جب قوم کے بیٹے اور بیٹیاں قاتل بن جائیں تو امن کیسے آئےگا؟

خبر کا کوڈ: 1383151 خدمت: پاکستان
نورین لغاری

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کا نورین لغاری کے ایسٹر کے موقع پر حملے سے متعلق اعتراف جرم کرنے کے بعد کہا: "نورین قوم کی بچی ہے اسے اپنے گھر جانے کی اجازت ہے۔"

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پنجاب سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی شدت پسند لڑکی نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ مجھے ایسٹر کے روز منعقدہ تقریبات میں خود کش حملہ کرنا تھا۔

اعتراف جرم کرنے کے باوجود (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے نورین لغاری کو قوم کی بیٹی قرار دیتے ہوئے گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے نورین کی اعترافی ویڈیو بھی دکھائی جس میں نورین کا کہنا تھا کہ میرا تعلق سندھ کے شہر حیدرآباد سے ہے میرے والد کا نام عبدالجبار ہے جو سندھ یونیورسٹی میں بطور استاد فرائض انجام دے رہے ہیں اور میں خود لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں اور ایم بی بی ایس میں سال دوئم کی طالبہ ہوں۔

مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ میں اپنی مرضی سے لاہور گئی۔

بیان میں نورین لغاری کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھی علی طارق کی سوچ شروع سے ہی تخریبی اور دہشت گردانہ تھی اور اس کی منصوبہ بندی  میں خود کش حملہ اور فورسز کے اہلکاروں کو اغوا کرنا شامل تھا۔

نورین کا کہنا تھا کہ دہشت گردانہ کاررائی کی منصوبہ بندی مکمل کی گئی تھی۔

دہشت گردانہ کاروائی کے لئے یکم اپریل کو کالعدم تنظیم نے ساز و سامان فراہم کیا تھا جس میں 2 خودکش جیکٹس، 4 ہینڈ گرنیڈز اور کچھ گولیاں بھی شامل تھیں۔

نورین کا کہنا تھا کہ  خودکش جیکٹس کا استعمال ایسٹر کے موقع پر کیا جانا تھا جس کے لئے خودکش بمبار کے طور پرمجھے نامزد کیا گیا تھا لیکن دھماکہ کرنے سے پہلے سیکورٹی اہلکاروں نے گرفتار کرلیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری