7 دہائیوں سے مسئلہ کشمیر کو ٹالنے والا بھارت، کلبوشن کیس میں روتا ہوا عالمی عدالت پہنچ گیا

خبر کا کوڈ: 1403191 خدمت: پاکستان
کلبوشن یادو

اقوام متحدہ کی کشمیریوں کو دیا گیا حق خود ارادیت کی قرارداد کو 7 دہائیوں سے ٹالنے والا بھارت اپنے جاسوس کو سزائے موت سے بچانے کے لئے عالمی عدالت کا دروازہ پیٹنے لگا۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق مقبوضہ وادی میں لاکھوں نہتے بےگناہ شہریوں کو خاک و خون میں نہلانے والے بھارت نے پاکستان میں گرفتار ہونے والے اپنے جاسوس کو سزا سے بچانے کے لئے پاکستان پر خوب دباو ڈالا تاہم پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں بھارت کو بتا دیا کہ کلبوشن کے خلاف اس کے اپنے اقبال جرم کے ساتھ ساتھ اس کے مجرم ہونے کے ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں، لہذا قانون کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے اس سزا کا حکم سنایا گیا ہے اور اس میں کوئی رد و بدل ممکن نہیں۔

پاکستان جب بھارت کے دباو میں نہ آیا تو اب مایوس ہو کر اپنے جاسوس کلبوشن یادیو کی سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کے لئے بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کر لیا ہے۔

درخواست میں بھارتی جاسوس تک کونسلر رسائی کا مطالبہ کیا گیا ہےجبکہ عالمی عدالت انصاف سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کو عدالت کی کارروائی مکمل ہونے تک کلبھوشن کی موت پر عملدر آمد سے روک دے۔

عالمی عدالت انصاف میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فوجی عدالت نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے کلبوشن کی سزائے موت کا اعلان کیا گیا جبکہ کلبوشن یادیو تک قونصلر رسائی بھی نہیں دی گئی، کلبوشن تک قونصلر رسائی نہ دینا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

اس زمرے میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینئر وکیل ہارش سلیو عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی نمائندگی کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے صدارتی حکم کے تحت عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا ہے۔  

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری