پانامہ فیصلے کے بعد کی کہانی:

نواز شریف استعفیٰ دیں، اپوزیشن پارٹیاں / ہرگز نہیں دیں گے، حکومتی ذرائع

خبر کا کوڈ: 1387590 خدمت: پاکستان
نواز شریف

پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد تمام اپوزیشن پارٹیوں نے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ حکومتی ذرائع نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا ہے کہ نواز شریف استعفیٰ نہیں دیں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پانامہ کیس کے فیصلے جیسی شائد ہی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال ملتی ہو جس کو سننے کے بعد دونوں ہی فریقین مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں۔

اسی جشن کے دوران پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں نے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ دینے کا مطانبہ کیا ہے جب کہ حکومتی ذرائع نے بھی جشن مناتے مناتے صاف جواب دے دیا ہے کہ نواز شریف استعفیٰ نہیں دیں گے۔

شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف استعفیٰ دے دیں ورنہ گھر نہیں کہیں اورجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف مدینہ جائیں یا لانڈھی جیل‘ میں ان کو کھانا بھجوانے کو تیار ہوں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف اداروں، جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچانے کے لیے استعفیٰ دیں اور اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اداروں کو بچانا چاہتے ہیں یا اقتدار کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔

 

پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف استعفیٰ دیں اورجے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو نوازشریف سے استعفیٰ مانگنا چاہئے۔ حیران ہوں (ن) لیگ کس بات کی خوشی منا رہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ عدالت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں‘ ایسی ججمنٹ کبھی نہیں آئی۔ میں پاکستانی قوم کی طرف سے نواز شریف کو کہتا ہوں کہ وہ فوری طور پر استعفیٰ دے کیونکہ ان کے پاس وزیر اعظم رہنے کا کون سا اخلاقی جواز رہ گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں سب کی تلاشی شروع ہوچکی ہے،عدالتی سماعت کے دوران ججوں نے سب کی باتیں سنیں اور بعد ازاں ججز نے نواز شریف کی جان سے پیش کئے گئے تمام دلائل کومسترد کردیااور وزیراعظم کو کلین چٹ نہیں دی جبکہ انصاف کا تقاضاہے کہ وزیراعظم عہدے سے مستعفی ہوجائیں کیونکہ وزیراعظم کی موجودگی میں سرکاری افسران انصاف نہیں کرسکیں گے۔

آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف وممبر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن چوہدری محمد یٰسین نے کہا ہے کہ پانامہ کے فیصلے کے بعد میاں نوازشریف اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور نئے انتخابات کروائیں ۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے اپنے عہدے کی معیاد دو سال رہنے کے باوجود قبل از وقت انتخابات کروانے کافیصلہ کیا ہے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے، لہذا اب ان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔

اسی طرح لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاناما کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وزیراعظم مستعفی نہ ہوئے تو وکلا ملک گیر تحریک چلائیں گے۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پاناما کیس پر اکثریتی فیصلہ ہی اصل فیصلہ ہے،اختلافی نوٹ فیصلہ نہیں،31مئی2018 سے پہلے نوازشریف استعفی نہیں دیں گے۔

وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ہمیں ہٹاتی تو چلے جاتے تحریک انصاف کے کہنے پر نہیں جائیں گے، وزیراعظم عوام کا مینڈیٹ لے کر آئے، عوام ہی انہیں ہٹا سکتے ہیں، تحریک انصاف چور راستے تلاش کرنے کی بجائے عوام کی خدمت کرے اور ووٹ لے کر آئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری