔

سیاسی ماہرین کی اکثریت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایران مخالف لابی دونوں ممالک کے درمیان میڈیا جنگ کے آغاز پر تلی ہوئی ہے اور کوشش کررہی ہے کہ اپنی مذموم کوشش سے ایرانی میڈیا کو بھی پاکستان مخالف موقف اختیار کرنے پر مجبور کرے اور یہ امر پاکستان میں ایران کیخلاف وسیع پیمانے پر اقدامات کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم ایرانی حکام اور میڈیا اس گھناؤنی سازش سے آگاہی کی وجہ سے اس ناپاک کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے اور پاکستان کے حوالے سے اخوت، بھائی چارگی اور  صبر و استقامت پر مبنی سیاست پر عمل پیرا ہوں گے اور برادرانہ تعلقات کو مزید استحکام بخشیں گے۔

پاکستانی میڈیا میں موجود ایسے عناصر جو کہ چند سکوں کی خاطر اپنے ملک کو دیرینہ دوستوں سے دور کرنے کے درپہ ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ اپنی بدطینتی کے بے لگام گھوڑوں کو لگام دیں اور ملک کی عوام میں ایک دوست ملک کے خلاف احساسات اور جذبات برانگیختہ کرنے سے  اجتناب کریں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری