تحریر: آر اے سید

ایران میں انتخابات؛ ایک جائزہ (دوسری قسط)

خبر کا کوڈ: 1406951 خدمت: مقالات
آر اے سید

بلاشبہ اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی انقلاب کے آغاز سے ہی عوام کے ووٹوں کو غیر معمولی اہمیت دیتا چلا آرہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کے آئین کی رو سے نظام میں عوام ہی طاقت کے اصل مالک ہیں اور کسی کو بھی عوام سے طاقت چھیننے کا حق حاصل نہیں ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: امام خمینی رہ ہمیشہ عوام کے فیصلے کا احترام کئے جانے پر تاکید فرمایا کرتے تھے۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرے۔ اس لئے اسلامی جمہوریہ ایران خطے شاید دنیا میں دینی جمہوریت کا اولین ماڈل ہے جو عوام کے ووٹوں کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عوام کو ایران کے اسلامی جمہوری نظام کی سیاسی طاقت کے سیٹ اپ میں کلیدی کردار حاصل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے تسلسل کا انحصار مختلف انتخابات میں عوام کی شرکت پر ہے۔ اب چاہے یہ صدارتی انتخابات ہوں، پارلیمانی یا بلدیاتی انتخابات ہوں۔ تمام انتخابات میں عوام کی شرکت کو ہی اہمیت حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتخابات میں عوام اپنی شرکت کے ذریعے ہی قومی تقدیر اور اقتدار اعلیٰ میں اپنا حق حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیاسی رجحانات اور انتخابات میں حصہ لینے والے دھڑوں کے مقابلے سے صرف نظر کرتے ہوئے عوام ہی ایران میں اقتدار کو وجود میں لانے والے اصلی ارکان کی حیثیت سے انقلاب، اسلامی جمہوریہ ایران اور دینی جمہوریت میں ایک نیا شوق و ولولہ اور جذبہ پیدا کرسکتتے ہیں۔

آئین میں انتخابات کی جو چار اقسام بیان کی گئی ہیں ان کے دائرہ کار میں اب تک چونتیس مرتبہ انتخابات منعقد ہوچکے ہیں اور ہر مرتبہ مختلف ممالک نے اس بات پر توجہ دی کہ عوام نے ان انتخابات میں کتنی تعداد میں شرکت کی اور انتخابات کا ٹرن آوٹ کیا رہا۔ مختلف انتخابات میں دوسرے ممالک کی نسبت ٹرن آوٹ زیادہ رہا۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ایک سال بعد یعنی 1980ء میں ہونے والے اولین صدارتی انتخابات میں ٹرن آوٹ سڑسٹھ اعشاریہ بیالیس فیصد تھا۔

اکتوبر 1981ء تیسرے صدارتی انتخابات میں ٹرن آوٹ چوہتر اعشاریہ چھبیس فیصد تھا اور یہ ایران میں ہونے والے اب تک کے صدارتی انتخابات میں سب سے زیادہ ٹرن آوٹ تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو ان انتخابات میں پچانوے فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے اور وہ صدارتی انتخابات کے تمام ادوار کے سب سے زیادہ مقبول صدر ہیں۔

اگست 1985ء میں چوتھے صدارتی انتخابات ہوئے، ان انتخابات میں ٹرن آوٹ چون اعشاریہ اتھتر تھا۔

ایران میں ہوانے والے پانچویں، چھٹے، ساتویں، آٹھویں اور نویں صدارتی انتخابات کا ٹرن آوٹ بالترتیب چون اعشاریہ انسٹھ فیصد، پچاس اعشاریہ چھیاسٹھ فیصد، اناسی اعشاریہ ترانوے فیصد، چھیاسٹھ اعشاریہ ستتر فیصر اور انسٹھ اعشاریہ چھہتر فیصد تھا۔

ماضی میں بعض انتخابات میں تقریبا پچاسی فیصد تک ووٹروں نے بھی اپنے ووٹ کاسٹ کئے۔ 2009ء میں دسویں صدارتی انتخابات میں ٹرن آوٹ چوراسی اعشاریہ تراسی فیصد تھا۔ یہ ٹرن آوٹ 1979ء میں اسلامی جمہوریہ کے بارے میں ہوانے والے ریفرنڈم کے اٹھانوے ٹرن آوٹ کے بعد سب سے زیادہ ٹرن آوٹ تھا۔ گیارہویں صدارتی انتخابات 2013ء میں منعقد ہوئے اور ان انتخابات میں ٹرن آوٹ بہتر اعشاریہ چورانوے فیصد تھا۔

چار طرح کے انتخابات میں ایرانی عوام کی بھرپور شرکت کی مغربی ایشیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے اور یہ شرکت دنیا میں بھی بے مثال ہے۔ انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کا سبب ایران کے اسلامی جمہوریہ ایران کے جمہوری نظام کی حمایت اور اس نظام کو مقبول بنانے کے سلسلے میں اپنے سیاسی کردار پر ان کی توجہ ہے۔ مختلف انتخابات میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت نظام کو دشمنوں کی سازشوں سے بچانے کا اسٹریٹیجک ذخیرہ شمار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے انتخابات میں عوام کی بڑے پیمانے پر شرکت ایران میں طاقت کے اہم عنصر میں تبدیل ہوگئی ہے۔

دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ انتخابات میں عوام کی زیادی سے زیادی شرکت ایران کیلئے سلامتی اور طاقت کا تحفہ لائے گی اور اس کی موجودہ سطح کو بڑھادے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری