بحرین میں قیدیوں پر تشدد؛ اقوام متحدہ کا آل خلیفہ سے تحقیقات کا مطالبہ

خبر کا کوڈ: 1405764 خدمت: دنیا
اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیدیوں سے اپنے ناروا سلوک کا جائزہ لے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم کے مطابق اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسداد تشدد نے بحرینی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ رجب نبیل کو انفرادی سیل سے باہر نکالے اور قیدیوں پر کئے جانے والے تشدد اور ٹارچر کے الزامات کی تحقیقات کرے۔

رپورٹ کے مطابق بحرینی حکومت 2016 سے اپنے مخالفیں پر حد سے زیادہ تشدد کر رہی ہے۔ ملک کے اہم اور اکلوتی اپوزیشن پارٹی الوفاق کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

بحرین سرکار نے رجب نبیل کو گرفتار کیا نیز ملک کے معروف مذہبی رہنما شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت کو بھی منسوخ کردیا ہے۔

10 مستقل ارکان پر مشتمل اقوام متحدہ کی انسداد تشدد کمیٹی نے پانچ سال بعد بحرین کے انسانی حقوق کے معاملے کی جانچ شروع کی ہے۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی کے مطابق اس ٹیم  نے بحرین سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رجب نبیل کو مخصوص سیل سے باہر نکالے اور ان کے علاج نیز انہیں مناسب ہرجانہ کی رقم  بھی چکائے۔ 

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ رجب نبیل 9 ماہ سے انفرادی جیل میں بند ہیں اور ان کو مناسب علاج بھی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ 

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انہیں قیدیوں پر ناروا تشدد اور جرم کئے بغیر زبردستی اعتراف کروانے کیلئے خوفناک تشدد کی بے شمار شکائتیں موصول ہوئی ہیں۔ 

اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ آلہ خلیفہ فوجی عدالتوں میں ہونے والی عام شہریوں کے کیسز کی سماعت کو فورا بند کردے اور قیدیوں کو فورا بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں خصوصا مختلف جیلوں میں پابند سلاسل افراد کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری