شامی بچی کے ایران کے بارے میں والہانہ اشعار؛

"اگر عرب صہیونی نہ ہوتے تو شام کی یہ حالت نہ ہوتی" + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1403313 خدمت: اسلامی بیداری
شامی بچی

ایک شامی بچی نے اپنے اشعار میں تاکید کی: کیا کوئی ایرانی قوم کے علاوہ کسی دوسری قوم کو جانتا ہے جس نے شامی عوام کی اپنی پوری وجدان اور فداکاری سے مدد کی ہو؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اس بچی نے شام کے شہر لاذقیہ میں منعقد ہونے والی 5 ہزار شہیدوں کی یاد میں پرشکوہ تقریب کے دوران اپنے اشعار میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے شامی عوام کی بے دریغ اور بنا احسان جتلائے بھرپور حمایت پر ایرانی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

شہید پائلٹ "رانی مرشد" کی فرزند "بتول" نامی شامی بچی نے اپنے اشعار میں ایران کے حوالے سے کچھ یوں کہا؛

"اگر عرب صہیونی نہ ہوتے تو آج جو شام میں ہورہا ہے، نہ ہوتا۔

اور آج کوئی شامی اپنے بھائی پر ظم نہ کرتا اور کسی عمارت کو ویران نہ کرتا۔

اور کوئی بھی بچوں اور خواتین کی تجارت نہ کرتا۔

زمانے کے خوارج کو خطیر رقوم دی گئیں تاکہ تکبیر )اذان( کی صدا نہ گونجے اور کلیسا سے گھنٹی کی آواز سنائی نہ دے۔

کیا کسی نے ایرانی قوم کے علاوہ کسی اور قوم کو دیکھا ہے جو اس قوم کی اپنی پوری وجدان اور فداکاری سے مدد کرے؟

ایرانی قوم کی ایک بڑی خصوصیت شجاعت اور دوسروں کی مدد کرنا ہے اور ہماری قوم ایرانیوں کی برادر قوم ہے۔

ان )ایران( کی فوج یا ہماری فوج میں کوئی بزدل جوان وجود ہی نہیں رکھتا۔"

    تازہ ترین خبریں