حشد الشعبی کے خلاف ترک صدر کا بیان اور عراق کے سیاسی حلقوں سمیت عوام کا شدید رد عمل!

خبر کا کوڈ: 1387435 خدمت: اسلامی بیداری
حضور مجاهدین حشد الشعبی در شمال تلعفر در عملیات موصل

ترک صدر رجب طیب اردگان کے حشد الشعبی کے خلاف دئے گئے اہانت آمیز بیان پر عراق کے سیاسی حلقوں اور عوام نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

تسنیم نیوز کے مطابق عراق کے سیاسی حکام اور عوام نے حشد الشعبی کے خلاف ترک صدر رجب طیب اردگان کےاہانت آمیز بیان کی پر زور مخالفت کی ہے۔

عراقی عوام اور سیاسی حلقوں نے اردگان کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اردگان ملک کی قومی شخصیات اور تنظیموں کے خلاف اپنی بیہودہ بیان بازیوں سے باز نہیں آتے تو عراق کو ترکی سے روابط برقرار رکھنے پر غور کرنا چاہئے۔

ترکی کیساتھ روابط پر نظرثانی کی ضرورت

اگر ترکی عراق میں مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تفریق پھیلانے سے باز نہیں آتا تو عراق کو انقرہ سے اپنے روابط برقرار رکھنے کے سلسلے میں غور کرنا چاہئے۔

عراق کے قومی اتحاد نے حشد الشعبی پر اردگان کی تنقید اور اس رضاکارانہ تنظیم کو دہشت گرد بتائے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس بیان کو عراق کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

حشد الشعبی عراق کی شان اور مزاحمت کا علمبردار

قومی اتحاد کے مطابق حشد الشعبی نے اپنا قومی اور شرعی فرض نبھاتے ہوئے تکفیریت، انتہاپسندی نیز قبائلی فتنوں کی جڑیں کاٹتے ہوئے ملک کی حفاظت کی ہے۔

حشد الشعبی اپنے تمام ممبران اور تنظیموں کے ساتھ عراق کی شان اور عراقی عزم و استقامت کا آئینہ ہے جس نے داعش اور دیگر دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا ہے۔

قومی اتحاد نے ملکی حاکمیت اور خود مختاری کی بقاء کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا نیز داخلی امور میں بیرونی مداخلت کو روکنے کیلئے سبھی اقدام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

حشدالشعبی عراق کا قومی ڈھانچہ

عراقی وزیراعظم کے دفتر نے حشد الشعبی کو عراق کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔

انہوں نے حشد الشعبی کو عراق کا قومی ڈھانچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم کا قیام آیۃ اللہ سید علی سیستانی کے حکم کے سبب ہوا اور اس تنظیم نے عراقی افواج کے شانہ بہ شانہ دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے فتح میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

حیدر العبادی نے کہا کہ عراق ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور حشد الشعبی عراقی حکومت سے وابستہ ایک تنظیم ہے۔ یہ تنظیم عراقی حکومت اور عوام کی وفادار ہے نیز عراقی افواج کی قیادت کی تابع فرمان ہے نہ کہ کسی بیرونی قوتوں یا استعمار کا آلہ کار۔

عراق کی ترکی کے ساتھ 6 سالہ کشیدگی

دوسری طرف عراقی وزارت خارجہ نے بغداد میں ترک سفیر کو طلب کر کے اردگان کے بیان پر اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ عراق ایسے منفی اقدام کا مخالف ہے۔

یاد رہے کہ عراق اور ترکی کے تعلقات گذشتہ 6 سال سے کشیدہ ہیں۔

عراق ترکی کشیدگی کا سبب ؟

اس کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب عراقی عدلیہ کی طرف سے مجرم ٹہرائے گئے سابق معاون صدر طارق ہاشمی کو ترکی نے اپنے ہاں پناہ دی۔

ترکی نے عراق کے اہل سنت مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی عوام کے حوالے سو موقف اپنایا اور اس ملک کی سرزمین میں اپنی فوجیں بھیج کر نینوا کے بعشقیہ شہر میں ان کے لئے کیمپ بنایا اور عراق کی مسلسل درخواستوں کے باوجود بھی عراقی سرزمین سے اپنی فوجیں نکالنے سے انکار کرتا رہا۔ 

قابل توجہ بات یہ ہے کہ حشد الشعبی کے خلاف ترک حکومت کی طرف سے یہ پہلا بیان نہیں ہے۔ تین سال قبل اپنی تشکیل کے وقت سے ہی یہ تنظیم ترک حکام کی اہانت آمیز بیان بازی نیز ترک میڈیا کا نشانہ بنتی رہی ہے۔

عراقی اتحادی افواج کے ممبر محمد المسعودی نے اردگان کے بیان کو عراق کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امر ناقابل قبول ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری