صومالیہ: بم دھماکے میں فوج کے جنرل سمیت 6 ہلاک، 10 زخمی / الشباب نے ذمہ داری قبول کر لی

خبر کا کوڈ: 1402409 خدمت: دنیا
صومالیہ

موغادیشو کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر ہونے والے کار بم حملے میں صومالی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے ہیں جبکہ شدت پسند گروپ الشباب نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق موغادیشو کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر ہونے والے کار بم حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے ہیں۔

افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

سرکاری اہل کاروں نے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں صومالی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل عبدی بشیر عدن بھی شامل ہیں۔

دھماکہ مقامی وقت کے مطابق چھ بجے شام سے کچھ ہی دیر قبل کھانے اور کافی کے ایک شاپ کے باہر ہوا، جو اطالوی کیفے کے نام سے مشہور ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دھماکہ اس وقت کیا گیا جب صارفین دوکان کے باہر بیٹھتے ہیں۔

دوسری جانب الشباب کے شدت پسند گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قومی سلامتی اور امیگریشن کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہل کاروں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

کھانے کا یہ ریستوران صومالیہ کے امیگریشن ڈائریکٹوریٹ کے صدر دفتر کی دوسری پار واقع ہے۔

یاد رہے کہ الشباب اکثر موغادیشو کے کھلے مقامات کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتی رہتی ہے جہاں سیاست داں اور کاروباری حضرات اکٹھے ہوتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری