سعودی۔امریکی اتحاد کا حصہ بننا پاکستان کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا، رحیق عباسی

خبر کا کوڈ: 1387480 خدمت: اسلامی بیداری
رحیق عباسی

پاکستان عوامی تحریک کے ناظم الأمور رحیق عباسی نے پاکستان کی سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے تباہ کن قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے رہنما رحیق عباسی نے کہا کہ پاکستان کی سعودی فوجی اتحاد میں شرکت اور  اس اتحاد کی سابق آرمی چیف کی سربراہی پاکستان کے لئے ایک تباہ کن فیصلہ ہے۔ مشرق وسطٰی میں ہونے والی عالمی طاقتوں کی سرد جنگ اور ایران و سعودیہ کی لڑائی میں پاکستان کا سعودیہ کا اتحادی بننا ویسا ہی احمقانہ فیصلہ ہے جیسا تیس سال قبل امریکہ اور روس کی لڑائی میں افغانستان کی جنگ میں شرکت۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے فیصلے نے اس قوم کو ہیروئن، کلاشنکوف، دہشت گردی، مذہبی شدت پسندی اور تباہی کے علاوہ اور کیا دیا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطٰی میں سعودی عرب، امریکی اور اسرائیلی مفادات کا محافظ ہے جبکہ دوسری طرف ایران اور روس ہیں۔ چین کی خاموش حمایت بھی دوسرے گروپ کے ساتھ ہے۔ ایسے میں اپنے دو پڑوسی ممالک اور ایک نزدیک ترین عالمی طاقت کے مفادات کے خلاف قائم اتحاد میں جانا کہاں کی عقلمندی ہے۔

رہنما عوامی تحریک کا نہایت افسوس کیساتھ یہ بھی کہنا تھا کہ ایک بار پھر ڈالروں اور ریالوں کے عوض ملک کی آئندہ نسلوں کے لئے مزید تباہی خریدی جا رہی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کے مشرقی اور مغربی سرحدیں پہلے ہی حالت جنگ میں ہیں اب ایران کے مفادات کے خلاف اتحاد میں جا کر افغانستان کی طرح ایران کو بھی بھارت کی جھولی میں پھینکا جا رہا ہے۔ اس طرح  اب جنوب مشرقی بارڈر بھی ہوسٹائل ہو جائے گا۔ اس طرح کے فیصلے کرنے والوں کی عقل کو اکیس توپوں کی سلامی دی جانا چاہئے۔

یاد رہے پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے پہلے ہی پاکستان کی نام نہاد اسلامی اتحاد میں شمولیت کو مسترد کیا ہے اور اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے گزشتہ سال ایک مشترکہ اجلاس میں متفقہ قرارداد پاس کیا جس میں یہ قومی پالیسی واضح کی گئی کہ پاکستان مشرق وسطیٰ یا کسی دوسرے ملک کی جنگ میں فریق بننے سے گریز کرے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری