بھارت گردی:

گائے چوری کرنے کے شبہ میں 2 مسلمان نوجوان قتل

خبر کا کوڈ: 1394158 خدمت: دنیا
گائے

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے نوگاؤں ضلع میں گائے چوری کے الزام میں مقامی لوگوں نے مشتعل ہو کر دو مسلمان نوجوانوں کو لاٹھیوں سے تشدد کر کر کے مار ڈالا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مذہب کے نام پر شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس زمرے میں تازہ واقعہ شمال مشرقی ریاست آسام کے نوگاؤں ضلع کا ہے جہاں گائے چوری کے الزام میں مقامی لوگوں نے دو نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

ذرائع کے مطابق مرنے والے نوجوانوں کی شناخت ابو حنیفہ اور ریاض الدین علی کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں کی عمریں 20 سے 22 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم نے دعوی کیا کہ دونوں نوجوان کاساماری کے پاس ایک مخصوص چراگاہ سے گائے چوری کر کے لے جا رہے تھے۔

نوگاؤں کے پولس سپرنٹینڈنٹ دیب راج اپادھیائے نے بتایا کہ جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو وہاں ہجوم دونوں نوجوانوں کو لاٹھیوں سے پیٹ رہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس ان دونوں کو علاج کے لیے فوراً ہسپتال لے گئی لیکن شدید چوٹوں کی وجہ سے دونوں نے دم توڑ دیا۔

پولیس سپرنٹینڈنٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہجوم نے انھیں ڈیڑھ کلومیٹر تک یعنی نوگاؤں تھانہ کے علاقہ کاساماری سے جاجوری پولیس تھانے دوڑایا اور ان کا پیچھا کیا۔

مرنے والے نوجوانوں کے اہل خانہ کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم ابھی تک اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔

پولیس سپرنٹینڈنٹ نے معاملے میں منصفانہ تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔

اسے آسام میں رونما ہونے والا اس طرح کا پہلا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔ البتہ ملک کے دوسرے حصوں میں ایسے کئی واقعے سامنے آ چکے ہیں۔ حال ہی میں راجستھان سے گائے لانے والے ہریانہ کے ایک تاجر کو انتہا پسند ہندووں نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہب، انسان کی زندگی کا اہم ترین پہلو ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیئے تاہم ہر مذہب میں ہر جرم کی ایک مخصوص سزا ہے اور وہ بھی مکمل تحقیقات اور جرم کے ثابت ہونے پر۔

دنیا میں ایسا کوئی مذہب نہیں جو کسی ملزم کو کسی شبہے میں قتل تو کیا چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی دے لیکن نجانے کب تک دنیا کے مختلف کونوں میں توہین مذہب کے فقط شبہے میں مشعال قتل ہوتے رہیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری