عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس / دوطرفہ دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ

خبر کا کوڈ: 1409415 خدمت: پاکستان
کلبوشن یادو

پاکستان میں زیر حراست اور فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے کلبھوشن یادو کے معاملے پر بھارت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں دائر درخواست کی سماعت پیر کو ہوئی کس میں دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف ’آئی سی جے‘ سے استدعا کی گئی کہ کلبھوشن یادو کی سزا پر عمل درآمد روکنے کے لیے پاکستان کو احکامات جاری کیے جائیں۔

پاکستان کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے پاکستان کو کل بھوشن یادیو کی پھانسی پر عملدرآمد روکنے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یادیو ایک بے قصور بھارتی شہری ہے جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں قید ہے اور اسے ویانا کنونشن کے تحت اس کے حقوق نہیں دیئے جا رہے، پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

دوسری جانب پاکستان نے موقف دیا کہ پاکستان دہشتگردوں سے نہیں ڈرے گا۔ کمانڈر کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کا اعتراف کیا۔

کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کی کاپی عالمی عدالت انصاف میں بڑی سکرین پر دکھائی گئی۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کمانڈر کلبھوشن کا جبری اعتراف کا بھارتی الزام بے بنیاد ہے۔

عالمی عدالت انصاف کو کلبھوشن یادیو کی اعترافی ویڈیو دیکھنی چاہئے۔ بھارت نے کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کے بارے میں خاموشی اختیار کئے رکھی اور اس معاملے پر بھارتی وکلاء کو سانپ سونگھ گیا۔

کلبھوشن نے دہشت گردی کرکے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کیا۔ کلبھوشن معصوم شہریوں کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کرچکا ہے۔

ہمیں عالمی عدالت میں کھینچا گیا ہے ہم خوشی سے پیش ہوئے۔

پاکستان نے کلبھوشن کی گرفتاری پر بھارت کو بھی آگاہ کیا تھا۔ کلبھوشن کے پاس اپنی صفائی کیلئے 150 دن تھے، پاکستان کیخلاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بھارت کو فائدہ نہیں ہوگا۔ پاکستانی وکیل خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کے پاسپورٹ پر مسلمان کا نام لکھا تھا۔

کمانڈر کلبھوشن کی گرفتاری سے بھارتی ہائی کمشن کو آگاہ کیا گیا۔ بھارت نے کلبھوشن کے پاسپورٹ پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔ کلبھوشن کے پاسپورٹ پر فرضی نام لکھا ہے۔

بھارتی میڈیا نے عالمی عدالت انصاف کے خط کو بھی غلط انداز میں پیش کیا۔ بھارت کی طرف سے مشروط قونصلر رسائی کی بات بے بنیاد ہے۔ کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ کمانڈر کلبھوشن یادیو کا کیس ہنگامی نوعیت کا نہیں ہے۔ ویانا کنونشن کے تحت بین الاقوامی عدالت انصاف کا دائرہ کار محدود ہے۔

بھارتی درخواست کی سماعت آئی سی جے میں ممکن نہیں۔ بھارت کے پیش کردہ دلائل نامکمل اور تضاد سے بھرپور ہیں۔ بھارت آئی سی جے سے حد سے زیادہ ریلیف چاہتا ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت کو سیاسی تھیٹر کے طور پر استعمال کیا، عوام اور اپنی سرزمین کی حفاظت کیلئے تمام قانونی ذرائع استعمال کریں گے۔

اقوام متحدہ میں سب سے بڑا جرم دہشت گردی سمجھا جاتا ہے۔ کلبھوشن کو معدنی دولت سے مالامال بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ عالمی عدالت کلبھوشن کے معاملے پر بھارت کی درخواست مسترد کردے۔

کلبھوشن کی سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد فراہم کئے گئے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو قونصلر رسائی کا حق نہیں رکھتا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت قانون کے مطابق سنائی گئی ہے۔ بھارت اپنے دلائل میں غلط بیانی اور تضاد سے کام لے رہا ہے۔

کلبھوشن جعلی پاسپورٹ پر پاکستان آیا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد فراہم کئے گئے ہیں۔ دہشت گرد کو سز ا دینا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان کے وکلا ٹیم میں شامل خاور قریشی نے کہا کہ کلبھوشن یادو کا معاملہ ہنگامی نوعیت کا نہیں اور اُن کے بقول جینوا کنونشن کے تحت یہ درخواست عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔

نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد عدالت برخواست کر دی گئی اور کہا گیا کہ جلد از جلد اس پر فیصلہ سنایا جائے گا۔

بھارتی وزیر خارجہ سمشا سوراج نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ایک سینیئر وکیل ہریش سالوے بھارت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں اُن کے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں پیش ہونے والی ٹیم کی قیادت اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کر رہے ہیں۔

ایک معروف قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں اُسی صورت کسی معاملے پر پیش رفت ہو سکتی ہے جب دونوں فریق باہمی رضا مندی سے اس ’آئی سی جے‘ سے رجوع کریں۔

عمومی صورت حال انٹرنیشل کورٹ آف جسٹس کی یہ ہے کہ دونوں ممالک جب تک متفق نا ہوں کہ ہم اپنے اس جھگڑے کو (آئی سی جے) میں لے جانا پسند کرتے ہیں۔۔۔۔ تو اس صورت میں اُن (عالمی عدالت انصاف) کو (سننے کے) یہ اختیارات ہوتے ہیں ورنہ نہیں ہوتے ہیں۔

وکیل ایس ایم ظفر کا کہنا تھا جب دونوں فریق باہمی رضا مندی سے کسی معاملے کے حل کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہیں تو اُسی صورت میں وہ آئی سی جے کا فیصلہ ماننے کے پابند ہوں گے۔

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کی عدالت میں ایک اصول طے ہو جاتا ہے۔۔۔۔ پابندی تو نہیں ہوتی ہے پھر معاملہ لے کر جانا پڑتا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ۔۔۔ میں اس پر (اس وقت) مزید کچھ نہیں کہنا چاہوں گا، سوائے اس کے کہ یہ کہنا درست کہ فیصلے آتے ساتھ اُس (پر عمل درآمد) کی پابندی نہیں ہوتی۔

ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں پاکستان کے پاس اتنا مواد ضرور ہے، جس کے بنیاد پر یہ کہا جائے گا کہ عالمی عدالت انصاف یہ معاملہ سننے کی مجاز نہیں۔

میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے پاس ابتدائی اعتراض اٹھانے کے لیے کہ آپ (آئی سی جے) کے اختیارات نہیں ہیں بہت سا مواد موجود ہے۔

واضح رہے کہ 1999 میں پاکستان نے اپنی بحریہ کا ایک جہاز بھارتی جنگی طیاروں کی طرف سے مار گرائے جانے کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا، لیکن اس وقت آئی سی جے نے وہ مقدمہ سننے سے انکار کر دیا تھا۔

بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کلبھوشن یادو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ایران میں تجارت کر رہے تھے جہاں سے پاکستان نے اُنھیں اغوا کیا۔

لیکن پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تین مارچ 2016 کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کر کے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جو مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کا حاضر سروس ملازم ہے۔

اگرچہ بھارت نے یہ تسلیم کیا تھا کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کا سابق افسر ہے تاہم بھارت کی طرف سے اس الزام کو مسترد کیا جاتا رہا کہ کلبھوشن کا تعلق 'را' سے ہے۔

پاکستان میں گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادو کے خلاف ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل‘ یعنی ایک فوجی عدالت میں آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور گزشتہ ماہ اُنھیں موت کی سزا سنائی گئی۔

فوج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ کلبھوشن کو قانون کے مطابق دفاع کے لیے وکیل کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔ کلبھوشن اپنی اس سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔

کلبھوشن کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسے بھارت کا بیٹا قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اگر کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

ردعمل کے طور پر پاکستان نے 2 ٹوک الفاظ میں بتا دیا تھا کہ بھارتی جاسوس پر قانونی تقاضوں کے مطابق سزا سنائی گئی ہے اوراس زمرے میں پاکستان کوئی لچک نہیں دکھائے گا۔

 

    تازہ ترین خبریں