امام موسی کاظم علیہ السّلام کی شہادت کی نسبت سے؛

وہ بے گناہ قیدی کہ جس کی شہادت کے بعد اس کی بیڑیاں کاٹ کر جسم سے علیحدہ کی گئیں

خبر کا کوڈ: 1387709 خدمت: دنیا
امام موسی کاظم علیہ السلام

آسمانِ امامت و ولایت کے ساتویں تاجدار باب الحوائج، اسیر بغداد، فرزند رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کو 25 رجب کو شہید کیا گیا۔

تسنیم نیوز ایجنسی: حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام 7 صفر سن 128ھ کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ابوا نامی گاوں میں اس دنیا میں تشریف لائے۔

آپ علیہ السلام کے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام جبکہ والدہ ماجدہ کا نام "حمیدہ بریریہ" ہے جو کہ حمیدہ مصفا کے نام سے معروف تھیں۔

آپ اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد 20 سال کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوے۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے القاب میں امین، صابر، کاظم، صالح، صابر، امین اور عبدصالح مشہور ہیں، علاوہ ازیں "باب الحوائج" کے نام سے زیادہ یاد کئے جاتے ہیں۔

آپ کی کنیت ابوابراھیم، ابوالحسن اول، ابوالحسن ماضی، ابوعلی اور ابواسماعیل ہیں۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے ابائو اجداد کی طرح معصوم، اعلم زمانہ اور افضلِ کائنات تھے۔

آپ علیہ السلام دنیا کی تمام زبانیں جانتے تھے اور علم غیب سے آگاہ تھے۔

 آپ علیہ السلام دنیا کے عابدوں میں سے سب سے بڑے عبادت گزاراور سخاوت میں سب سے زیادہ سخی تھے۔

158ھ کے آخر میں منصور دوانقی ملعون واصل جہنم ہونے کے بعد اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پر بیٹھا۔

شروع میں اس نے امام علیہ السلام کو کسی قسم کی اذیت نہ دی اور نہ ہی بے احترامی کی لیکن چند سال بعد اس کو بھی اولاد پیغمبر علیہ السلام کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور 164ھ میں حج کے بہانے سر زمین حجاز کی جانب روانہ ہوا۔

وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بھی اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور بغداد میں امام علیہ السلام کو قید کر دیا۔

ایک سال امام علیہ السلام اس کی قید میں رہے بعد میں اس ملعون کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور امام علیہ السلام کو آزاد کر کے مدینہ واپس بھیج دیا۔

مہدی کے بعد اس کا بھائی ہادی 169ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال اس نے حکومت کی ۔

اس کے بعد ہارون رشید کا زمانہ آیا۔ اس ظالم اور ملعون کے دور میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو آزادی کی سانس لینا نصیب نہیں ہوا ۔

امام علیہ السلام کو بصرہ میں ایک سال قید رکھنے کے بعد ہارون رشید ملعون نے والی بصرہ عیسیٰ بن جعفر کو لکھا کہ موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام ) کو قتل کرکے مجھ کو ان کے وجود سے سکون دے۔

اس نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کرنے کے بعد ہارون رشید ملعون کو لکھا: میں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام میں اس ایک سال کے اندر کوئی برائی نہیں دیکھی۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام روز و شب نماز اور روزہ میں مصروف و مشغول رہتے ہیں اور عوام کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور ملک کی فلاح و بہبودی کے خواہشمند ہیں۔ کس طرح ایسے شخص کو قتل کر دوں؟

میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اور اپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہا ہوں لہٰذا تو مجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کر بلکہ تو مجھے حکم دے کہ میں ان کو اس قید بامشقت سے آزاد کردوں۔

اس خط کو پانے کے بعد ہارون رشید ملعون نے اس کام کو سندی بن شاہک کے حوالے کیا اور اسی ملعون ظالم کے ذریعہ امام علیہ السلام کو زہر دلوا کر شہید کر دیا۔

امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کے ہاتھوں اور پیروں سے ہتھکڑیاں اوربیڑیاں کاٹی گئیں۔

علما نے لکھا ہے کہ امام علیہ السلام نے اپنی شہادت سے قبل 14 برس بے جرم و خطا ایک ایسے زندان میں گزارے جس کی چھت اس قدر نیچی تھی کہ امام علیہ السلام نماز ادا کرتے ہوئے رکوع تو کر سکتے تھے مگر قیام نہیں۔

اسی حالت میں امام علیہ السلام نے 14 برس گزارے اور اسی زندان میں ہارون رشید ملعون کے حکم پر دیئے گئے  زہر کے ذریعے 25 رجب کو شہادت پائی۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے چند فرامین:

  • جو شخص اپنے غیظ و غضب کو لوگوں سے روکے تو قیامت میں خدا اس کواپنے غضب سے محفوظ رکھے گا۔
  • صالح افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا فلاح اور بہبود کی طرف دعوت دیتاہے۔
  • علماء کا ادب کرنا عقل میں اضافہ کا سبب ہے۔
  • معرفت الٰہی کے بعد جو چیزیں انسان کو سب سے زیادہ خدا سے نزدیک کرتی ہیں وہ نماز، والدین کے ساتھ اچھا برتائو، حسد نہ کرنا، خود پسندی سے پرہیز کرنا، فخر و مباہات سے اجتناب کرنا۔
  • تمھارے نفس کی قیمت تو بس جنت ہے، پس اپنے نفس کو جنت کے علاوہ کسی اور کے بدلے فروخت نہ کرو۔
  • نعمت اس شخص کے پاس رہتی ہے جو میانہ روی اور قناعت کو اپناتا ہے اور جو شخص بےجا مصرف اور اسراف کرتا ہے تو اس سے نعمت دور ہوجاتی ہے۔
  • امانت داری اور سچائی رزق مہیا کرتے ہیں، خیانت اور جھوٹ فقر اور نفاق پیدا کرتے ہیں۔
  • عاقل وہ ہے جسے رزق حلال شکر سے باز نہیں رکھتا اور نہ کبھی حرام اس کے صبر پر غالب آتا ہے۔
  • جو شخص حمد و ثنائے پروردگار اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے بغیر دعا مانگتا ہے وہ بالکل اس شخص کے مانند ہے جو بغیر ہدف کے تیر چلائے۔
    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری