کشمیری جوان کو جیپ سے باندھنے والے بھارتی میجر کو بھارتی عدالت کا خراج تحسین

خبر کا کوڈ: 1409583 خدمت: پاکستان
کشمیری جوان

مقبوضہ کشمیر میں نوجوان کشمیری کو جیپ کے سامنے باندھ کر بطور ڈھال استعمال کرنے والے بھارتی افسر کو  نہ صرف کلین چٹ مل گئی بلکہ اس کے فعل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اسے خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔

خبررساں ادارے تسنیم نے بھارتی ذرائع ابلاغ سے جاری ہونے والی اطلاعات کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں نوجوان کشمیری کو جیپ کے آگے باندھنے والے بھارتی میجر کو عدالت نے بغیر کسی جرمانے اور سزا کے بے قصور قرار دے دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوجی افسر نے ایسا کرکے کئی افراد کی جانیں بچائیں، جو ایک درست فیصلہ تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جیپ سے باندھنے کے واقعے کے دو روز بعد جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی جس میں راشٹرایئہ رائفل 53 کے میجر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم ایف آئی آر درج ہونے کے باجود بھارتی افسر کے خلاف کوئی چارج شیٹ فائل نہیں کی گئی جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام نے مذکورہ ایکشن پر بھارتی افسر کے خلاف کسی بھی کارروائی اور کورٹ مارشل کے امکان کو رد کردیا۔

یاد رہے کہ بھارتی فوج کی بزدلی اور بربریت کی ایک مثال تب سامنے آئی تھی جب پچھلے ماہ بھارتی فوج نے پتھراؤ سے بچنے کےلئے کشمیری نوجوان کو انسانی ڈھال کے طور پر جیپ کے بمپر سے باندھ کر گشت کیا تھا۔

یہ وڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد دنیا بھر میں بھارتی فوج کے رویے پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

فوجی گاڑی سے باندھے گئے کشمیری نوجوان فاروق ڈار کا کہنا تھا کہ اس نے کبھی پتھراؤ نہیں کیا۔

اس واقعے کی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر نشر ہونے کے بعد ہر ذی شعور اور انسانیت کی عزت کرنے والے شخص نے بھارتی فوج کے اس غیر انسانی رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

عالمی دباو میں آکر بھارت نے ایک بار اس میجر پر مقدمہ تو دائر کر دیا جس نے اس کشمیری جوان کو جیپ سے باندھا تھا، تاہم حسب توقع نہ صرف اس افسر کو باعزت بری کر دیا گیا ہے بلکہ اس قدم کو ضروری قرار دے کر سراہا بھی گیا ہے۔

دوسری جانب یہ انسانیت سوز واقعہ بھی اقوام متحدہ اور او آئی سی کے سوئے ہوئے ضمیر کی نیند میں ذرا برابر مخل نہ ہوا۔

    تازہ ترین خبریں