تحریر: محمد سلیم

سعودی شاہی محل میں بغاوت سے آل سعود میں پھوٹ!

خبر کا کوڈ: 1395243 خدمت: مقالات
محمد بن سلمان

جیسے جیسے آل سعود کا خاندان پھیلتا جا رہا ہے شہزادوں کے درمیان طاقت کے حصول کیلئے کوششیں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں لیکن اس دوڑ میں تازہ ترین انٹری سعودی شاہ سلمان کے بیٹے کی ہوئی ہے۔ بتیس سالہ شہزادہ طاقتور ترین شہزادہ ہے جو اپنی طاقت کے حصول کیلئے کسی بھی وقت کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: سعودی عرب دنیا کی وہ واحد مملکت ہے جس کا نام کسی خاندان کے نام پر ہے اور آل سعود دنیا کا سب سے بڑا شاہی خاندان ہے۔ آل سعود کا طریقہ واردات صدیوں پرانا لیکن طریقہ کار جدید ترین ہے۔ جیسے جیسے آل سعود کا خاندان پھیلتا جا رہا ہے شہزادوں کے درمیان طاقت کے حصول کیلئے کوششیں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں لیکن اس دوڑ میں تازہ ترین انٹری سعودی شاہ سلمان کے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کی ہوئی ہے۔ بتیس سالہ شہزادہ طاقتور ترین شہزادہ ہے جو اپنی طاقت کے حصول کیلئے کسی بھی وقت کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

 شہزادہ محمد کو شاہ سلمان کا اس وقت مشیر مقرر کیا گیا جب وہ امیر ریاض کے عہدے پرتعینات تھے۔ ولی عہد کے دفتر کے انچارج اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کے طورپر بھی خدمات انجام دیں۔ مارچ 2013ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں ولی عہد کے شاہی دیوان کا منتظم مقرر کیا گیا اورانہیں ایک وزیر کے برابر رتبہ دے دیا گیا۔

پھر جولائی 2013ء کو انہیں وزیردفاع کے دفتر کا سپروائزر مقرر کیا گیا۔ اپریل 2014ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں وزیر مملکت، پارلیمنٹ کارکن جبکہ ستمبر 2014ء کو شاہ عبدالعزیز بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین کا اضافی چارج بھی سونپا گیا۔

جنوری 2015ء کو شاہی فرمان کے تحت شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو خادم الحرمین الشریفین کا مشیر خاص اور شاہی دیوان کا منتظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ لیکن سعودی عرب کی شاہی محل میں بھونچال اس وقت آیا جب سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپریل 2015ء کو اپنے نئے شاہی فرمان کے تحت مملکت کے اعلیٰ عہدوں میں غیرمعمولی تبدیلی کرتے ہوئے نئے شہزاد مقرن بن عبدالعزیز کو ولی عہد کےعہدے سے ہٹا کر شہزادہ محمد بن نایف کو ولی عہد اور اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقررکیا۔ شہزادہ محمد کو نائب ولی عہد کے ساتھ نائب وزیراعظم، وزیردفاع اور اقتصادی ترقی کونسل کے چیئرمین کے عہدے بھی تفویض کئے گئے۔ پھر کیا تھا شہزادے کو پر لگے اور لگے ہاتھوں ولی عہد کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔

اپنا اثر و رسوخ اور طاقت ثابت کرنے کیلئے امارات کے شہزادے بن زائد کیساتھ مل کر غریب ترین عرب ملک یمن پر حملہ کردیا اور آج تک عورتوں، بچوں سمیت بیس ہزار افراد کو خون میں نہلا دیا۔

سعودی عرب سمیت امارات، قطر اور بحرین کے شاہی خاندانوں میں ردوبدل امریکی اثر و رسوخ کے بغیر ناممکن ہے اور واشنگٹن کی اجازت کے بغیر ان ممالک میں کسی قسم کی تبدیلی لانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

شہزادہ محمد نے اماراتی شہزادہ بن زائد سے مل کر شاہی محل کو ولی عہد بن نائف سے مکمل طور پر خالی کرنے کا پلان مکمل طور پر تیار کیا ہے جس پر تیزی سی عمل درآمد جاری ہے۔ اماراتی شہزادہ بن زائد سعودی ولی عہد سے ذاتی دشمنی رکھتے ہیں جو سابق ولی عہد سلطان بن عبدالعزیز سے چلی آتی رہی ہے۔ اماراتی شہزادے شیخ بن محمد بن زائد نے - جو ٹرمپ کیساتھ کاروباری مراسم رکھتے ہیں ۔ نے محمد بن سلمان کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ مل کر بادشاہ بننے کے سارے انتظامات مکمل کئے ہیں، اسلئے یمن میں سعودی اماراتی جھگڑے پر شہزادہ بن سلمان خاموش دکھائی دے رہا ہے حتی کہ اماراتی فورسز نے سعودی ہیلی کاپٹر بھی مار گرائے ہیں اور مختلف اوقات میں سعودی اور اتحادی افواج پر بمباری بھی کی ہے۔ بالکل یہی صورتحال شام میں سعودی۔ قطری اتحاد کی بھی ہے۔ اور قطر میں بادشاہ شیخ تمیم کے محل میں بھونچال آیا ہوا ہے جہاں تمیم کے والد ایک اور بیٹے عبداللہ کو قطر کا بادشاہ بنانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔

شہزادہ محمد نے اپنے والد شاہ سلمان کے کندھے پر بندوق رکھ کر سات ہزار آل سعود کے شہزادوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے اور بالکل بنی امیہ کے نقش قدم پر چل کر کچھ شہزادوں کو ساتھ ملایا ہے کئی سو شہزادوں کو جیلوں میں بند کر رکھا ہے اور بعض کو بھاری رقوم کے عوض چُھپ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

  باپ بادشاہ سلمان کا دیوان خاص ہونے کی وجہ سے شاہی مہر کو تلوار کی طرح استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کی تقرری اور معزولی کے احکامات جاری کئے ہیں جو ولی عہد محمد بن نائف کے خلاف ایک منظم سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور حکومت میں اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہوئے شاہی محل پر مکمل قبضے کی طرف گامزن ہیں۔

محمد بن سلمان نے ایک جنبش قلم سے شاہی محل میں چالیس نئے شہزادوں اور غنڈوں کی فوج داخل کرکے سعودی ولی عہد محمد بن نائف کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا ہے اور یہ سب کچھ بن سلمان کے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور واشنگٹن پوسٹ میں انٹرویو کے بعد کیا گیا ہے۔

بن سلمان نے بن نائب کے ہاتھ پاؤں مکمل طور پر باندھتے ہوئے وزارت داخلہ اور سیکورٹی امور کے محکمے کے مقابلے میں سلامتی کونسل تشکیل دیکر محمد بن غفیلی جیسے طاقتور رفقاء تعینات کئے جبکہ امریکہ میں اپنے پائٹ بھائی کو سفیر بنا کر واشنگٹن کے بن نائف کے ساتھ قائم روابط مکمل طور پر منقطع کئے جو پرنس سلطان اور پرنس بندر کے زمانے سے قائم تھے۔

خفیہ ایجنسی کے نائب صدر یوسف الادریس کو معزول کرکے اپنے معتمد خاص احمد عسیری کو قریب تر لاتے ہوئے خفیہ ایجنسی کے نائب سربراہ کے عہدہ پر فائز کیا اور اپنے بھتیجے احمد بن فہد بن سلمان کو تیل سے مالامال اور شیعہ اکثریتی الشرقیہ صوبے کا گورنر بنایا ہے جہاں اس سے پہلے ولی عہد بن نائف اور بھائیوں کا راج ہوا کرتا تھا، اس تعیناتی سے الشرقیہ کا صوبہ ولی عہد سلطان کے بچوں کے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔

پیٹرولیم اور توانائی کے امور کے نام سے ایک الگ محکمے کا قیام کرتے ہوئے اپنے ایک اور بھائی عبدالعزیز بن سلمان کو اس کا سربراہ بنایا گیا ہے اور اس کے ساتھ شاہ سلمان کے لاڈلے نے آرامکو کے بعد تیل کے دیگر ملکی ذخائر پر بھی اپنا قبضہ مضبوط تر کردیا ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف بن سلطان بن عبدالعزیز اپنے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے بعد مکمل طور گوشہ نشین ہونے پر مجبور ہیں اور بے بسی سے اپنی رسوائی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔

صرف چار سال کی عمر میں دنیا کے طاقتور ترین شہزادے کے متعلق جرمن جاسوسی ادارے نے دنیا کو پہلے ہی آگاہ کردیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آگ سے کھیل رہا ہے۔

لنک ملاحظہ فرمائیے: http://bit.ly/2oVHxF8

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری