بلوچستان: اسلحہ آزاد؛ شاپروں پر پابندی

خبر کا کوڈ: 1384790 خدمت: پاکستان
پلاسٹک بیگز

صوبہ بلوچستان کی اسمبلی میں پلاسٹک کی تھیلیوں کی فروخت، استعمال اور پیداوار پر پابندی کا بل منظور کرلیا گیا جس کے بعد اب اگلے ماہ سے صوبے بھر میں پلاسٹک کی تھیلیاں ممنوع قرار دے دی جائیں گی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی اور بدامنی کے واقعات اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

افغانستان سے بلوچستان کے ذریعے پاکستان میں سرایت کرنے والی دہشتگردی اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ایسے میں صوبہ بلوچستان میں اسلحے کے بجائے شاپروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں مذکورہ بل وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات سردار رضا محمد نے پیش کیا جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

بل کی منظوری کے بعد صوبائی ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات ای پی اے نے بھی پابندی کا باقاعدہ نوٹی فیکیشن جاری کردیا ہے۔

صوبے میں پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی کا اطلاق 15 مئی سے ہوگا۔ یہ اقدام ماحولیات کے تحفظ اور لوگوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی عہدیداران اس سے قبل ہی پلاسٹک کی پیداوار اور کاروبار سے منسلک افراد اور اداروں پر زور دے رہے تھے کہ وہ پلاسٹک کی تھیلیوں کے بجائے ماحول دوست بیگز کی تیاری پر کام کریں۔

جس کے بعد کاروباری افراد نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اس معاملے میں یورپی ممالک کی تقلید کرتے ہوئے اور ان کی تکنیکوں کو اپناتے ہوئے اس پر کام کریں گے۔
   
واضح رہے کہ پلاسٹک کا یہ شاپر شہروں کی آلودگی میں بھی بے تحاشہ اضافہ کرتا ہے۔

تلف نہ ہونے کے سبب یہ کچرے کے ڈھیر کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور نکاسی آب کی لائنوں میں پھنس کر انہیں بند کردیتا ہے جس سے پورے پورے شہر کے گٹر ابل پڑتے ہیں۔

یہ تھیلیاں سمندروں اور دریاؤں میں جا کر وہاں موجود آبی حیات کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں اور اکثر اوقات ان کی موت کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

پلاسٹک کے ان نقصانات سے آگاہی ہونے کے بعد دنیا کے کئی ممالک اور شہروں میں آہستہ آہستہ اس پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پلاسٹک کی تھیلیاں مستقبل بعید میں انسانی جان کے لئے زہر قاتل کا کام کرتی ہیں اور حکومت بلوچستان کا اس پر پابندی کا فیصلہ نہایت قابل تحسین فعل ہے تاہم انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ بلوچستان کی پسماندہ اور غربت میں گھری ہوئی عوام کی فلاح کے لئے بھی موثر قدم اٹھائے جائیں اور وہاں کی عوام کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری