ارادے جن کے پختہ ہوں

شہید خرم ذکی نے اپنی پوری زندگی کے دوراں مظلومین کی حمایت اور ظالموں کی مذمت میں کبھی دیر نہیں کی۔ انجام سے باخبر ہونے کے باوجود کسی خوف، کسی ڈر کو دل و دماغ میں جگہ نہ دی بلکہ جو کچھ بھی کیا ببانگِ دہل کیا۔

ارادے جن کے پختہ ہوں

خبر رساں ادارہ تسنیم: ایسا معاشرہ جو دن اور رات کے فرق کے بغیر (بظاہر) نامعلوم افراد کے ہاتھوں کے کھلونے کی تڑتڑاہٹ سے گونجتا ہے۔ کسی سکول، مسجد، بازار یا دیگر عبادت خانوں میں ہونے والے دھماکوں کی گھن گرج سے کانپتا ہے اور وہاں ان گنت بکھرے انسانی اعضاء اور ان سانحات کا شکار روتی بلکتی عوام کا بے حسی سے گندھے جذبات کے ساتھ تماشہ دیکھتا ہے۔ایسا معاشرہ جو کسی بے لگام گھوڑے کی طرح جہالت، نفرت، ظلم اور ناانصافی کی ظلمتوں کی گہرائی میں سرپٹ دوڑے چلا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف نجات سے ناامیدی اور مایوسی ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے تو دوسری طرف ان ظلمتوں کے قیام پر اصرار ہنوز جاری ہے۔ یعنی نجات کی خواہش بھی ہے مگر ظلمتوں سے مانوسیت اور انسیت بھی ہے۔ ایسے ظلمتوں میں ڈوبے معاشرے میں اگر کوئی عزم و ہمت کے ہتھیاروں سے لیس اس معاشرے کی نجات کیلئے کوئی امید کی کرن روشن بھی کرتا ہے تو ظلمتوں کے اسیر اذہان کے اس روشنی سے چندھیا جانے کے خوف سے صمٌ بکمٌ عمیٌ کی بے نظیر مثال رقم کرنے کو ساری عوام آمادہ و مصر دکھائی دیتی ہے۔

پھر تصور کیجیئے کہ اس امید کی کرن اور اسکو جلاّ بخشنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے؟؟ جبکہ وہ اس کرن کو تا ابد روشن رکھنے کے واسطے اپنے تن من دھن کو وقف کر دیتا ہے یہاں تک کہ اپنے وجود کو فنا کے رستے پر ڈال دیتا ہے جو اسے ابدیت کے مقام تک پہنچا دیتا ہے۔

اگر ان کی اس بے لوث قربانی کی جائزہ لیں اور تفکر کریں کہ کیا اس نے ایک بے فائدہ کوشش میں خود کو جھونک دیا؟ کیا ان کے مادی وجود کے فنا ہونے کے ساتھ ہی اس کی ظلمتوں سے نجات کیلئے کی گئی ہمت، جرأت اور جدوجہد دم توڑ گئی؟

یقیناً ان سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ اس با ہمت وجود کی زندگی کا چراغ تو گُل کر دیا جاتا ہے مگر وہ وجود پیچھے رہ جانے والے نجات کے متمنیوں کو ایسا سوز دے جاتا ہے جو باخبر باضمیر اور بیدار دلوں اور ذہنوں میں روشنی کی طلب کیلئے تڑپ پیدا کر دیتا ہے۔ انہیں اپنے وجود کو سلگا کر روشن کی گئی امید کی کرن سے مانوس کروایا جاتا ہے کہ وہ اسی عزم اور اسی ہمت سے اس وجود کا متبادل بن جانے کی جستجو میں محو ہو جائیں کہ اجالوں کے شکاریوں سے خوف کھائے بغیر مکمل لگن سے اپنے حصے کے فرض کو نبھائیں۔ اپنے حصے کی شمع جلائے رکھیں۔

تو اے پروانہ! ایں گرمی ز شمع محفلے داری

چو من در آتشِ خود سوز اگر سوز دلے داری  

                                                                                                                                                                                                              (اقبال)

ترجمہ: اے پروانے! یہ جو گرمی تم نے شمع محفل سے لی ہے میری طرح اپنے اندر کی آگ سے جلو۔

اس پُرمغز تمہید کا لبِ لباب ایک ایسی ہی ہستی ایک ایسا وجود ہے جس نے اپنی ذات کو موت کے ہاتھ گروی رکھ کر اپنی قوم کے حق کو طلب کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی جدوجہد انفرادی مگر مقصد اجتماعیت کی فلاح تھا۔جی ہاں یہ اسی بے باک انسان خرم ذکی کی حقیقی داستاں ہے جن کو ظلمتوں میں ڈوبے معاشرے میں امید کی کرن روشن کرنے، باطل کے خلاف سینہ سپر ہو جانے، اپنی قوم اور ملک کے مستقبل کو دہشتگردی اور خون خرابے سے محفوظ دیکھنے کی چاہت کرنے اور مظلوموں کے حق کیلئے ڈٹ جانے کی پاداش میں 7 مئی 2016 کو کالعدم سپاہ صحابہ کے رذیل و بزدل دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔

شہید خرم ذکی نے اپنی پوری زندگی کے دوراں مظلومین کی حمایت اور ظالموں کی مذمت میں کبھی دیر نہیں کی۔ انجام سے باخبر ہونے کے باوجود کسی خوف، کسی ڈر کو دل و دماغ میں جگہ نہ دی بلکہ جو کچھ بھی کیا ببانگِ دہل کیا۔ خوف کھانا تو کجا انسانیت کی دشمن رذیل تکفیری قوم کو اپنے غیر متزلزل عزم اور جرأت سے اس طرح خوف میں مبتلا کر دیا کہ اس رذیل قوم نے جانا کہ شاید انکا خوف مقابل کے خون کی بوچھاڑ میں محو ہو جائے گا، اس پر جوش خوں کے ساتھ بہہ جائے گا۔ مگر یہ کیا ہوا ؟ اس خون نے تو متضاد اور منفرد تاثیر پیدا کر ڈالی ہے، اس خون نے تو ان کی فصلوں کی اس طرح خوف سے آبیاری کر ڈالی ہے کہ جو تاقیامت ان کی نسلوں کو سیراب کرتا رہے گا۔ یہ خوف مظلوموں کی مزید جانیں لینے سے بڑھتا چلا جائے گا اور آخرکار خود انکی جان لے لے گا۔ انشاءﷲ!!

خرم ذکی جیسے نڈر، بےخوف اور پر عزم افراد کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں گئیں اور نہ ہی کبھی رائیگاں ہو پائیں گی۔

شہید خرم ذکی کے ارادوں کی پختگی اور جرأت پر انہیں ہمارا سرخ سلام  

ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو

تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

تحریر  :  سمانہ بتول

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری