افغان فوجی کیمپ حملہ / پاکستان کے اعلیٰ سیاسی اور عسکری حکام کی شدید مذمت

خبر کا کوڈ: 1387206 خدمت: پاکستان
اشرف‌غنی و نوازشریف

پاکستان کے وزیر اعظم، دفتر خارجہ اور آرمی چیف نے شمالی افغانستان کے شہر مزار شریف میں ملٹری بیس پر افغان طالبان کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان اعلیٰ سیاسی اور عسکری حکام نے شدید مذمت شمالی افغانستان کے شہر مزار شریف میں ملٹری بیس پر افغان طالبان کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کا اپنے مذمتی بیان میں کہنا تھا کہ پاکستان نے بھی یہ دکھ جھیلے ہیں اس لئے افغان بھائیوں کا دکھ محسوس کر سکتے ہیں۔

دہشت گردی مشترکہ دشمن اور علاقائی امن کیلئے خطرہ ہے جس کے خاتمے کیلئے افغان حکومت اور عوام کیساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم نے دہشتگردی میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے دہشت گردوں کی جانب سے افغانستان کے فوجی تربیتی کیمپ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر دکھ اور ان کے اہلخانہ سے ہمدری کا اظہار کیا۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغان حکومت اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

اسی طرح پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں مزار شریف میں فوجی کیمپ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے جب کہ افغان عوام اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

ترجمان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دہشت گرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں اور ہم انہیں ضرور شکست دیں گے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں مزارشریف میں فوجی وردیوں میں ملبوس حملہ آوروں کے فوجی کیمپ پر حملے کے نتیجے میں 140 اہلکار ہلاک جبکہ متعدد ہوگئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری