تحریر: احمد طوری

پانامہ کیس فیصلے کا پوسٹ مارٹم! اور سیاسی ہلچل

خبر کا کوڈ: 1385616 خدمت: پاکستان
پانامہ کیس

پاکستان سپریم کورٹ کا پانامہ کیس پر صدیوں تک یاد رکھنے والا فیصلہ بالآخر آ گیا ہے اور نہیں بھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے  فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا، جسے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے 'فتح' قرار دیا۔

تسنیم نیوز ایجنسی: دو سینئیر ترین ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے مالی معاملات اور لندن کی جائیداد کے بارے میں اس عدالت کے سامنے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے لہذٰا وزیراعظم قومی اسمبلی سے نااہل ہیں۔

کسی بھی مہذب ملک میں اعلی ترین عدلیہ کے ججز اگر ملک کے سربراہ کو جھوٹا قرار دے تو ان کے پاس عہدہ پاس رکھنے کا اخلاقی طور ختم ہوجاتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصلے کے بعد حکمران مسلم لیگ اور وزیراعظم نوازشریف نے جشن منایا، میٹھائی تقسیم کی گئی اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے، جس کی سمجھ نہیں آئی، کیونکہ تین ججوں نے شریف فیمیلی سے مزید تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔

بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم ایک مجرم کے طور پر مختلف ایجنسیوں کے افسران کے سامنے اپنے چھپائے گئے اثاثوں کے متعلق اُن سوالات کے جوابات دیں گے جو سوالات سپریم کورٹ نے فریم کیئے ہیں جس کا جواب پانامہ فیصلے میں نوازشریف کے پانچ وکلاء دینے میں ناکام رہے تھے اور آخری حربے کے طور پر قطری خط کا ڈرامہ رچایا گیا جو عدالت جعلی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس فیصلے کے آغاز میں مشہور ناول 'دی گاڈ فادر' کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، 'ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے' جس سے فیصلے کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کیونکہ یہ فیصلہ ایک مافیا سے متعلق ہے لہذٰ یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ یہ چوری کا نہیں بلکہ مافیا کیخلاف فیصلہ ہے۔

بادی النظر میں سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ شریف فیملی نے تلاشی دی لیکن اثاثے چھپائے ہیں! لہذا اب پاکستان کے سارے ادارے مل کر وزیراعظم اور انکے بچوں حسن نواز اور حسین نواز کی تلاشی لیں اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کرکے سپریم کورٹ میں جمع کریں جس کی بنیاد پر دو مہینوں بعد مکمل فیصلہ سنایا جائے گا۔

نوازشریف نے سپریم کورٹ میں جعلی قطری پیش کیا اور پانچوں ججوں نے اسے مسترد کیا ہے۔

اب ایک وزیراعظم سپریم کورٹ میں جعلی خط جمع کریں اور پھر سپریم کورٹ اسے بوگس قرار دے کر مسترد کرے!  وزیراعظم کیا حیثیت رہی؟

فیصلے میں ایف آئی اور نیب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور انہی اداروں کو پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، حالانکہ سب ادارے نوازشرف کے نیچے کام کررہے ہیں تو یہ ادارے نوازشریف اور انکے بچوں سے وہ معلومات کیسے اگلوائیں گے جو سپریم کورٹ خود نہیں اگلوا سکی؟

نوازشریف کو اگر سپریم کورٹ نااہل نہیں کرسکی تو ان کے ماتحت ادارے میں 19 گریڈ کا افسر کیسے نااہل قرار دے سکتا ہے؟

اگر آپ کے ذہن میں اس طرح کے سوالات ابھر رہے تو تعجب کی بات بالکل نہیں کیونکہ پاکستان میں جے آئی ٹی بنانے کا ٹرینڈ پرانا ہے اور خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں اگر ناکام نہیں تو کامیاب بھی ثابت نہیں ہوئے ہیں لیکن اس جے آئی ٹی میں میں اہم بات یہ ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے دیئے گئے ہدایات کے مطابق کام کریں گے اور ہر دو ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بنچ کو رپورٹ جمع کریں گے۔

پانامہ فیصلے میں عدلیہ کے اعلی ترین ججز نے اہم سوالات جے آئی ٹی کیلئے سامنے رکھ دیئے ہیں جن کے جوابات نوازشریف کیلئے مشکلات کھڑے کرے گی۔

پانامہ کیس فیصلہ سے پاکستانی سیاست میں بھونچال آیا ہے۔ یپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، مسلم ق کے چوہدری شجاعت حسین  اور تحریک انصاف کے عمران خان نے نوازشریف سے اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

جبکہ مسلم ڈھٹائی سے خوشیاں منا رہی ہے کہ ہماری جیت ہوئی۔

حکمران جماعت کے رہنماؤں نے ایک ایسے وزیراعظم کو بچانے میں پوری سرکاری مشینری استعمال کی جس پر ذاتی چوری کے الزامات ہیں۔

شریف فیملی پر یہ الزامات گزشتہ تیس سال سے لگ رہے ہیں لیکن پاکستان کی عدالتیں نوازشریف کے لیئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور پیپلز پارٹی سمیت اکثر جماعتیں بھی یہ الزامات لگاتے آ رہے ہیں۔

نوازشریف نے بذات خود قوم سے خطاب میں اور قومی اسمبلی کے فلور پر بتایا کہ کہ لندن فلیٹ ان کے ہیں اور جدہ اور امارات کے سٹیل ملز بھیج کر 2006 میں خریدے گئے جو قوم کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ لندن فلیٹس نوازشریف نے 1993 سے لیکر 1998 کے درمیان خریدے گئے اور نوازشریف کے بچے اور بیگم کلثوم نوازشریف تسلیم کرچکے ہیں۔

نوازشریف کے قریبی ساتھی اور وزراء نوازشریف کے لندن فلیٹ کے متعلق کہہ چکے ہیں کہ بیس سال پہلے خریدے گئے ہیں ضعیم قادری نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ شریف فیمیلی نے لندن فلیٹ 1970 میں خریدے تھے جبکہ عدالت میں قطری خط پیش کرکے عدالت اور قوم کی تضحیک کی کیونکہ قطری خط سپریم کورٹ نے قبول کیا اور نہ ہی کسی ذی شعور پاکستانی نے۔

پاناما لیکس کے معاملے نے پاکستانی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، قطر کے شیخ جاسم، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

پاکستان مسلم لیگ پانامہ کیس کے ریویو میں جا کر مزید وقت ضائع کرسکتی ہے لیکن نوازشریف کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوتا جائے گا اور پاکستان کی سیاسی پارٹیاں متحد ہو کر نوازشریف کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

پاکستان سیاسی دلدل میں مزید پھنسنے کے خدشات ہے جس کے نتیجے میں قومی اور بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوگی۔

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری