مغربی ایشیائی امور کے ماہر کی تسنیم سے بات چیت؛

پاک ایران سرحد پر دہشت گردانہ کارروائی، سعودی سازش کا حصہ تھا

خبر کا کوڈ: 1408733 خدمت: اسلامی بیداری
محمد بن سلمان

مغربی ایشیائی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پھیلی بدامنی اور مشکلات کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایران کے خلاف تہمت اور بیہودہ الزامات لگاتا رہتا ہے۔

مغربی ایشیائی امور کے ماہر قاسم غفوری نے خبر رساں ادارہ تسنیم سے بات کرتے ہوئے ایران کے خلاف سعودی عرب کے حالیہ جارحانہ اقدام اور ایران پاکستان سرحد پر دہشت گردانہ حملہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ سعودی عرب کی سازش کا نتیجہ تھا۔

ایران کے خلاف سعودی عرب کی چالیں نیز سعودی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے بیان کا کئی طرح تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔  ان اقدامات کا سبب سعودی عرب کے داخلی مسائل نیز سعودی عوام کی سیاسی بیداری ہے جیسے قطیف میں دیکھا جا سکتا ہے جسے سعودی فوج العوامیہ جیسے علاقوں میں بھی بڑی شدت سے کچل رہی ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کی داخلی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اقتصادی محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے عالمی تنظیموں کے اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سعودی بادشاہ کی زیر نظارت سعودی محکمہ اقتصاد شدید بحران کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ داخلی مسائل میں گرفتار سعودی عرب کو یمن جیسے علاقائی مسائل میں بھی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

اس میدان میں سعودی عرب کو ہر روز ایک نئی شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اسے شام اور عرق کے معاملہ میں بھی ماحول بنانے اور فوجی مداخلت حتی اردن کی سرحدوں پر بھی فوجی سرگرمیاں جاری رکھنے کے باوجود کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

سعودی عرب اب اصل مسئلے سے ہٹ کر ایران ہراسی جیسے حاشیہ کے مسائل پر زور دے رہا ہے تاکہ عوام کو داخلی مسائل سے غافل کر سکے۔  

سعودی عرب اس حربے کے وسیلے سے اپنے داخلی مسائل اور لوگوں پر تشدد کے واقعات سے گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ آل سعود اس آشوب کے ذریعہ اپنی مسلسل ناکامیوں کو چھپانا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کے بعض اقدامات ایرانی انتخابات کے حوالے سے دیکھے گئے سعودی خواب کے نتیجہ میں انجام دئے جا رہے ہیں۔

سعودی سوچ رہے ہیں کہ وہ ایرانی انتخابات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بعض اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں جیسے ایران میں مذہبی اور قومی منافرت کو ہوا دے کر ایران کے لئے داخلی مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں اور اس بات کا مشاہدہ عرب چینلز کو دیکھ کر ہو جاتا ہے جو ایران میں داخلی مشکلات کھڑی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں؛ جس کا دعویٰ خود محمد بن سلمان نے بھی کیا ہے کہ آل سعود ایران کی سرحدوں میں مشکلات کھڑی کرنے کے ہدف پر کام کر رہے ہیں۔

آل سعود کے بعض اقدامات ایران مخالفت پر مبنی ہیں۔

قاسم غفوری کے مطابق پاک ایران سرحد پر 11 ایرانی سرحدی نگہبانوں کی شہادت پر ختم ہونے والا دہشت گردانہ حملہ سعودی سازش کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے ٹرمپ کے سعودی دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود اس سفر پر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ وہ اسلامی ممالک کے اجلاس کے نام پر ٹرمپ کو اس اجلاس کا مہمان بنائیں گے اور یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ آل سعود آج بھی خطے میں امریکی ایجنڈہ اور سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی قوت رکھتے ہیں۔

آل سعود امریکہ کی نگاہوں میں اپنی اہمیت بنائے رکھنے کیلئے یہ قدم اٹھا رہے ہیں تاکہ واشنگٹن سے کچھ پا سکیں۔  

دوسری طرف سعودیہ کی کوشش یہ ہے کہ وہ اسلامی دنیا میں اپنی پدرانہ امیج قائم رکھے۔

قاسم غفوری نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ان اقدامات کا سبب اس کی اندرونی اور بیرونی مشکلات ہیں۔

ریاض ان  اقدامات کے ذریعے کوشش کر رہا ہے کہ اپنے داخلی معاملات کو چھپائے تاہم یہ اقدامات سعودی عرب کی طاقت سے باہر کی چیز ہیں سعودی عرب سیاسی، اقتصادی اور انتظامی مسائل پر مسلسل شکست کا سامنا کر رہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں