مستونگ حملہ: ملک کی فضا سوگوار / رہنماوں کی مذمت اور اظہار افسوس

خبر کا کوڈ: 1405742 خدمت: پاکستان
مستونگ بم دھماکہ

گذشتہ روز ہونے والے مستونگ خودکش حملے میں ضائع ہونے والی قیمتی جانوں پر ملک کی فضا سوگوار ہے جبکہ پاکستان کے عسکری و سیاسی رہنماوں نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفورحیدری کے قافلے پر خود کش حملے میں  ضائع ہونے والی 27 قیمتی جانوں پر ملک کی فضا سوگوار ہے جبکہ پاکستان کے عسکری و سیاسی رہنماوں نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

کالعدم داعش کی اس دہشتگردانہ کارروائی میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفورحیدری سمیت 37 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

 

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگرد کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

 

پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر خودکش حملے کی مذمت کی ہے اور قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کی خیریت دریافت کرنے سابق صدر آصف زرداری مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ اس موقع پر آصف زرداری کے ہمراہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ اور نیر بخاری بھی موجود تھے۔

 

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مستونگ دھماکہ دہشتگردی کی بدترین مثال ہے۔ تفصیلات کے مطابق مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے میں خودکش دھماکہ کے نتیجے میں شہادتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ واقعے کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے،دشمن پاکستان میں انتشار چاہتا ہے اور ہمیں اپنے ندرونی و بیرونی دشمنوں پر نظر رکھنا ہوگی۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اور ملک دشمن عناصر اپنے ناپاک عزا ئم میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور پوری قوم ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

ایاز صادق نے جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان سے  ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔ سپیکر قومی اسمبلی کا مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ دہشت گردی کے واقعہ میں مولانا عبدالغفور حیدری محفو ظ رہے لیکن قیمتی جانوں کے ضیاع پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، اللہ ان کے درجات بلند کرے ،شہیدوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی ۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی مولانا عبدالغفور حیدری پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالغفوری حیدری سے فون پر رابطہ کرتے ہوئے ان کی خیریت اور زندگی کیلئے دعا کی اور دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت بھی کی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف نے مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری پر ہونے والے خود کش حملے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتے،دہشت گرد اپنے گرد تنگ ہوتا گھیرا دیکھ کر مذموم اقدامات کررہے ہیں جن کی کسی مذہب اور معاشرے میں گنجائش نہیں ہے۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین رضا ربانی کی صدرات میں ہوا اور چیئر مین سینیٹ نے سانحہ مستونگ کی شدید مذمت کرتے ہوئےصوبائی حکومت سے واقعہ کی تفصیلات معلوم کیں ۔

دوسی جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں ہمارے قومی عزم کو کم نہیں کرسکتیں اور معاشی ترقی اور امن و استحکام کی کوششیں جارہی رہیں گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے مستونگ میں مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر خودکش حملے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو پہلے سوگ منائیں گے اور پھر احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ ایک مجرمانہ عمل ہے ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جے یو آئی قانون کی عمل داری اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے اور ایسے اقدام سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ سفر جاری رہے گا جب کہ یہ کسی فرد پر نہیں بلکہ پوری قوم پر حملہ ہے۔

    تازہ ترین خبریں