پانامه کیس؛ بڑی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا/ (ن) لیگ خوش، پی ٹی آئی خاموش

خبر کا کوڈ: 1384920 خدمت: پاکستان
نواز شریف و عمران خان

سپریم کورٹ آف پاکستان کا فل بنچ کورٹ روم نمبر1 میں پانامہ پیپرز کے تاریخی مقدمے کا فیصلہ سنانا شروع کردیا ہے‘ اس موقع پر تحریک ۔انصاف اوردیگر فریقین کی اعلیٰ قیادت سمیت حکومتی وزراء بھی موجود ہیں۔ فیصلہ 547صفحات پر مشتمل ہے جس میں عدالت نے جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی بنانے کا حکم دیا ہے

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاناما کیس فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا ہے، بینچ میں شامل 5 میں سے 2 فاضل ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا جب کہ دیگر 3 جج صاحبان نے اس معاملے کی تحقیقات کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ قانون کی رو سے 3 ججوں کا فیصلہ نافذالعمل ہوگا

سپریم کورٹ نے قطری خط کو بطور ثبوت مسترد کردیا اور لندن اپارٹمنٹس خریدنے میں منی ٹریل کی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیاہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے فرزند حسن اور حسین نواز جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوں گے۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ جے آئی ٹی ہر دو ہفتے بعد بنچ کو رپورٹ پیش کرے گی اور 60 دن کے اندر مکمل تحقیقات عدالت کے سامنے پیش کی جائے گی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین نیب اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے سراج الحق نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستیں دائر کی تھیں، درخواست گزاروں نے عدالت عظمٰی سے درخواست کی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نااہل قرار دیا جائے۔

پاناما کیس کی سماعت کے دوران 35سماعتوں میں 25ہزار دستاویزات پیش کی گئیں۔

پاناما کیس کے فیصلے کے موقع پر شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ کی بلڈنگ کے اطراف سخت سیکورٹی کےاقدامات کئے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے اطراف ایک ہزار پولیس، رینجرز اور سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے جبکہ قریبی چوراہوں اور اہم عمارتوں کے ارد گرد بھی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری