تحریر: مدثر مہدی

پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی

خبر کا کوڈ: 1404223 خدمت: مقالات
پرچم پاکستان و طالبان

ماضی قریب میں مختلف انتہا پسند کارروائیوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کا ملوث ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی معاشرے کا باشعور طبقہ بھی انتہا پسندی، تخریب کاری اور شدت پسندی کی جانب مائل ہورہا ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: اعلیٰ تعلیم کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی، اقتصادی و سماجی ڈھانچے کو مضبوطی فراہم کرنے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت 12 لاکھ کے قریب طلبا سرکاری جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں بڑی تعداد متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر یہ طلبا براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر یہ طلبہ تعمیری اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے پر اثر انداز ہونگے تو تو معاشرہ اپنا مثبت اور صحت مند توازن برقرار رکھ سکے گا لیکن اگر طلبا منفی و تخریبی سرگرمیوں کی جانب گامزن ہوئے تو معاشرے میں بے یقینی اور انارکی کی فضا چھا جائے گی جو کہ معاشرے کی تباہ کاری کا باعث بنے گا۔

پاکستان کی جامعات میں گزشتہ عرصے سے رونما ہونے والے واقعات نے ہر محب وطن اور پر امن شہری کے دل و دماغ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ یہ دن بہ دن بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، عدم برداشت اور تشدد کی فضا کو کیسے ختم کیا جائے اور جامعات جہاں علم کی روشنی پھیلتی ہو وہاں اس شدت پسندی کے اندھیرے کو کیسے ختم کیا جائے۔

ایک ایسا خوفناک وقت آن پہنچا ہے کہ جب اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں سے نکلنے والے طلباء شدت پسندی اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہیں، مردان کی ولی خان یونیوورسٹی میں پیش آنے واقعے نے ہر ذی شعور کو ہلا کے رکھ دیا جاہل تو دور، ان تعلیم یافتہ مستقبل کے معماروں نے بغیر کسی تحقیق کے مذہب کے نام پر اپنی ہی کیاری کے ایک پھول کو مسل ڈالا۔ انتہا پسند ی جو پہلے جاہل اور بے شعور لوگوں کا شیوہ تھی، اب وہ ارتقائی منزلوں سے ہوتے ہوئے جامعات اور معاشرے کے پڑھے لکھے لوگوں تک پہنچ گئی ہے بلکہ یوں کہئے کہ رچ بس گئی ہیں۔

اس ہولناک حقیقت کا ایک اور منظر میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری تھی، جس کا تعلق خود ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا اور وہ خود ایک ہونہار طالبہ تھی، لیکن کس طرح وہ اس انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئی اور داعش کے گھناونے جال میں پھنس گئی یہ ہی نہیں بلکہ تھوڑا اور پیچھے جائے تو کراچی کے ایک بڑے تعلیمی ادارے کا ایک طالب علم سعد عزیز بھی دکھے گا، جو کہ سانحہ صفورا اور سبین محمود قتل کا مرکزی کردار تھا، ان تمام واقعات میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کا ملوث ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے کا باشعور طبقہ بھی انتہا پسندی، تخریب کاری اور شدت پسندی کی جانب مائل ہورہا ہے اور اب دہشت گردوں نے برین واشنگ کے لئے جو ہدف بنایا ہے وہ جامعات کے طلبہ و طالبات ہیں نہ مدارس کے طلبہ۔

سوال تو یہ ہے کہ اس انتہا پسندی کی فکر کو مزید پھیلنے سے روکیں تو کیسے اور جو زہر معاشرے میں پھیل چکا ہے، اس کا علاج کیسے کیا جائے؟ یقینا حکومت سمیت پر ہر ذی شعور پاکستانی کو اس تعلیم یافتہ انتہا پسندی کو روکنے کے لئے سنجیدگی سے خاطر خواہ اقدامات کرنے ہونگے۔

جامعات و تعلیمی درسگاہوں میں ہر سطح پر تحمل اور برداشت کو فروغ دینے کے لئے نصاب میں اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو حصہ بنا کر طلبا و طالبات کے مابین مکالمے اور مباحثے کے کلچر کو فروغ دینا چاہئے۔

اس ضمن میں طلبا سے زیادہ ذمہ داری اساتذہ اور والدین کی بنتی ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو اس مکروہ فعل اور اس کے انجام سے وقتا فوقتا آگاہ کرتے رہیں۔ اسی طرح والدین اپنے بچوں کی جسمانی نشونما کے ساتھ ذہنی تربیت بھی کرتے رہیں تاکہ ان کے معصوم بچے انسان دشمن اور مذہب دشمن عناصر کے آلہ کار نہ بنیں۔

اسی طرح معاشرے کے ہر باشعور شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ملک اور وطن کے لئے یہ فریضہ انجام دے اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری