اقلیتی ممبر قومی اسمبلی کی تسنیم نیوز کیساتھ بات چیت؛

تعلیمی ادارے ملک و قوم کا مستقبل؛ عدم برداشت کی ترویج دیگر شعبوں پر اثرات مرتب کریگی + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1392470 خدمت: انٹرویو
رمیش کمار

مشال خان قتل کیس پر بات کرتے ہوئے ممبر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں سے ملک و قوم کا مستقبل تیار ہوتا ہے، اگر ان تعلیمی اداروں میں عدم برداشت فروغ پائے گی تو دیگر شعبوں میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے انٹرویو دیتے ہوئے اقلیتی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کا کہنا تھا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کا بل سندھ حکومت کی جانب سے آیا، ہندو میرج بل کی تیاری کے موقع پر یہ خیال آیا کہ جبری تبدیلی مذہب کو روکا جائے، لیکن جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مخالفت کے باعث یہ بل پاس نہ ہو سکا۔

مشال خان قتل کیس پر بات کرتے ہوئے ممبر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں سے ملک و قوم کا مستقبل تیار ہوتا ہے، اگر ان تعلیمی اداروں میں عدم برداشت فروغ پائے گی تو دیگر شعبوں میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری