تحریر: محمد سلیم

پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی سامراجی اور تکفیری کوشش

خبر کا کوڈ: 1384510 خدمت: مقالات
پرچم پاکستان و طالبان

امریکہ اور مغرب کی ایک ہی سوچ ہے اور وہ یہ کہ اسلامی ممالک آپس میں دست و گریباں ہوں، بدقسمتی سے سامراج اس سازش میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سامراج کے آلہ کار مسلمان ممالک نے امریکہ اور مغرب کے اشاروں پر پہلے اسلامی ملک افغانستان کو برباد کیا، لیبیا کو تباہ کیا، شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور یمن کی سرزمین کو آگ و خون میں نہلایا۔ جبکہ بحرین میں ظالم و جابر آل خلیفہ کی سلطنت کو دوام بخشا جہاں چھ سال سے اکثریت اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور آل خلیفہ کی سفاک ریژیم پرامن عوام کو دہشتگرد اور ایجنٹ قرار دے کر ان کا بہیمانہ قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے جو امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور مسلسل ان کوششوں میں ہے کہ کسی طرح پاکستان کو اندرونی مسائل اور جھگڑوں میں الجھائے رکھے۔ پاکستان ہمیشہ بھارت اور امریکہ پر طالبان اور دیگر دہشتگردوں کی پشت پناہی کے الزامات لگاتا رہا ہے، جو افغانستان میں بیٹھے کمانڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے پاکستان کیخلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کی سرپرستی کرتے آ رہے ہیں اور بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی مکمل پشت پناہی کررہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اسلامی جمہوری پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی کوششیں کررہے ہیں اور بدقسمتی سے پاکستان خود بہت تیزی سے تباہی اور بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

 شام میں پرامن عوامی احتجاج کو سعودی عرب نے اغوا کرنے کی کوشش کی اور اپنے جہادی جو لیبیا جہاد سے فارغ ہوئے، شام میں داخل کروائے۔

جبہۃ النصرہ، احرار الشام، جیش الاسلام اور اسلامک جہاد یونین جیسے دہشتگرد تنظیموں کو سعودی عرب اور امریکہ و مغرب پیسہ اور اسلحہ فراہم کررہے تھے جو القاعدہ اور داعش کے آلہ کار تھے اور اسلحہ ان خونخوار ہاتھوں میں تھما دیتے۔ سعودی عرب اور امریکہ کا اتحاد کامیاب ہوا اور دہشتگردوں نے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی قیادت میں آزاد ریاست "دولت اسلامیہ" بنانے کا اعلان کیا۔

اب سعودی عرب کو خطرات لاحق ہوئے کیونکہ اسلام کی خدمت اب سعودی عرب سے اچھا "دولت اسلامیہ" کررہی تھی۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم نے شام میں جہاد کا فتوی واپس لے کر فساد کا فتوی دیا اور سعودی عرب کی حکومت نے شام گئیے سارے جہادیوں کو دو ہفتوں کے اندر واپس آنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ اب جو سعودی جہادی واپس آئے انہوں نے سعودی عرب کے سیکورٹی اداروں اور شیعہ امام بارگاہوں پر ہلہ بول دیا اور یوں سعودی عرب نے اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی اور میڈیا پروپیگنڈا تیز کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب دہشتگردی کا خود شکار رہا ہے۔

صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سعودی عرب نے امریکہ اور مغرب سے مل کر ایک 64 ملکی فوجی اتحاد بنایا اور ان ہی دہشتگردوں کیخلاف فضائی کارروائی شروع کی جن کو انہوں پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ یہ اتحاد دولت اسلامیہ کو عراق اور شام تک محدود رکھنے کیلئے تھا تاکہ دہشتگرد اسرائیل اور سعودی عرب کے لیئے خطرات پیدا نہ کریں جبکہ عراق اور شام میں مصروف رہیں۔

جب دہشتگردوں نے دمشق کا محاصرہ کیا اور بغداد کے دروازے پر دستک دی تو عراق اور شام نے ایران سے مدد مانگی اور دہشتگردوں کیخلاف اب اصلی جنگ کا آغاز ہوا۔ اس اتحاد کو شام میں روس نے بھی تقویت بخشی جس نے طرطوس اڈہ کے محاصرہ کے بعد شام جنگ میں کودنے کا اعلان کیا۔ اور اسی وجہ سے آج عراق اور شام دونوں دہشتگردی پر کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ کے بعد شاہ سلمان تخت نشین ہوئے تو اپنے چھوٹے شہزادے محمد کی خوشنودی کیلئے اپنے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو قربانی کا بکرا بنایا اور شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنی دانشمندی اور قوت ثابت کرنے کیلئے غریب ترین عرب جمہوری یمن پر یلغار کیا اور اب یمن جنگ سعودی عرب کی معاشی بربادی اور سماجی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔

یمن میں انسانی حقوق تنظیموں کی تحفظات بالائے طاق رکھ کر کلسٹر بم برسائے جا رہے ہیں اور شہر کے شہر، گاؤں کے گاؤں صفہ ہستی سے مٹا دئیے بازاروں سے لے کر مسجدوں تک،  جنازوں سے لے کر قبرستانوں تک کو نشانہ بناکر یمن کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔ چھ ہزار بچوں سمیت بیس ہزار لوگوں کی ہلاک کردیئے گئے اس کے باوجود جب سعودی عرب، یمن جنگ میں شکست کے دہانے پہنچ گیا تو مسلمان ممالک کے عسکری اتحاد کو ڈھونگ رچایا اور سوڈانی اور سینیگال کے فوجی خرید کر یمن جنگ میں جھونک دیئے گئے۔ جبکہ قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے کولمبیا سے عیسائی دہشتگرد خرید کر یمن بھیج دیئے۔

چونسٹھ ممالک اتحاد ادھورا چھوڑ کر 15 دسمبر 2015 کو سعودی وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی عرب کے سربراہی میں اسلامی عسکری اتحاد کا اعلان کیا۔ جس میں ترکی، مصر، ملائیشیا اور پاکستان سمیت اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، سیرالیون ،صومالیہ، گبون، گنی، ف

فلسطین، کیمرون، قطر اور آئیوری کوسٹ، کویت، لبنان، لیبیا ، مالدیپ، مالی، مراکش، موریطانیہ، نائجر، نائیجیریا اور یمن کے علاوہ دس اور غیر معروف ممالک بھی اتحاد میں شامل کیئے گئیے۔ پاکستان سمیت اکثر ممالک کو اس پریس کانفرنس کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ اس اتحاد میں شامل ہیں۔

اب سعودی عرب معاشی طور پر ڈوبنے لگا ہے، سیاسی طور پر تنہا ہو رہا ہے اور سماجی طور پر نابودی کا شکار ہے کیونکہ امریکی اور اسرائیلی مفادات کی تحفظ کیلئے مسلمان ملکوں پر حملے ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ سعودی عرب کی ہزاروں فوجی یمن جنگ سے بھاگ رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بے مقصد جنگ ہے جس میں بے گناہ بچوں کا خون بہہ رہا ہے، تو اسلامی ملکوں کی عسکری فوج کی تجویز پیش کر ڈالی اور سعودی عرب کے ٹکڑوں پر پلنے والی ریاستیں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے تیار بھی ہو گئیں۔ اور پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف چونکہ سعودی عرب کے احسانات تلے دبے ہوئے ہیں، پاکستان کو سعودی عرب کے جھولی میں ڈالنے میں ایک منٹ ضائع نہیں کیا، حالانکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس نے متفقہ بل پاس کیا جس میں پاکستان کو کسی جنگ کا حصہ نہ بننے کی تاکید کی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان اس پر واضح اور دو ٹوک اعلان کرچکے ہیں کہ پاکستان کو کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کررہی ہے۔

جیسا کہ تمہید میں لکھا ہے کہ "پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے جو امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور مسلسل ان کوششوں میں ہے کہ کسی طرح پاکستان کو اندرونی مسائل اور جھگڑوں میں الجھائے رکھیں" تو امریکہ اور سعودی عرب نے چونکہ افغان جہاد کے وقت سے پاکستان میں جہادی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور ان جہادی فیکٹریوں کی ایک کھیپ افغانستان میں مصروف جہاد رہی اور دوسری فصل تیار ہے جنہیں یمن اور شام میں اتارنے کی تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔

امریکی جریدے وال سٹیٹ جرنل نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان اکتالیس ملکوں کے اسلامی فوج میں شمولیت کے ساتھ ساتھ پانچ ہزار مزید فوج فراہم کرے گی جو سعودی عرب کے یمن بارڈر پر تعینات رہے گی، جس سے خدشات درست ثابت ہوئے کہ یہ اسلامی فوج مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ وال سٹریٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزارت جنگ کے ترجمان بریگیڈئیر عسیری نے واضح کیا کہ اسلامی ممالک کی فوج یمن میں کارروائیوں کیلئے استعمال کی جائے گی۔

پاکستان کے وزیر دفاع اور دفتر خارجہ کے ترجمان متعدد بار پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے جنگ سے دور رہنے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں لیکن پس پردہ حقائق اور معاہدے کچھ اور ہیں۔ اس طرح بین الاقوامی اور اسلامی برادر ملکوں کے آنکھوں میں دھول جھونکنے سے پاکستان کی مزید بدنامی ہوگی اور پاکستان خانہ جنگی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندی عروج پر ہے اور دہشتگرد جہاں چاہے اور جب چاہے کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جبکہ کشمیر کا مسئلہ پس پشت ڈالا ہے۔

پاک فوج ایک پروفیشنل اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس فوج ہے، جس میں پاکستان کے ہر مکتبہِ فکر اور اقلیتوں کی نمائیدگی موجود ہے۔ مغرب اپنے تکفیری ایجنٹوں کے ذریعے پاک فوج کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ عالم اسلام کے اکلوتے ایٹمی پاور فوج کو مسلکی اور مذہبی طور پر تقسیم کیا جائے اور پاکستان سے ایٹمی ہتھیار کسی طرح خطرے سے دوچار کرکے اسے سلب کریں۔ پاکستان کے صف اوّل کے دفاعی تجزیہ کار اور سابق ملٹری چیفس ان خطرات اور سازشوں کے متعلق بار بار آگاہ کرتے رہے ہیں۔

پاکستان نصف صدی میں آدھا ملک گنوا چکا ہے اور آدھے سے زیادہ ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔ مشرقی پاکستان کے زخم تازہ تھے کہ افغانستان جنگ میں کود پڑے، افغانستان کو تباہ و برباد چھوڑ کر اب یمن اور شام پر چڑھائی کا فیصلہ کیا ہے۔

سامراج، امریکہ اور مغرب کا تذکرہ کرتے ہوئے مقصد امریکہ اور اسکے یورپی اتحادیوں برطانیہ، فرانس، جرمنی سے لیکر آسٹریلیا تک سب ہوتے ہیں۔ اور ان کے مسلمان اتحادی سعودی عرب کی سرپرستی میں قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات ہیں جن کو ترکی کی بھی تائید حاصل ہے اور ملائیشیا و انڈونیشیا تک انکے ہمنوا ہیں، جبکہ نائجیریا، سوڈان اور صومالیہ تک انکے اتحادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں