امریکی قومی سلامتی کے مشیر کیساتھ ملاقات میں؛

پاک فوج کی جانب سے پراکسی وار کی مکمل تردید

خبر کا کوڈ: 1383131 خدمت: پاکستان
قمر جاوید باجوہ

پاکستانی فوج کے سربراہ نے اپنی سرزمین پر پراکسی وار کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خود ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے اپنے وفد کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران امریکی مشیر سلامتی کو دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں اور خطے و عالمی کے استحکام کے لیے پاکستانی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

ملاقات میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کا مقصد ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں کا صفایا ہے۔

بیان کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کوسراہا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق نواز شریف نے امریکی مشیر قومی سلامتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے نئی امریکی حکومت کے اقدامات اور کوششوں کو سراہا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی کی صورتحال میں واضح بہتری سامنے آئی ہے۔

امریکی صدر کی نیک خواہشات وزیراعظم تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ امریکی مشیر قومی سلامتی نے نواز شریف کو یقین دہانی کرائی کہ نئی امریکی انتظامیہ دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ افغانستان سمیت پورے جنوبی ایشیائی خطے میں امن اور استحکام یقینی بنایا جاسکے۔

بعد ازاں امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی تھی۔

سرتاج عزیز نے امریکی وفد کو سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی پالییسیوں کے باعث ملک میں امن قائم ہوا ہے، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ اس ناسور کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور پاک-افغان سرحد پر موثر بارڈر میکنزم چاہتا ہے۔

ایچ آر میک ماسٹر کا کہنا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے اور مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستانی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

    تازہ ترین خبریں