پاک ایران سرجنز کا مشترکہ کارنامہ / ایس آئی یوٹی کراچی  میں جگر کی پیوند کاری کا کامیاب آغاز

خبر کا کوڈ: 1401528 خدمت: پاکستان
ایس آئی یو ٹی

ایس آئی یوٹی کراچی میں گردے کی پیوند کاری کے بعد پاکستان اور ایران کے سرجنز نے جگر کی کامیاب پیوند کاری کی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یوٹی) اور شیراز (ایران) سے آئے ہوئے ہوئے سرجنز کی مشترکہ ٹیم نے 3 سال اور 13 سال کے دو بچوں سمیت 6 مریضوں کے جگر کی کامیاب پیوندکاری کی جبکہ جگر عطیہ کرنے والے تمام افراد مریضوں کے قریبی رشتہ دار تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ شیراز کے ابن سینا سینٹر کی ایرانی سرجنز کی ایک ٹیم دونوں میڈیکل کے اداروں کے مشترکہ پروگرام کے سلسلے میں دورے پر ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے تحت اب تک 15 افراد کے جگر کی کامیاب پیوند کاری کی جاچکی ہیں اور تین اعضا عطیہ کرنے والے افراد کے محفوظ کیے ہوئے اعضا سے 6 مریضوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔

اس پروگرام کے عہدیدارنے مزید بتایا کہ پیوند کاری ایک مسلسل عمل ہے جس کا  انتظام کومڈل ایسٹ سوسائٹی آف آرگن ٹرانسپلانٹیشن کے تحت کیا گیا اور اس کا مقصد مہارت کا تبادلہ اور ماہرین کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔

ایس آئی یو ٹی کے ترجمان نے کہا کہ جگر کی پیوند کاری کے لیے عطیہ کرنے والے مریض کی ضرورت کی ایک چھوٹی سی ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق سالانہ ایک لاکھ جگر کی پیوند کاری کی ضرورت ہے جو بعد ازمرگ اعضا کے عطیے سے حاصل کی جاسکتی  ہےاور انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹر پر دم توڑنے والے مریض اہل خانہ کی مرضی سے گردے اور جگرعطیہ کرسکتے ہیں'۔

ایس آئی یوٹی کے  ڈاکٹرز کے مطا بق دم توڑنے والے افراد کے اعضا کے عطیے سے سالانہ دو لاکھ زندگی کی آخری سانسیں لینے والے مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے، 'جب تک لوگ اپنی زندگی میں اپنے اعضا کو عطیہ نہ کریں تو ہم ان مریضوں کی زندگی بچانے کے اہل نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اعضا کے عطیے کرنے کے لیے برادری میں آگاہی پھیل رہی ہے اور امید ہے کہ لوگوں کی جانب سے عطیہ کئے گئے اعضا سے مزید لوگوں کی زندگیوں کو پیوندکاری کے ذریعے بچایا جاسکتا ہے۔

یاد رہے ایس آئی یو ٹی پاکستان کا منفرد ترین اادارہ ہے جو کہ تمام طبقات کی خدمت کرتا ہے  اس ادارے کے ہیڈ ڈاکٹر  ادیب رضوی ہیں جنھوں نے اس کامیابی کو پاکستان کے طبی شعبے کے لئے اہم قرار دیا ۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری