تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

ایرانی سرحدی محافظین پر حملہ اور کچھ لاجواب سوالات!

خبر کا کوڈ: 1391241 خدمت: پاکستان
Shaheed

پیارے پاکستان! یہ پڑوسیوں کی رسم نہیں/ 10 ایرانیوں کی شہادت سعودی حکام کی پاکستان سے ملی بھگت کا نتیجہ پاکستانی حکام کی آل سعود کے نمکخواروں سے ملی بھگت کے نتیجے میں ایران کے دس اور سرحدی محافظ شہید ہو گئے ہیں۔ لیکن پاکستانی حکام سے جو سوال ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ "این تذھبون"؟ تم کس طرف جا رہے ہو ؟ کس راستے پر چل رہے ہو ؟

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، ملک کے مشرقی حصے میں آل سعود کے حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم کا بزدلانہ حملہ عالمی میڈیا کی خبروں پر چھایا ہوا ہے اس بار اس دہشت گردانہ حملہ میں 10 سرحدی محافظوں کی شہادت ہو گئی ہے سینکڑوں خاندان سوگ میں ڈوب گئے ہیں ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 

یہ کوئی تازہ اتفاق نہیں ہےلیکن ان کہانیوں کا کوئی خاتمہ بھی نہیں ہے، لیکن پاکستانی حکومت اور اس ملک کے سیاستدانوں سے کچھ سوال پوچھے جا سکتے ہیں،  

کیا پاکستان کے ساتھ 909 کیلومیٹر مشترک سرحدی علاقہ اور حقوق ہمسایہ کے تحت اچھے سلوک کی امید نہ رکھیں ؟ ۔۔ پھر کیوں ؟ 

کیا ایران وہ پہلا ملک نہیں تھا جس نے برصغیر پاک و ہند میں تازہ انقلاب اور اسلامی بیداری کے نتیجہ میں قائم ہونے والے نئے ملک پاکستان کے وجود کو تسلیم کیا؟  پھر کیوں ؟ 

کیا اردو زبان کی اصل و اساس فارسی نہیں ہے ؟ کیا اردو میں 70٪  الفاظ فارسی زبان کے نہیں ہیں ؟ کیا پاکستان کی تمام تاریخی عمارتوں کے سائن بورڈ فارسی زبان میں نہیں ہیں ؟ پھر کیوں ؟ 

کیا ان دونوں ملکوں (ایران ، پاکستان) کے پاسپورٹ میں یہ عبارت تحریر نہیں کہ یہ پاسپورٹ مقبوضہ فلسطین  کیلئے معتبر نہیں ہے اور ہم اسرائیل کو ایک ملک کے طور پر تسلیم نہیں کرتے؟ 

کیا اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی ہر وہ قرار داد جو پاکستانی مفاد کے خلاف تھی ایران اور ایرانیوں نے اسکی مخالفت نہیں کی ؟ پھر کیوں ؟ 

کیا ایران کا سیاسی نیٹ ورک سب سے زیادہ پاکستان میں نہیں پھیلا ہوا ہے؟ اور یہ دونوں ملکوں کے بہتر اور وسیع تعلقات کی غمازی نہیں کرتا ؟ پھر بھی ؟ 

کیا امریکہ میں ایران کے مفادات کی نگرانی پاکستان نہیں کرتا ؟ کیا یہ ہمارے اعتماد اور دوستی کا مظہر نہیں ہے ؟ پھر کیوں ؟ 

کیا ہم نے بھارت اور پاکستان جنگ کے دوران اپنے تمام ائیر پورٹ تمہارے حوالے نہیں کئے تھے تاکہ بتا سکیں کہ پڑوسی کے پاس جو کچھ ہے وہ خلوص کے ساتھ تمہاری خدمت میں حاضر ہے پھر بھی ؟ 

یا پاکستان وہ پہلا ملک نہیں تھا جس نے اسلامی انقلاب کو سب سے پہلے تسلیم کیا اور امام خمینی کو مبارک باد پیش کی پھر کیوں ؟ 

تمہارا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہے جسکی زبان تہذیب و ثقافت ل یہاں تک کہ زبان اور لباس بھی ہمارے سیستان و بلوچستان سیستان صوبے کے عوام سے مشابہ ہے پھر بھی ؟ 

تمہاری سر زمین پر ہمارے کئی سفیر اور سیاسی لوگوں کا خون بہایا گیا لیکن ہم نے دیکھا کی پاکستانی عوام بھی ہماری طرح انکا سوگ منا رہی ہے اور ان حادثات پر شرمندہ ہے تو ہم نے کوئی اقدام نہیں کیا, رابطہ برقرار رکھا پھر بھی ؟ 

کیا ہمارے رہبر نے پاکستان میں آئے سیلاب پر اظہار ہمدردی کرتے ہوئے نہیں کہا کہ ہر ایرانی جو اپنے پڑوسی کے لئے کچھ بھی بھیج سکتا ہے بھیجے کیا تم نے نہیں کہا تھا کہ ایران نے ہماری ضرورت سے زیادہ مدد فراہم کی ہے؟  

لیکن اے پاکستانی حکام! اے پاک فوج کے غیرتمند جوانوں! کیا یہ اچھے پڑوسیوں کی علامت ہے ؟ کیا یہی مروت ہے کہ ہمارا دشمن تمہاری مٹی کو اپنے لئے امن کا گہوارہ سمجھے اور جب چاہے اس سرزمین کے ماوں کو انکے عزیزوں کے سوگ میں بٹھائے ؟ 

کیا یہ اچھے پڑوسی کا طرز سلوک ہوتا ہے کہ ہمارے دشمن تمہاری سرحدوں میں داخل ہوتے ہی بے خوف ہو جائیں اور بنکروں میں بیٹھ کر ویڈیو جاری کرتے رہے ؟ 

کیا تمہیں یاد ہے کہ سینکڑوں ایرانیوں کی جان لینے والا اور ہزاروں ایرانیوں کے خلاف سازش کرنے والا ریگی تمہارے ملک میں پناہ لئے ہوئے تھا اور پاکستانی شناختی کارڈ کا حامل تھا؟ 

کیا یاد ہے کہ ہمارے فوجیوں کو سرحد سے یرغمال بناکر تمہارے وطن میں رکھا گیا تھا، کبھی ان کے خاندان اور اہل و عیال کیلئے کچھ سوچا ہے پڑوسیوں ؟ 

کیا زیادہ وقت گزر گیا جب تمہاری سرزمین میں پناہ لئے ہوئے ایک حکومت مخالف تنظیم نے ہمارے 19 سرحدی محافظوں کو قتل کر دیا تھا ؟ 

دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والی پاکستان کی قابل افتخار فوج کیا ان تمام امکانات کے باوجود بلوچستان کے بیابانوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں پر لگام لگانے کی سکت نہیں رکھتی ؟ 

جیسے تمہارا دوست ملک ترکی دہشت گرد مخالف مہم کی آڑ میں شام اور عراق کی خودمختاری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوجی مہم چلائے اور تمہاری طرف سے اس کی تائید بھی سامنے آئے، کیا تم گوارا کروگے کہ ہم بھی ایسے ہی تمہاری زمین میں گھس کر دہشت گردوں کے خلاف مہم چلائیں؟ 

کیا تم یہ بات تسلیم کروگے کہ دنیا کی ممتاز خفیہ ایجنسی مانے جانے والی پاکستان کی آئی ایس آئی، آل سعود کے کرائے کے چند ایجنٹوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے؟ 

پاکستانی عوام کی مخالفت اور پارلیمنٹ کے انکار کے باوجود سعودی اتحاد میں شمولیت اور ایک پاکستانی کو اس اتحاد کی قیادت کیلئے بھیجنا کیا پڑوسی ملک کیلئے دوستی کا پیغام ہے ؟ 

کیا اس حقیقت سے صرف نظر کر رہے ہو کہ تمام دہشت گرد تنظیموں کا نظریاتی، نیز مالی سر چشمہ سعودی عرب ہے؟ اور یہ پاکستان میں اپنے نفوذ کو بڑھانے کا ایک حربہ ہے۔  

کیا یہ بات قابل غور نہیں کہ دنیائے اسلام کی تنہا جوہری قوت کا حامل ملک سعودی عرب جیسے ضعیف ملک کا بے لوث غلام بنا ہوا ہے، جو ایک غریب ملک پر حملہ کرنے کیلئے دیگر دس ممالک کی فوجی طاقت کا محتاج ہے۔  

اپنے حال پر غور کرو کیونکہ تمہارا قدیم پڑوسی قیامت تک کیلئے تمہارا پڑوسی ہے ہم اپنے پاکستانی بھائیوں پر فخر کرتے ہیں اور انکے دشمنوں کو اپنا دشمن سجمھتے ہیں۔ 

پاکستانی معاشرہ میں بم و قتل و غارت گری کو رواج دینے والا سعودی عرب تمہارا دوست نہیں بلکہ دونوں ملکوں کا مشترک دشمن ہے۔ جب تک سعودی عرب کی حمایت کرتے رہوگے تمہارے ملک میں امن و امان کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔  

خلاصہ کلام یہی ہے کہ عزیز پڑوسی۔۔۔ یہ ہمسایوں کی رسم نہیں ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری