جرات، شجاعت اور صبر کی لازوال داستان؛ عباس ابن علی علیہ السلام

خبر کا کوڈ: 1394809 خدمت: دنیا
جناب عباس علیہ السلام

آپ کی ولادت با سعادت 4 شعبان سن 26 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

تسنیم نیوز ایجنسی: حضرت عباس علیہ السلام کی ولادت نے خانہ علی علیہ السلام کو نور امید سے روشن کردیا، اس لیےکہ امیر المومنین علیہ السلام دیکھ رہے تھے کہ کربلا میں ان کا یہ بیٹا امام حسین علیہ السلام کا زور بازو اور علمبردار ہوگا۔

جناب عباس علیہ السلام نے دنیا میں قدم رکھا تو علی علیہ السلام نے آپ کے کانوں میں اذان و اقامت کہی۔

اس کے ساتھ ساتھ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وا آلہ وسلم  کا نام بھی نومولود کے کانوں میں لے کر آپ کی زندگی کا رشتہ توحید، رسالت اور دین کے ساتھ جوڑ دیا۔

شیر خدا مولا علی علیہ السلام  نے اپنے شیر کا نام عباس رکھا۔

ولادت کے بعد ساتویں دن اسلامی رسم کو نبھاتے ہوئے ایک دنبہ ذبح کروا کر عقیقہ کر کے فقراء میں تقسیم کیا گیا۔

امیر المومنین علیہ السلام کبھی کبھی جناب عباس علیہ السلام کو اپنی گود میں بٹھاتے تھے اور ان کی آستین کو پیچھے الٹ کر بوسہ دیتے تھے اور آنسو بہاتے تھے۔

ایک دن انکی والدہ ماجدہ بی بی ام البنین سلام اللہ علیہا اس ماجرا کودیکھ رہی تھیں ۔

مولا علی علیہ السلام نے فرمایا: یہ ہاتھ اپنے بھائی حسین علیہ السلام کی مدد اور نصرت میں کاٹے جائیں گے، میں اس دن کے لیے رو رہا ہوں۔

جب سے عباس علیہ السلام نے دنیا میں آنکھیں کھولیں امیر المومنین علیہ السلام اور امام حسن و حسین علیہما السلام کو اپنے اطراف دیکھا اور ان کی مہر و محبت کے سائے میں پروان چڑھے اور امامت کے چشمہ علم و معرفت سے سیراب ہوتے رہے۔

چودہ سال زندگی کے جناب امیر کے ساتھ گزارے ۔ جب علی علیہ السلام جنگوں میں مصروف تھے تو کہتے ہیں کہ عباس علیہ السلام بھی ان کے ساتھ جنگوں میں شریک تھے حالانکہ بارہ سال کے نوجوان تھے۔

نوجوانی کے زمانے سے ہی حضرت امیر علیہ السلام نے انہیں شجاعت اور بہادری کے گر سکھا رکھے تھے۔

جنگوں میں حضرت علی علیہ السلام انہیں جنگ کی اجازت نہیں دیتے تھے انہیں کربلا کے لیے ذخیرہ کر رکھا تھا۔

تاریخ نے اس نوجوان کے بعض کرشمے جنگ صفین میں ثبت کئے ہیں کہ جب آپ بارہ سال کے تھے۔

14  سال تک باپ سے فضیلت و کمالات کے جوہر کسب کرتے رہے اور اس منزل پر پہنچ گئے کہ لوگ ثانی حیدر کہنے لگے۔

شجاعت و فن سپہ گری کے علاوہ معنوی کمالات میں بھی اعلیٰ مدارج طے کئے۔

آپ کا زیادہ تر وقت دعا و مناجات اور عبادت میں صرف ہوتا، بچوں کی سرپرستی اور کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گیری حضرت عباس علیہ السلام کا خاص مشغلہ تھا۔

والد گرامی علیہ السلام کے بعد امام سبز قبا حسن علیہ السلام کے مطیع و فرمانبردار ہے اور ان کے بعد سید شہدا امام حسین علیہ السلام کے زور بازو اور علمبردار کہلائے۔

حضرت عباس علیہ السلام مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصا´ علم فقہ میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔

بخشش و عطا میں بھی شہرہ حاصل تھا اور اپنے معنوی اثر و رسوخ سے کام لے کر عوام کی فلاح و بہبود اور اصلاح حال کے وسائل فراہم کرتے تھے، اسی لئے آپ کوآج بھی باب الحوائج کا لقب حاصل ہے اور کربلائے معلیٰ میں آپ کی بارگاہ آج بھی حاجت مندوں کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

روز عاشور شمر ملعون نے جناب غازی عباس علیہ السلام کے لۓ امان نامہ بھیجکر چاہا کہ امام حسین علیہ السلام کو چھوڑ کر عمر بن سعد کے ساتھ مل جاۓ یا دونوں کو چھوڑ کر وطن واپس چلے جائیں۔

حضرت عباس علیہ السلام  اور انکے بھائیوں نے شمر کے اس دعوت کو ٹھکرا دیا اور حضرت عباس علیہ السلام نے کہا: تیرے ہاتھ ٹوٹیں اور تیرے امان نامے پر لعنت ہوـ اے خدا کے دشمن، کیا تم ہمیں حکم کرتے ہو کہ امام حسین علیہ السلام کی مدد نہ کریں اور اسکے بدلے ملعون اور اسکے اولادوں کی اطاعت کریں؟ کیا ہمیں امان ہےاور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرزند علیہ السلام کیلۓ امان نہیں؟؟

جب میدان میں اترے تو دشمن کی صفوں میں ایک کہرام برپا ہوگیا۔

تن تنہا ہزاروں کا نرغہ کئے ہوئے یزیدی فوجیوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے دریائے فرات پہنچ گئے۔

شدید تشنگی کے عالم میں جب حضرت عباس علیہ السلام نے فرات کے پانی میں قدم رکها تو پانى کو چلو میں لے کر پینے کے بجائے دریا کے منہ پہ مار کر امام حسین علیہ السلام سے اپنى بےپناہ محبت کا مظاہره کیا۔

مشک میں پانی بھر کے خیام حسینی علیہ السلام کی جانب بڑھ رہے تھے کہ ظالموں نے ابن حیدر علیہ السلام کو چار اطراف سے گھیر کر تیروں، تلواروں اور نیزوں سے حملہ کر دیا۔

مشک چھدی، دونوں بازو کٹے اور آخرکار شیر خدا علیہ السلام کا چاند گہنا گیا۔

آپ نے صحرائے کربلا میں اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی نصرت کرتے ہوئے 10 محرم 61 ئجری کو جام شہادت نوش فرمایا۔

فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہوگئے ،آپ نےبڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری