کمانڈرز کی کمانڈر انچیف سے ملاقات؛

امام خامنہ ای: دشمن کا خوف بدبختیوں کا آغاز ہے

خبر کا کوڈ: 1383964 خدمت: ایران
مسلح افواج کے کمانڈروں اور اہلکاروں کی امام خامنہ ای سے ملاقات

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے اعلیٰ افسران اور کمانڈروں نے کمانڈر انچیف امام خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے اسلامی انقلاب کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے آج [19 اپریل 2017 بروز بدھ] ـ بسلسلۂ یوم افواج و بری فوج ـ چاروں افواج کے اعلی کمانڈروں اور بعض یونٹوں کی ان سے ملاقات کے دوران ملکی سلامتی کے تحفظ کے سلسلے میں افواج کی قوتوں، صلاحیتوں اور بلند ہمتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عسکری قوت کو سلامتی کے تحفظ کا ایک اہم عنصر قرار دیا اور معاشی، سائنسی و تحقیقی، تعلیم و ثقافتی شعبوں کے کردار کو مؤثر گردانتے ہوئے فرمایا: ملکی حکام کا اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ ـ بطور خاص روزگار کے مواقع کی فراہمی اور پیداوار بڑھانے میں ـ مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کی اتباع کریں اور عوام کے معاشی مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں نیز بڑی طاقتوں کے آگے استقامت سے کام لیں اور ان کی دھونس دھمکی سے خوفزدہ نہ ہوں۔ 

رہبر انقلاب اسلامی نے 19 مئی 2017 کے صدارتی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوری نظام میں انتخابات کو اسلامی جمہوریت کی علامت قرار دیتے ہوئے فخر و مباہات اور طاقت و سربلندی کا سرمایہ گردانا اور فرمایا: عوام، حکام اور نامزد امیدواروں کو چاہئے کہ انتخابات کی قدردانی کریں اور ایک پرجوش، پرولولہ، پرنشاط، صحتمند، محفوظ اور وسیع انتخابات کے لئے ماحول فراہم کریں۔ 

امام خامنہ ای نے اس موقع پر یوم افواج کے حوالے سے افواج اور فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ اور بیوی بچوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ فوجیوں کے اہل خانہ اور بیوی بچے مورچے اور میدان رزم میں ان کے ساتھی ہیں۔ 

انھوں نے فرمایا: امام خمینی (رحمہ اللہ) کی جانب سے یوم مسلح افواج کا تعین، ان کے بہترین اور دانشمندانہ ترین اقدامات میں سے ایک تھا اور فرمایا: اس اقدام نے ایک طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج کی بنیادوں کو مستحکم کیا اور دوسری طرف سے اُس وقت کے بہت سے سازشیوں کی مایوسی اور ناامیدی کا سبب بنا۔

ہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: ابتدائے انقلاب میں امام خمینی (رحمہ اللہ) کی جانب سے یوم افواج کا تعین در حقیقت ملک کی مسلح افواج کے تشخص کو اس کے تمام تمام محددات و ضوابط کے ساتھ قبول کرنے کے مترادف تھا۔

انھوں نے فرمایا: افواج کی حفاظت اور تقویت درحقیقت امام خمینی (قدس سرہ) کے یقین قلبی پر مبنی تھی اور امام (قدس سرہ) کے اس صحیح اور بر وقت فیصلے کی برکت سے افواج اسلامی انقلاب کے بعد کے مختلف میدانوں میں خوب خوب چمکیں۔

اسلامی انقلاب کے رہبر معظم نے اندرونی سازشوں کے آگے استقامت کو افواج کے اہم اور تابندہ نمونوں میں شمار کیا اور فرمایا: دفاع مقدس کے دوران افواج کی کردار آفرینی اور جنگی قوت کے ساتھ ساتھ ااعلی سطحی اخلاق و معنویت کی مثالیں قائم کرنا، دیگر اعزازات میں سے ہے۔

امام خامنہ ای نے شہید [جرنیلوں] صیاد شیرازی اور بابایی سمیت افواج کے بہت سے شہدا کو اخلاق و معنویت کے عملی نمونے قراد دیا اور فرمایا: اسلامی جمہوریہ کی فوج آج ایک فکری اور معنوی قوت ہے جس کے محرکات نہایت پاک اور مقدس ہیں اور یہ اس روز کے تعین کے سلسلے میں امام خمینی (قدس سرہ) کے اس اہم اقدام کا ایک اہم نتیجہ ہے اور ان اقدار کی قدردانی اور تقویت کی ضرورت ہے۔

انھوں نے افواج کی روحانی اور معنوی آمادگیوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امن و سلامتی کے تحفظ میں مسلح افواج کے اہم کردار کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: امن و سلامتی ایک ملک کے لئے بہت اہم ہے اور جس قدر کہ مسلح افواج زیادہ طاقتور اور حوصلہ مند ہونگی یہ طاقت ـ اگر عسکری اقدام کے ساتھ نہ بھی ہو ـ امن و سلامتی قائم کرے گی۔

مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے فوجی کمانڈروں کو ایسے انسانوں کی تربیت کی تلقین کی جو مثالی کردار ادا کرسکیں اور فرمایا: شہید صیاد اور شہید بابائی کے اخلاقی نمونوں کو روز بروز مسلح افواج کے عظیم اور صاحب شوکت ادارے میں فروغ دینا چاہئے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: مسلح افواج عوام کے لئے امن و سلامتی کا اہم ترین حصار سمجھی جاتی ہیں؛ اور مسلح افواج کے علاوہ معاشی، تعلیمی، سائنسی، تحقیقی اور ثقافتی ادارے اور مجموعے بھی دشمن کے مقاصد کی مخالفت و مقابلے اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے شعبوں کے طور پر کردار ادا کریں، تو قطعی طور پر مسلح افواج کے ساتھ ہمآہنگ ہوکر قومی سلامتی کی حفاظت و تقویت اور ملکی تعمیر و ترقی کے لئے مناسب ماحول فراہم کرسکیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نے فرمایا: دشمن کا ایک منصوبہ یہ ہے کہ کمزوریوں اور معاشی مسائل سے فائدہ اٹھا کر ملت ایران کو نقصان پہنچا دے اسی وجہ سے حالیہ برسوں کا شعار معاشی قرار دیا گیا اور نمایاں کیا گیا۔ [سال 1396 ہجری شمسی کا شعار: مزاحمتی معیشت: پیداوار ـ روزگار]

انھوں نے ملک کی معاشی قوت کی تقویت کو نہایت حساس اور کلیدی موضوع قرار دیا اور فرمایا: میں اسی بنیاد پر "کام، فعالیت اور اقدام" کے ایک مجموعے کے طور پر مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کے نفاذ ـ بالخصوص روزگار و پیداوار اور عوام نیز مسلح افواج سمیت مختلف شعبوں کے کارکنوں کے معاشی مسائل حل کرنے ـ پر زور دیتا آیا ہوں۔

رہبر انقلاب نے فرمایا: اسلامی نظام کا بَدخَواہ اور بَد اندیش دشمنوں کی سازشیں معاشی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر خلل ڈالنے پر مرکوز ہوچکی ہیں ۔۔۔ جب دشمن کے محرکات اور اہداف و مقاصد نمایاں ہوں قاعدہ یہ ہے کہ مزاحمتی معیشت کی پالییسوں کے نفاذ کے سلسلے میں ذمہ دار حکام کے عزم و ہمت میں اتنا ہی اضافہ ہوجائے اور میں نے اسی بنا پر ان تمام مسائل کو ـ جو ملک کے تجربہ کار معاشی ماہرین کے آراء پر استوار ہیں ـ تفصیل کے ساتھ خصوصی ملاقاتوں میں سرکاری حکام کے لئے بیان کردیا ہے۔

امام خامنہ ای نے فرمایا: ملک کے ذمہ دار حکام سے میری توقع یہ ہے کہ جب یہ ملک کی معاشی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں دشمن کے قوی ‏‏عزم کو دیکھتے ہیں تو معاشی کمزوریوں کا ازالہ کرنے اور دراڑوں کو بند کرنے کی کوشش کریں۔

انھوں نے زور دے کر فرمایا: البتہ، اسلامی جمہوری نظام اور ملت ایران کی طاقت کے نقاط بھی بکثرت ہیں اور مختلف النوع سازشوں کے مقابلے میں ملت کی سربلندی کا سبب ـ ابتدائے انقلاب سے لے کر اب تک ـ طاقت کے یہی عجیب نقطے ہیں جو کمّیت اور کیفیت کے لحاظ سے کمزور نقاط سے کہیں زیادہ ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: قوت کا ایک اہم اور نمایاں نقطہ بڑی طاقتوں کی دھونس دھمکی اور چڑھی ہوئی تیوریوں کے مقابلے میں ملت ایران کا شجاعت و استقامت سے بھرپور جذبہ ہے  [جبکہ] قوموں اور حکومتوں کو ڈرانے اور اپنے ناجائز مفادات کے تحفظ پر آمادہ کرنے کے لئے جارح قوتوں کا ایک ہتھکنڈہ دھونس دھمکی اور خود کو بڑا بنا کر جتانا ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے فرمایا: ایک ملک کے لئے سب سے زیادہ بری حالت یہ ہے کہ اس ملک کے حکام دشمن کی دھونس دھمکی سے خوفزدہ ہوجائیں کیونکہ حکمرانوں کی خوفزدگی دشمن کے نفوذ اور جارحیت کے لئے راستہ کھول دیتی ہے۔

انھوں نے فرمایا: اس بات میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے کہ ملکی معاملات کا انتظام عقل و تدبیر اور حکمت سے انجام پانا چاہئے، لیکن اس تدبیر و حکمت کو شجاعت اور بےخوفی کے ہمراہ ہونا چاہئے۔

اسلامی انقلاب کے رہبر معظم نے فرمایا: دشمن کی دھونس دھمکی اور آنکھیں دکھانے سے ڈرنا اور گھبرا جانا، اور دشمن کی تیوریاں چڑھانے سے مدب جانا، بدبختیوں کا آغاز ہے۔  

امام سید علی خامنہ ای نے فرمایا: اگر کوئی ڈرنا چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن قوم و ملت کی طرف سے اور ملت کے کھاتے میں، خوفزدہ نہ ہو، کیونکہ ملت ایران ڈٹی ہوئی ہے۔

انھوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے اب تک دشمن کی مختلف النوع سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر اسلامی جمہوریہ اور ملت ایران کو طاقتوں سے ڈرکر پسپائی اختیار کرنا ہوتی تو اب ایران اور ایرانی کا اب کوئی نام و نشان تک نہ ہوتا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دے کر فرمایا: دشمن ـ خواہ امریکہ ہو خواہ امریکہ سے بھی بڑا ہو ـ ایسے نظام کے مقابلے میں ـ جو اپنی ملت سے محبت کرتا ہے اور عوام بھی اس سے محبت کرتے ہیں اور [سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند] ڈٹے ہوئے ہیں ـ [ایسے نظام اور ایسی ملت کا] کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے فرمایا: اس میں شک نہیں ہے کہ جابر طاقتیں ـ بالخصوص امریکہ ـ ملت ایران کے دشمن ہیں اور یہ جو کہا جائے کہ وہ فلان شخص کے ساتھ متفق الخیال ہیں اور اس کا لحاظ رکھیں گے، ایک غلط بات ہے کیونکہ ان کی دشمنی امام خمینی (قدس سرہ) کے زمانے سے اور امام (قدس سرہ) کے بعد مختلف حکومتوں کے ادوار میں ـ جو مختلف قسم کے افکار کے ساتبھ قائم رہیں ـ بھی جاری رہی ہے۔

انھوں نے زور دے کر فرمایا: ملت ایران کی قوت و استحکام، استقامت اور امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی چڑھی ہوئی تیوریوں کے آگے اس کی  اثر ناپذیری (Imperviousness) کو جاری رکھنا چاہئے اور دشمن کے سامنے استقامت اور عدم خوفزدگی کے ایک اہم حصے کا تعلق مسلح افواج سے ہے اور اس کا ایک اہم حصہ معاشی ماہرین، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں ـ بالخصوص سائنسی اور تحقیقی شعبوں ـ سے ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں اگلے صدارتی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، انتخابات کو دنیا کی سطح پر ایران کے لئے اعزاز اور ملت ایران کے لئے عزت، قوت، رو سفیدی اور سربلندی کا سبب قرار دیا اور فرمایا: دشمن کی کوشش یہ تھی کہ اسلام اور معنویت کو جمہوریت کے منافی قرار دے لیکن اسلامی جمہوریہ نے جمہوریت اور انتخابات کے ذریعے ان کے اس دعوے کو غلط اور بےبنیاد ثابت کیا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: پوری ملت انتخابات میں محسوس کرتے ہیں کہ ملک کے مسائل کی کنجی ان کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس ملک کے بنیادی عناصر کا تعین کرتے ہیں۔

انھوں نے فرمایا: پورے عوام، نامزد امیدواروں اور انتخابات کے منتظمین کو انتخابات کی قدردانی اور تحسین کرنا چاہئے؛ پرجوش، پرولولہ، پرنشاط، صحتمند، محفوظ اور وسیع انتخابات ـ امن و سلامتی کے ساتھ ـ منعقد کئے جائیں کیونکہ یہ ملک کے لئے ایک ذخیرہ ہونگے اور اس کی وجہ سے ملک کی بہت حد تک حفاظت ہوگی۔  

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوششوں کے سلسلے میں دشمن ذرائع ابلاغ کی طرف سے پرفِتَن مواد کی اشاعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملت ایران اپنی روایتی ہوشیاری اور بیداری کے ذریعے ان اعمال کے مد مقابل ڈٹ جائے گی۔

رہبر انقلاب کے خطاب سے قبل، فوج کے چیف کمانڈر جنرل صالحی نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے رجب المرجب کی عیدوں اور یوم مسلح افواج و بری فوج کے سلسلے میں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: آج ہماری افواج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تمام بری، بحری، فضائی و میزائل دفاعی فورس اور فضائی افواج پوری طاقت، خوداعتمادی اور اللہ پر توکل کے ساتھ ملک کی زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں اور اسلامی انقلاب کی اعتقادی سرحدوں کا دفاع اور تحفظ کررہی ہیں اور سب سے بڑھ کر ہماری جنگی آمادگی مؤمن اور ماہر انسانوں کے بحر بےکراں پر فخر کرتی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری