تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

افغان پارلیمنٹ میں نسل پرستی کی چنگاری بھڑک اٹھی/ حکمتیار پشتونوں کی مدد کریں گے؟

خبر کا کوڈ: 1408765 خدمت: دنیا
سادات منگل

کابل میں حکمتیار کی آمد سے اس ملک کی پارلیمنٹ میں قومی کشیدگیاں ابھر کر سامنے آ گئی ہیں پکتیا کے نمائندے نے حکمتیار سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ پشتونوں کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پکتیا سے پارلیمنٹ رکن راضیہ سادات منگل نے حکمتیار سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم پشتونوں کی اکثریت کے بعد بھی ہمیں ہمارا جائز حق نہیں مل سکا ہے آپ کے آنے سے یہ خلاء بھر جائے گا۔

حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار نے منگل کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پشتون قوم کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے پہلے آپس میں متحد ہونا ہوگا۔

گزشتہ ہفتہ حکمتیار کی کابل آمد کے موقع پر بھی پارلیمنٹ میں حزب اسلامی کے حامیوں اور مخالفین میں کشمکش کا ماحول بن گیا تھا۔ 

بعض پارلیمنٹ ارکان صدر اشرف غنی پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ حکمتیار کے ذریعے اقتدار کو اپنے تک محدود کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کو حذف کرنے کی سیاسی چالیں چل رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ پشتون کے غلجئی قوم سے تعلق رکھنے والے اشرف غنی اور حکمتیار سیاسی منظر نامہ اور طاقت کے توازن کو بدلنے کی سازش میں شریک ہیں۔

طالبان اور شمالی اتحاد سے شکست کھانے والے حکمتیار قومی اور قبائلی انتشار پھیلا کر پشتون خصوصا غلجئی قوم کی سرپرستی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سیاسی امور کے ماہر ہدایت افغان کے بقول افغانستان میں قومی حکومت کا قیام ملک کے عوامی اور سیاسی خلفشار کا باعث بنا ہوا ہے اور حکمتیار کی واپسی کے ساتھ یہ اختلاف اور کشمکش اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ حکمتیار اپنی پارٹی کو ایک طاقتور سیاسی جماعت بنانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار ہیں۔

حزب اسلامی کے سربراہ اس سے پہلے بھی سیاسی، مذہبی اور قومی اقلیت کے خلاف منافرت بھڑکانے کے لئے ہر حربہ آزما چکے ہیں تاکہ انہیں اپنی طاقت کا احساس دلاتے ہوئے ان کے آپسی اختلافات کا فائدہ اٹھا سکیں۔

ان سب کے باوجود اکثر سیاسی پارٹیوں نے جن میں اکثریت غیر پشتون  ہیں، اشرف غنی پر قدرت طلبی کا الزام لگاتے ہوئے پارلیمنٹ نظام کو بدلنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

بلخ کے گورنر اور جمعیت اسلامی کے رکن عطا محمد نور نے حکمتیار سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خانہ جنگی کے دور والے اشاروں اور کنایوں سے پرہیز کرے کیونکہ اس زمانے میں ایسی باتوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ حکمتیار کی آمد نے افغانستان میں صلح و آشتی تو نہیں البتہ ملک کے سیاسی استحکام کو متزلزل کرتے ہوئے داخلی اختلافات کو ہوا ضرور دی ہے۔

    تازہ ترین خبریں