امریکہ کے اعتراض کے بعد؛

چین: شاہراہ ریشم اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام ممالک کا استقبال کرتے ہیں

خبر کا کوڈ: 1406809 خدمت: دنیا
جاده ابریشم جدید

چین نے شاہراہ ریشم اجلاس میں امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا کی شرکت پر اعتراض کرنے کے بعد شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سلک روٹ میٹنگ میں شمالی کوریا کی حاضری سے دوسرے ممالک پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کے امریکی اعتراض پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے چین نے کہا ہے کہ بیجنگ اس میٹنگ میں شامل ہونے والے تمام ممالک کا استقبال کرتا ہے۔

دو با خبر ذرائع کے مطابق بیجنگ میں واقع امریکی سفارت نے چینی وزارت خارجہ کو ارسال کئے گئے پیغام میں کہا ہے کہ اس نشست میں شمالی کوریا کو شرکت کی دعوت دینے سے منفی پیغام جائے گا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب دنیا شمالی کوریا کے میزائل تجربوں کی وجہ سے پیونگ یانگ پر سختی سے دباو ڈالنے میں مصروف ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے امریکی اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ درحقیقت بیجنگ ان شرائط کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ شاہراہ ریشم ایک انقلابی، آزاد اور جامع منصوبہ ہے ہم اس بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کرنے والے ہر ملک کا خیر مقدم کریں گے۔

واضح رہے کہ چینی وزارت خارجہ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن شاہراہ ریشم اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے وائٹ ہاوس کے مشیر میٹ پوٹینگز کی قیادت میں ایک وفد بھیجے گا۔

 آگاہ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں شمالی کوریا کے اہم کردار اور شریک ہونے کی مخالفت کرتے ہوئے ممکن ہے بعض مغربی ممالک اس اجلاس میں شریک ہونے سے انکار کر دیں۔ البتہ ابھی یہ معلوم نہیں ہوپایا ہے کہ شمالی کوریا اس اجلاس کے کس حصے میں شرکت کرے گا۔

رواں سال 14 - 15 مئی کو 29 ممالک کی اہم سیاسی حکام اس اجلاس میں حصہ لیں گے تاکہ شاہراہ ریشم کو وسیع کرنے کے منصوبہ پر گفتگو کر سکیں۔

یہ عظیم منصوبہ چینی صدر کی ایماء پر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے باہمی مقاصد اور اہداف کو فروغ دینے کیلئے سامنے آیا ہے۔

تسنیمنیوز ایجنسی کو فیس بک، ٹویٹر، ٹیلگرام، یوٹیوب اورانسٹاگرام فالو کریں۔

    تازہ ترین خبریں