تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

وزارت مذہبی امور کے سائے تلے "توہین رسالت" کا عملی مظاہرہ + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1393830 خدمت: اسلامی بیداری
بهائیت در پاکستان2

عوام کی عدم آگہی اور مسئولین کی غفلت کے سبب "پاکستان بہائیت کے سانپ کا بل بن گیا ہے" جہاں اس مرتد گروہ کے جشن میں وزیر مملکت برائے مذہبی امور سمیت پارلمانی نمائندے بھی شرکت کرچکے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گزشتہ روز وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے بینر تلے ہونے والی تقریب میں دوشیزاؤں کے فحش رقص اور غیر اخلاقی حرکات نے تقریب میں موجود علماء اور سامعین کو حیران کر دیا۔ 

تفصیلات کے مطابق اس تقریب میں ممبران قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر امین الحسنات بھی موجود تھے جنہوں نے تقریب کے اختتام پر بطور مہمان خصوصی خطاب بھی کیا۔ 

اس خطاب کے دوران انہوں نے ان دوشیزاؤں کو رقص پر مبارک پیش کی اور ان کے لئے دعائیہ کلمات ادا کئے جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واضح رہے کہ بہائیت کے انحرافی عقائد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور قابل توجہ بات یہ کہ اس گمراہ فرقے کا مرکز اسرائیل ہے جو کہ نہایت سادگی سے ساری دنیا پہ عیاں ہے کہ یہ گروہ کہاں سے سپورٹ ہوتا ہے۔

تاہم نہایت تعجب کی بات ہے کہ پاکستان جو عالم اسلام میں مذہبی ترین ملک کے نام س یاد کیا جاتا ہے، اور جہاں ہر اس فرقے کیلئے جو رسالت اور ختم نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے انکار کرے، کوئی جگہ نہیں ہے، بہائیت نے کیسے نفوذ کیا ہے اور اس کی زندہ مثال اس فرقے کی عید رضوان کے جشن میں وزیر مملکت برائے مذہبی امور سمیت پارلیمانی نمائندے شرکت کرتے ہیں اور ان کو مبارک باد دیتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ مملکت خداداد میں ان اتفاقات کا "بہائیت کے سانپ" سے عدم آگہی کی وجہ سے رخ ہوا ہے اور ضروری سمجھتے ہیں کہ اس گمراہ فرقے سے متعلق کچھ بیان کیا جائے۔

1۔ اس فرقے کے بانی "حسین علی نوری" تھے جنہوں نے اپنے بارے میں بڑے بڑے دعوے بھی کئے مثال کے طور پر اس نے ایک مرتبہ اپنے آپ کو خدا قرار دیا تھا اور بعض اوقات وضاحت کیساتھ کہتا کہ وہ نبی بھی ہیں۔

2۔ بہائیت کے گمراہ فرقے کا عقیدہ ہے کہ حسین علی ان کے خدا ہیں اور ان کے بعد "افندی" نامی شخص ان کا خدا ہے۔

3۔ بہائیت کا عقیدہ ہے کہ ان کے مرشد سید محمد علی شیرازی کے دنیا میں آنے کا پیغمبروں کی مانند مژدہ سنایا گیا تھا اور بہاء اللہ نامی مرشد کے آنے سے قیامت برپا ہوگی۔

 4۔ بہاء اللہ واحد و یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، کیونکہ خدا نے ان میں ظہور کیا ہے اور یہ ظہور خدا کی زیادہ سے زیادہ شناخت کا سبب ہے جو نظروں سے اوجھل غیب کے پردے میں ہے۔

5۔ بہائیت ماضی کےتمام ادیان سے بہتر ہے، کیونکہ خداوند متعال نے بہاء اللہ میں ظہور کیا ہے اور دنیا کے تمام ادیان بہاء اللہ کے ظہور سے ختم ہوجائیں گے۔

6۔ دین اسلام بہاء اللہ کے ظہور تک معتبر ہے اور قرآن کریم کوئی معجزہ نہیں ہے۔

7۔ بہاء اللہ ایک معجزہ ہے کیونکہ وہ کسی مدرسے میں تعلیم حاصل کئے بغیر تمام فارسی اور عربی کے علوم سے آراستہ ہے۔

8۔ بہائی شریعت میں ردو بدل ایک ہزار سال کے بعد ممکن ہے یعنی خداوند متعال ایک ہزار سال کے بعد کسی اور شخص میں ظہور کرسکتا ہے اور بہائیت کے دین کو منسوخ کرے، جیساکہ بہاء اللہ میں ظہور کرکے دین اسلام کو منسوخ کیا۔ (مقارنة الادیان(الیهودیه)،ص 331)

9۔ اسلامی عبادات اور شرعی حقوق بشمول نماز، روزہ، زکوۃ، حج، قصاص وغیرہ کا انکار، چونکہ نماز بہائیت کے نزدیک صرف 9 رکعت ہے، اور ان کا قبلہ "عکا" ہے (واضح رہے کہ ان کا قبلہ مسجد الاقصیٰ نہیں بلکہ اسرائیل کے شمال میں ایک اور بنی بنائی گئی عمارت ہے)، باجماعت نماز مکمل طور پر ممنوع سوائے میت کے۔ اور ان کا حج مکہ میں نہیں بلکہ ایران کے شہر شیراز میں اس فرقے کے بانی رہنما کے مزار میں انجام پاتا ہے۔

11۔ انبیاء کے معجزات اور جن و ملائک کی حقیقت سے انکار بالکل اسی طرح جس طرح کے جنت و جہنم کا انکار کرتے ہیں۔

12۔ اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ ان کے دین کو منسوخ کرنے والی محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت ہے۔

13۔ اس فرقے کے عقائد کے مطابق محرم یعنی ماں اور بہن کےساتھ شادی کرنا درست ہے۔

ڈاکٹر شیخ عبدالمؤمن النهر اسلام سے خارج ہوئے اور ایک نئے دین کی بنیاد ڈالی صرف اسی بنیاد پر کہ اسلام کو نقصان پہنچائے، لہٰذا اسلام کے احکام خواہ وہ اس سے پہلے مسلمان تھے، بعد میں بہائی مذہب اختیار کرگئے یا وہ بہائی ہی پیدا ہوئے، تمام مسلمان مسالک کے مفتی ان کے متعلق متفق القول ہیں۔

شیخ محمد طنطاوی شیخ الازهر

مصر کے بہائی دائرہ اسلام نیز خداوند متعال کے تمام ادیان کے دائرے سے خارج ہیں۔ اس گمراہ فرقے کو اسلامی معاشرے میں اپنا زہر سرایت نہ کرنے دیا جائے۔ بہائیت مکمل طور پر اسلام مخالف ہیں۔

کچھ پاکستان کے بارے میں

پاکستان اسلام کے معاملے میں اس قدر مذہبی ہے کہ اس ملک میں احمد قادیانی کے پیروکاروں کی (کہ جن کا انحرافی عقیدہ ختم نبوت کے دعوے پر ختم ہوا تھا نہ خدا کے دعوے پر)، سرگرمیوں کو ممنوع قراردیا گیا اور یہ مذہب پاکستان میں قانون کے دائرے رسمی نہیں ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بہائیت پاکستان میں کیسے سرایت کرگیا ہے اور اہم سیاسی شخصیات ان کو مبارکباد دیتے ہیں؟

کیا وہابی بن باز نے اس فرقے کو مرتد قرار دینے کا حکم نہیں دیا ہے؟ ظاہر سی بات ہے کہ دوسرے فرقوں کی نظر میں اور قرآنی آیات کی رو سے، وہ فرقہ جو خدائی یا نبوت کا دعویٰ کرے مرتد و کافر ہے۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے پارلمانی نمائندگان (جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رہنما آسیہ ناصر) اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور جناب پیر امین الحسنات اس فرقے کو مبارکباد دے! اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے عرصہ قبل امام کعبہ کا استقبال کیا اور کئی دنوں تک ان کے میزبان رہے۔

کیا ان دو شخصیتوں کا بہائی فرقے کے جشن میں شرکت کرنا "ایران مخالف پروجیکٹ" میں حصہ لینے کی نشاندہی نہیں کرتا یا آل سعود پاکستان کو اپنے اصلی راستے سے ہٹانے کے درپے ہےہیں۔

بہائیت کے متعلق علمائے اھلسنت کے فتاویٰ:

فتویٰ جامعتہ الازھر:

بہائیت ایک گروہ ِمرتد و خارج از اسلام فرقہ ہے۔ اس پر ایمان لانا اور بہائیوں کے ساتھ مشارکت کرنا درست نہیں۔

وہابی مفتی بن باز کا فتویٰ:

ان کے (بہائیوں کے) کفر میں کسی قسم کا شک نہیں ہے۔ لہٰذا اس بنا پر انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا درست نہیں۔ ہر وہ شخص جو ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی الله علیه و سلم  کی بعثت کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور نص اور مسلمانوں کے اجماع کے مطابق کافر ہے چونکہ ایسا شخص خداوند عالم کے اس فرمان کا تکذیب کنندہ ہے :

"وما كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ" (احزاب -40) " 

ترجمہ: محمد (ص) تم مردوں میں سے کسی کے بھی باپ نہیں بلکہ یہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیںـ"

مسلمانوں کے مشہور مورخ طاها المولوی کا بیان:

جبکہ علمائے اسلام نے بہائیت کو موردِ لعن قرار دے دیا ہے۔ یہودی بہائیت کی ترویج کیلئے رقوم خرچ کر رہے ہیں۔ آخر کیوں؟؟ اسلئے کہ بہائیت اسلام پر حملہ کرتی ہے اور مذہبِ اسلام میں اپنے جھوٹے مذہب جوکہ یہودیت، مسیحیت، اسلام و بت پرستی کا ایک مرکب ہے، کی تخم ریزی کیلئے سرگرداں ہےـ

دنیائے اسلام کے ایک برجستہ مفکر خالد محمد خالد کا بیان:

میں اپنے مطالعات کی بنیاد پر بہائی مسلک کے گھناؤنے چہرے کی جانب متوجہ ہوا۔ مرحوم امام شیخ محمّد الخضر حسین جو کہ اس فرقہ کے بارے میں وسیع علم اور عمیق نظر رکھتے تھے، کا اس فرقہ کے بارے میں یہ بیان ہمارے لیے مثال ہے کہ: "یہ فرقہ اسلام سے منحرف ہوچکا ہے۔"

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری