کیا ترکی کے بعد امریکہ کردوں کے ذریعہ اپنا ایجنڈا لاگو کر رہا ہے؟

خبر کا کوڈ: 1405675 خدمت: دنیا
بانوان ارتش ترکیه

خطے میں ترکی اور خود طیب اردغان کے بعد امریکہ اپنا ایجنڈا لاگو کرنے کے لئے کردوں کا سہارا لے رہا ہے، اردغان سے سوال پوچھا جانا چاہئے کہ کیا وہ اس حقیقت کو سمجھ رہا ہے؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق رای الیوم کے ایڈیٹر عبد الباری عطوان نے خطے میں امریکی ایجنڈے کے نفاذ میں مددگار علاقائی ممالک مخصوصا ترکی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اب جبکہ واشنگٹن اردغان کو چھوڑ کر کردوں کا ساتھ پسند کر رہا ہے تو اردغان سے سوال پوچھا جانا چاہئے کہ کیا وہ حقیقت کو سمجھتے ہوئے باقی بچے وقت سے کوئی فائدہ حاصل کریں گے یا نہیں؟

اردغان آج کل اپنے حریف اور حلیف سب سے ناراض چل رہے ہیں، یورپ اور امریکہ، ایران و عراق، غاصب صیہونی حتی یونان سے بھی انتقام لینے کا جذبہ پالے ہوئے ہیں۔

بہت مشکل ہے کہ آپ کسی ایسے ملک کے بارے میں بتا سکیں جس سے اردغان راضی ہوں یا کم از کم ناراض نہ ہوں۔

اردغان کی ناراضگی کی کئی دلیلیں ہیں۔

ہماری نظر میں ان کی اس حالت کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کا تاریخی اور قدیمی حلیف امریکہ نیٹو اتحاد کے رکن کی حیثیت سے انجام دی گئیں ان کی خدمات کے باوجود بھی انہیں چھوڑ گیا ہے۔

ان حالات کے پیش نظر اردغان منگل کے روز امریکہ جا رہے ہیں جہاں وہ اپنے امریکی ہم منصب ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

اس دورے کے دوران اردغان شام سے متعلق اپنی پالیسی اور بشار حکومت کے خاتمہ نیز کرد تنظیموں کو مالی و عسکری حمایت سے محروم کرنے کی امیدیں رکھتے ہیں۔

کیا اردوغان اس سفر میں اپنے مقاصد کو پا لیں گے؟ اس کا احتمال کم ہی ہے ان کی ناکامی کا انکان ان کی کامیابی سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ٹرمپ حکومت نے ترکی کی ناکام فوجی بغاوت کی سازش کے ملزم فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور داعش کے خلاف بننے والے عالمی اتحاد کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ شام میں برسر پیکار کرد جنگجووں کو ٹینک، میزائل نیز دیگر جدید طرز کے فوجی ساز و سامان پہنچانے میں سرعت سے کام لیا جائے گا تاکہ فضائیہ کی مدد سے رقہ شہر کو جلد از جلد داعش کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکے۔

اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اردغان نے کئی ماہ کی خاموشی کے بعد غاصب صیہونی ریاست پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کی طرح نسل پرستی کی سیاست کو ہوا دے رہا ہے نیز اذان پر پابندی اور مصر اور غاصب صیہونیوں کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے غاصب صیہونیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان پالیسیوں کو غیر انسانی قرار دیا ہے۔

اسرائل کیساتھ روابط کی بحالی کے چند ہی ماہ بعد اردغان کا اسرائیل پر شدید حملے کیخلاف وائٹ ہاوس پر حاکم طبقے کی جانب سے رد عمل کا سامنے آنا یقینی تھا۔

اسرائیل سے اردوغان کی ناراضگی کے دو اسباب ہیں۔

پہلا یہ کہ صیہونی وزیراعظم نے ترک ریفرنڈم میں انہیں جیت کی مبارک باد نہیں دی، دوسرا یہ کہ صیہونی وزیراعظم نتانیاہو نے ٹی وی کیمرے کے سامنے حماس کے نئے منشور کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔

اگرچہ اردغان اس بات سے متفق نہ ہوں لیکن انہیں یہ احساح کھائے جا رہا ہے کہ انہیں ان کے حلیف اور اتحادی کہے جانے والے امریکہ نے دھوکہ دیا ہے وہی امریکہ جس نے انہیں 6 سال تک استعمال کیا اور شام کے دلدل میں دھنسا دیا اور ان کی نیز ان کی پارٹی کی عزت و آبرو اور اقدامات کو برباد کر دیا ہے اور ان کے تمام سیاسی خوابوں پر پانی پھر دیا ہے اور پھر ان کے دشمنوں یعنی کردوں کی خاطر ہی انہیں چھوڑ بھی دیا ہے۔

ترکی کی نظر میں صف اول کے دشمن نیز ترکی کے وجود اور سالمیت کیلئے خطرہ شمار ہونے والے شامی کردوں کو ٹرمپ حکومت کے ذریعے مسلح کرنے نیز رقہ شہر کی آزادی میں ان کو ایک قابل اعتماد فریق کی طرح شامل کئے جانے کو ترک حکومت شام اور ترکی کی سرحد پر ایک کرد فوج کی تشکیل کی شکل میں دیکھتی ہے۔

امریکہ ترکوں کو عرب ممالک کے خلاف نیز خطے میں امریکہ اور غاصب صیہوںی حکومتوں کے حریف ممالک کو متزلزل اور سرنگون کرنے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے اور جب عراق، شام اور لیبیا میں ان کا ایجنڈا مکمل ہو گیا تو اب کردوں کے ذریعہ اور ممکن ہے کچھ اور افراد کے توسط سے ترکی کے بکھراو کا ایجنڈا شروع ہو چکا ہے۔

اردغان کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر غور کریں اور ترکی نیز خطے کے دوسرے ممالک کی نابودی کے لئے بنائی گئی سازش کو سمجھتے ہوئے اسے ناکام بنائیں لیکن کیا وہ یہ کام کریں گے؟

اس سلسلے میں بہت شک و شبہات ہیں لیکن امید ہے کہ اردغان ان شکوک و شبہات کو غلط ثابت کر دیں اوران کے خلاف ہمارے افکار و اندیشے غلط ثابت ہوں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری