خصوصی رپورٹ/

وفاق اور سندھ کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی؛ نورا کشتی یا حقیقی جدوجہد ؟

خبر کا کوڈ: 1390814 خدمت: پاکستان
نواز و زرداری

رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا مسئلہ ہو یا آئی جی کی برطرفی کا معاملہ، بجلی و گیس کی فراہمی کا معاملہ ہو یا پھر این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم ہو یا دیگر معاملات، سندھ اور وفاقی حکومتوں کے درمیان ظاہری لفظی جنگ ہمیشہ کیلئے جاری رہتی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے مدثر مہدی کی رپورٹ کے مطابق رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا مسئلہ ہو یا آئی جی کی برطرفی کا معاملہ، بجلی و گیس کی فراہمی کا معاملہ ہو یا پھر این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم ہو یا اور دوسرے معاملات، سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان لفظوں کی گولہ باری ہمیشہ کیلئے جاری رہتی ہے اور گزرتے ہوئے دنوں کے ساتھ اس میں شدت آرہی ہیں۔

سند ھ کے بڑے سائیں مراد علی شاہ نے جب سے حکومت سنبھالی ہے اس وقت سے اب تک وہ سندھ کے حقوق کا مقدمہ مضبوط دلائل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں اور وفاقی حکومت کو مسلسل ٹف ٹائم دے رہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے حالیہ بیان میں وزیر اعظم نواز شریف کے 28اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کو ملتوی کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ  آئین میں درج ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہر 90 دن میں منعقد ہونا چاہیے اور اس اجلاس کو ملتوی کرنے کا مقصد سندھ کے حقو ق سے روگردانی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا  کہ آئی جی سندھ کے معاملے کو اپنے مقاصد کے لئے سیاسی ایشو بنایا  جارہا ہے جب کہ افسران کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں اور اس میں کوئی منفرد بات نہیں ہے۔

سندھ کے سائیں کے اس بیان پر وفاق سے بھی جوابی وار کا سلسلہ شروع ہوا اور خاموش ہوئی توپیں پھر سے چلنا شروع ہوگئیں۔

پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان اس وقت تلخیاں عروج پر ہیں اور دونوں جماعتیں صف آراء ہو چکی ہیں۔

گزشتہ ہفتوں کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری کے میاں صاحب کے خلاف برسوں سے ہوئے خاموش لبوں میں جنبش آئی ہے اور چور ہے میاں نواز چور ہے کی صدائیں بلند کردی گئی ہیں۔

اب دیکھنا ہے کہ  اس تلخی کا بڑھنا الیکشن مہم کا حصہ ہے  یا پھر ن لیگ اور پی پی پی کے درمیان  نورا کشتی یا پھر حقیقی جدوجہد، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری