ٹرمپ: روس، ایران اور بشار اسد حکومت کو نکیل ڈالے/ لاوروف: شام سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں

خبر کا کوڈ: 1404263 خدمت: دنیا

ٹرمپ نے امریکی دورے پر آئے ہوئے روسی وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ روس، ایران اور شامی حکومت کو کنٹرول کرے جبکہ لاوروف نے کہا کہ ماسکو کا شام سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے بعد کہا کہ شام میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لئے سب کو مل کر کوشش کرنی چاہئے۔

لاوروف سے ملاقات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ شام میں جاری قتل عام کو بند ہونا چاہئے اور اس کے لئے سب کو کوشش کرنی چاہئے۔

ٹرمپ نے لاوروف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو شام معاملے کو ختم کرنے کیلئے کوشش کرے۔

انہوں نے لاوروف سے مطالبہ کیا کہ روس، ایران اور شامی حکومت کو کنٹرول کرے۔

دوسری جانب سرگئی لاوروف نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ اور ٹیلرسن سے شام میں امن زون کے قیام اور آستانہ امن مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے گفتگو کی نیز امریکہ روس کے باہمی تعلقات اور آستانہ صلح مذاکرات پر اتفاق بھی کیا گیا۔

انہوں نے ٹیلرسن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو دور کرنے کیلئے ایک راہ حل تک پہنچنے کا مطالبہ کیا۔

لاوروف نے کہا کہ شام میں امن زون کے قیام کی خاطر روس، امریکہ سے تعاون کرنے کو آمادہ ہے اور ہم نے آج کچھ تجاویز پر غور کیا ہے۔

روس جنیوا میں شام مذاکرات کیلئے ڈی میسٹورا کی تجویز کا استقبال کرتا ہے۔

لاوروف نے کہا کہ مجھے بھروسہ ہے کہ ٹرمپ حکومت کے عہدیداران کسی بھی معاملے پر عمل کو یقینی بناتے ہیں اور امید ہے کہ وہ مسائل حل کرنے کیلئے کوششیں کریں گے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو کا شام سے نکلنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے اور سب کو چاہئے کہ وہ دہشت گردی سے مقابلے میں ہمارا ساتھ دیں۔

انہوں نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صدام اور معمر قذافی حکومت کی سرنگونی کے بعد عراق اور لیبیا میں کیا کیا ہوا۔ ہمیں شام میں لیبیا اور عراق کے حالات دہرانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری