پاکستان کی تہران اور ریاض کی بہتری کیلئے کوششیں جاری

خبر کا کوڈ: 1388625 خدمت: پاکستان
نواز شریف

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی سعودی اتحاد میں شامل نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تہران مشرق وسطیٰ میں بعض گروہوں کو دہشتگرد مانتا ہے جبکہ آل سعود انہیں دہشتگرد قرار نہیں دیتا اور دوسری جانب ریاض انصاراللہ یمن اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کو دہشتگرد مانتا ہے جنہیں ایران ان کی ملکی سالمیت کیلئے مزاحمتی گروہ قرار دے رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاک فوج کے سابق جرنیل راحیل شریف کے سعودی اتحاد کی سربراہی قبول کرنے کے بعد پاکستان نے ایران کو اس اتحاد میں شامل کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کردیں۔

ذرائع کے مابق پاکستان نے ایران کو سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے41 ملکی اسلامی فوجی اتحاد میں شرکت پر قائل کرنے اور تہران اور ریاض میں مفاہمت کیلئے سفارتی سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اس مقصد کیلئے وزیر اعظم نوازشریف نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو خصوصی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اشتر اوصاف نے اس حوالے سے گزشتہ ماہ ریاض دورے کے دوران سعودی ولیعہد کیساتھ متعدد ملاقاتیں بھی کی تھیں جبکہ وہ آنے والے دنوں میں ایران کا دورہ بھی کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سعودی اتحاد میں شرکت کے فیصلے سے پاک ایران تعلقات متاثر نہ ہو سکیں کیونکہ پاکستان ایران کو یہ یقین دلانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ سعودی فوجی اتحاد میں شمولیت اور راحیل شریف کے فوجی اتحاد کی سربراہی کے فیصلوں سے پاک ایران تعلقات پر کسی قسم کا منفی اثر نہیں پڑیگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران تاحال سعودی فوجی اتحاد میں شمولیت کیلئے رضا مند نہیں ہے اور اسے اس اتحاد کے حوالے سے کافی تحفظات ہیں تاہم پاکستان کی مسلسل کوششوں کے بعد ایران کے موقف میں تبدیلی آنے کا امکان بعید نظر آرہا ہے۔

شام کے تنازع پر بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی سعودی اتحاد میں شامل نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تہران مشرق وسطیٰ میں بعض گروہوں کو دہشتگرد مانتا ہے جبکہ آل سعود انہیں دہشتگرد قرار نہیں دیتا جبکہ دوسری جانب ریاض انصاراللہ یمن اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کو دہستگرد مانتا ہے جنہیں ایران ان کی ملکی سالمیت کیلئے مزاحمتی گروہ قرار دے رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کا موقف ہے کہ سعودی عرب اسلامی فوجی اتحاد کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کریگا جبکہ پاکستان نے سعودی عرب پر بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر فوجی اتحاد کو فرقہ وارانہ مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا تو پاکستان اس کا حصہ نہیں رہے گا۔

اس زمرے میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری شخصیات بارہا ایران کو بھی یقین دہانی کروا چکی ہیں کہ پاکستان کسی طور کسی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا جو ایران کی سالمیت اور استحکام کے خلاف ہو۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری