تحریر: صادقہ خان

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟

خبر کا کوڈ: 1388507 خدمت: مقالات
صادقہ خان

مان لیجیئے! کہ ہماری حکومتیں نا اہل، اعلیٰ عدالتیں بکاؤ اور سیاسی کرتا دھرتا جانوروں سے بدتر تو ہیں ہی، ہم خود ایک "کرپٹ قوم" ہیں۔ ہمارے ضمیر مردہ اور ہاتھ پاؤں ہیں ہی نہیں، کبھی مشرف، کبھی عمران اور کبھی راحیل شریف کی صورت میں اپنا وہ نجات دہندہ تلاشتے رہتے ہیں جو آئیگا اور جادو کی چھڑی سے سب کچھ ٹھیک کردیگا۔

ایک طویل عرصے سے پاکستان پر دو سیاسی پارٹیز کی حکومت چلی آرہی ہے، بے نظیر جاتی تو نواز شریف آجاتا، نواز شریف کو کبھی سپریم کورٹ تو کبھی افواجِ پاکستان گھر کا راستہ دکھاتے تو مارشل لا آجا تا ، یہی دھوپ چھاؤں کا کھیل دیکھتے دیکھتےشعور کی منزلوں کو پہنچے تو مستقبل کی تاریک سیاسی راہ پر ایک ننھا سا دیا ٹمٹماتا نظر آیا۔  ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں  امید کی کرن بننے والا وہ شخص ہر کسی کے لئے یوں  بھی معتبر ٹہرا کہ اس کا تعلق کسی اعلیٰ سیاسی خانوادے سے نہیں تھا۔ وہ سپورٹس مین سپرٹ رکھنے والا ایک جنگجو فطرت اور باہمت انسان تھا جو ایک دفعہ کچھ کرنے کی ٹھان لیتا اور ساری دنیا بھی اسکی مخالفت پر اتر آتی تو وہ کسی  کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔

عمران خان نے جب پچھلی صدی کے اواخر میں اپنی سیاسی جماعت "پاکستان تحریک انصاف" کی داغ بیل ڈالی تو پچانوے فیصد باشعور پاکستانی عوام کو پکا یقین تھا کہ  عمران کی صورت میں انہیں  وہ  پر عزم لیڈر مل گیا ہے جو کرپشن اور لا قانونیت کے بھنور میں پھنسی ہماری  سیاسی ناؤ کو پار لگانے میں ضرور کامیاب ہو جائیگا۔ مگر وقت گزرتا رہا، برس ہا برس بیت گئے،  پہلے پہل سنہرے آدرش کی جگہ کھوکھلے سیاسی نعروں نے لی، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان قیادت پیچھے ہٹتی گئی اور وہی گھسے پٹے۔

ادھر اُدھر لڑھکتے عمر رسیدہ لوٹے  پارٹی پر چھانے لگے۔ مگر قوم اس شخص سے امیدیں باندھ کر صرفِ نظر کرتی گئی۔ وہ "لانگ مارچ" کا اعلان کرتا  تو نوجوان تپتی دوپہروں میں دیوانہ وار اس کے پیچھے نکل کھڑے ہوتے، عمران خان "دھرنوں کی کال" دیتا  تو برسوں سےظلم و ناانصافی کی چکی میں پستی  پاکستانی عوام شدید ٹھنڈ اور طوفان بادو باراں کی پروا کئے بغیر  اپنے اکلوتے مسیحا کی ایک آواز پر لبیک کہتی گھروں سے نکل کھڑی ہوتی۔ مگر وقت نے دیکھا عمران خان ان کا  وہ مسیحا نہ تھا جس میں انکی تقدیر بدلنے کی سکت ہوتی،  جب عوام لو کے تھپیڑوں کی زد پہ میدانوں اور سڑکوں پر جھلس رہی ہوتی تھی تو عمران اپنے ایئر کنڈیشنڈ کنٹینر میں محو استراحت ملتا، جب ٹھٹرتی راتوں میں اس کی ایک کال پر اپنا گھر بار کا آرام چھوڑ کر اپنی عصمت کی پروا کئے بغیر دھرنے میں آ بیٹھنے والی خواتین موسمی حالات اور اردگرد منڈلاتے "بھیڑیوں" سے نبرد آزما ہوتی تھیں تو ان کا "برگرلیڈر" بنی گالہ کے محل نما بیڈروم میں نئی شادی اور حسین راتوں کے سپنے دیکھنے میں مصروف ہوتا۔ مگر قوم پھر بھی عمران خان کا ساتھ نبھاتی رہی کہ چند کوتاہیوں پر اس کی برس ہا برس کی سسٹم تبدیل کرنے کی کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

آخر کوئی تو تھا جو لالچ، خود غرضی، مفاد پرستی، کینہ پروری اور کرپشن کی غلاظت میں لتھڑے اس معاشرے میں حق کے لئے آواز اٹھا رہا تھا۔ کوئی تو تھا  جو حب الوطنی اور پارساؤں کے لبادوں میں ملبوس، وطن عزیز کو ذاتی اناؤں کی بھینٹ چڑھا دینے والے ان سیاسی لوٹوں کے چہروں سے نقاب اتارکر ان کے اصل گھناؤنے چہرے بے نقاب کرنے کی سعی کرتا تھا۔

سو عوام عمران خان کا ساتھ نبھاتی رہی۔ لگ بھگ ایک برس قبل پانامہ لیکس کا پینڈورا بکس کھلا اور عمران خان نے ہر فورم پر آواز اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تب سے ہر کسی کی نظر اِسی طرف لگی ہوئی تھیں، آئے روز دھماکہ دار خبریں اور الزامات سامنے آتے رہے، کیس کے اعلیٰ عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باوجود فریقین نے اخلاقیات کی وہ دھجیاں اڑائیں کہ با شعور لوگوں کا رہا سہا اعتماد بھی جاتا رہا۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ یہ کرپشن کے خلاف، یا انصاف کے لئے لڑی جانے والی جنگ نہیں، یہ  محض دو قائدین اور ملک کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان انا کی رسا کشی ہے جہاں ہار اور جیت کا پیمانہ نواز شریف کی نا اہلی تک محدود تھا۔

قوم پھر بھی عمران کے شانہ بشانہ کھڑی ایک بڑے فیصلے کا انتظار کرتی رہی کہ لٹیروں کی اس بستی میں  کوئی تو تھا جو ان کے حق کے لئے نا سہی، اپنی انا کی تسکین  اور حکومت کے حصول کے لئے ہی کرپشن کے خلاف آواز تو اٹھا رہا تھا، یہ فیصلہ ایک نئی تاریخ بھی رقم کر سکتا تھا، مگر صد حیف کہ اس معاشرے میں صاف پانی سے لیکر اعلیٰ عدالتوں تک ہر شے  قابلِ فروخت ہے، جہاں آئین ِ پاکستان محض کاغذوں کا پلندہ اور ہر طرف جنگل کا قانون  رائج ہے سو ایک دفعہ پھر  پوری قوم کو   ایک نئی پہلے سے  زیادہ گہری دلدل میں دھکیل دیا گیا اور انصاف کی جنگ لڑنے والے مرد مجاھد پھر سے وہی لانگ مارچ اور دھرنوں کا پرانا راگ الاپنے بیٹھ گئے۔

بلاشبہ سپریم کورٹ کا یہ ایک فیصلہ پوری قوم کے لئے لمحۂ فکریہ ہے، اگر اعلیٰ عدالتیں سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی توہین رسالت پر قانون سازی کروا  کر معاشرے میں عدم برداشت اور جارحیت کا ایک نیا چلن روا کر سکتی ہیں تو کیا ہمارے معزز جج صاحبان کو ملک میں ناسور کی طرح پھیلتی، قومی اداروں کو دیمک بن کر چاٹتی کرپشن نظر نہیں آتی۔ کیا پانامہ لیکس کیس کو بنیاد بنا کر کوئی ایسا اعلیٰ ترین فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا تھا جو وطنِ عزیز کو ذاتی پراپرٹی سمجھ کر لوٹنے والے ہر صاحبِ اقتدار کو نمونۂ عبرت بنانے کا باعث بن جاتا، کیا اس فیصلے کے ذریعےکرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوئی مؤثر اسٹرٹیجی بنانے کی داغ بیل نہیں ڈالی جاسکتی تھی ؟؟ کیا ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے لئے بھی یہ محض دو سیاسی پارٹیز کی سیاسی جنگ تھی یا  یہ مجموعی پاکستانی معاشرے کی ایک گھناؤنی تصویر تھی جہاں پلمبر سے لیکر  وزیر ِاعظم تک کرپٹ ہیں۔ اس ملک سے اپنا حق تو ہر کوئی لے رہا ہے مگر اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں  مجھ سمیت سب صفر ہیں۔ یہاں اگر کوئی اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو اسے مشعال خان کی طرح کیڑے مکوڑوں کی طرح کچل کر دنیا کے لئے نمونۂ عبرت بنا دیا جاتا ہے اور انصاف کے ٹھیکیدار اس صوبے کے برگر لیڈر اسی سپریم کورٹ کے آگے جھولی پھیلائے بیٹھے رہ جاتے ہیں۔

مان  لیجیئے! کہ ہماری حکومتیں نا اہل، اعلیٰ عدالتیں بکاؤ اور سیاسی کرتا دھرتا جانوروں سے بدتر تو ہیں ہی، ہم خود ایک "کرپٹ قوم" ہیں۔ ہمارے ضمیر مردہ اور ہاتھ پاؤں ہی نہیں، دماغ بھی کند اور ناکارہ ہیں، ہم میں اپنے حق کے لیئے آواز اٹھانے کی ہمت ہی نہیں رہی، ہم شب و روز ایک مسیحا کی راہ تکتے رہتے ہیں، کبھی  مشرف، کبھی عمران اور کبھی راحیل شریف کی صورت میں اپنا وہ نجات دہندہ تلاشتے رہتے ہیں جو آئیگا اور جادو کی چھڑی سے سب کچھ ٹھیک کردیگا۔

مان لیجیئے! کہ آپ کا مسیحا عمران خان نہیں ہے، آپ کا مسیحا سپریم کورٹ بھی  نہیں ہے، آپ کا، میرا، ہم سب کا مسیحا دو جہانوں کا مالک خدائے بزرگ و برتر ہے، ایک دفعہ اللہ پاک پر بھرپور توکل کے ساتھ  اپنے اور  آنے والی نسل کے جائز حق کے لئے آواز اٹھا کر تو دیکھئے، پھر دنیا کی کوئی طاقت  ایک انقلاب عظیم کو روک نہیں پائے گی۔

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری