تحریر: آر اے سید

ایران میں انتخابات؛ ایک جائزہ (تیسری قسط)

خبر کا کوڈ: 1408946 خدمت: مقالات
آر اے سید

اسلامی جمہوریہ ایران میں انتخابات کو کو نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور اسے نظام کا ایک مضبوط ستون تصور کیا جاتا یے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں انتخابات کے منصفانہ اور صاف و شفاف انعقاد پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی اس حوالے سے کہتے ہیں؛

وہ چیز جو آئین میں موجود ہے اس کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اخلاقی حوالے سے سب سے اہم یہ ہے کہ رقیب امیدوار ایکدوسرے کی توہین نہ کریں اور شریعت اور اسلامی اقدار کے دائرے کے اندر رہ کر اپنی انتخابی مہم چلائیں۔

تعمیری تنقید اپنی جگہ لیکن تعمیر کے نام پر مخالف کی تخریب اور اس پر تہمت، افترا اور الزامات لگانا تنقید کے زمرے میں نہیں آتا۔ مخالف امیدوار پر جھوٹے الزام عائد کرکے معاشرے میں اسکی شخصیت کو نشانہ بنانا نہ شریعت قبول کرتا ہے اور نہ ایران کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔

قانونی لحاظ سے انتخابات کی نگرانی کا مفہوم وہ تمام اقدامات ہیں جو آئین کے دائرے کے اندر رہ کر انتخابات کے انعقاد کے لئے ضروری ہیں اور جن اقدامات سے انتخابات کو شفاف اور منصفانہ بنایا جاتا ہے۔

ایران کے آئین کی شق نمبر 99 میں آیا ہے کہ ایران کے انتخابات من جملہ ماہرین کی کونسل، صدارتی اور پارلمانی انتخابات کی نگرانی کی ذمہ داری گارڈین کونسل کے ذمے ہے۔ آئین کی اس شق کے مطابق انتخابات کی نگرانی کی اصل ذمہ داری گارڈین کونسل پر عائد ہوتی ہے۔

البتہ شہری اور دیہی کونسلوں کے انتخابات کی نگرانی کی ذمہ داری گارڈین کوسنل کے سپرد نہیں کی گئی ہے۔

آئین کی شق نمبر 100 کے مطابق شہری اور دیہی کونسلوں کے امیدواروں، ووٹروں اور ان کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین نیز ان کے انتخابات کا طریقہ کار قانون کے تحت مقرر کیا جائیگا اور یہ قانون سازی مجلس شوری اسلامی یعنی پارلیمنٹ کے ذمہ ہے۔

گارڈین کونسل کے 12 اراکین ہوتے ہیں لہذا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ کونسل صدارتی اور پارلیمنٹ کے تمام انتخابی حلقوں کی نگرانی کرے لہذا قانون نے اس کونسل کو اختیار دیا ہے کہ وہ مختلف انتخابی حلقوں کیلئے نظارتی کمیٹیاں تشکیل دے۔ یہ نظارتی کمیٹیاں صوبائی اور ہر حلقہ کیلئے علیحدہ علیحدہ ہوسکتی ہیں۔

چونکہ منصفانہ اور صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد تمام حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے لہذا عدلیہ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ انتخابات کی انتظامیہ اور نظارتی کمیٹیوں کے علاوہ عدلیہ بھی انتخابات کے انعقاد پر کڑی نگاہ رکھتی ہے تاکہ بدعنوانی اور غیر قانونی امور کو روکا جاسکے اور اگر کوئی جرم سرزد ہوجائے تو اس کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ انتخابات کے معرکے میں کسی کا حق ضائع نہ ہو۔

    تازہ ترین خبریں