تحریر: آر اے سید

ایران میں انتخابات؛ ایک جائزہ (چوتھی قسط)

خبر کا کوڈ: 1409594 خدمت: مقالات
آر اے سید

خوش قسمتی سے ایران میں گزشتہ 32-33 سالوں میں ریفرنڈم سمیت جو مختلف انتخابات منعقد ہوئے ہیں وہ سب منصفانہ اور صاف و شفاف تھے۔ کبھی کسی نے اعتراض کیا تو ان کی شکایت کی مکمل پیروی کی گئی۔ بعض مواقع پر بے ضابطگی بھی سامنے آئی لیکن مجموعی طور پر انتخابات مکمل شفاف اور منصفانہ تھے۔

معروف سیاسی تجزیہ نگار محمد ہادی راجی کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے انتخابات کا قانون جون 1985ء میں منظور ہوا۔ پارلیمنٹ میں منظوری کے بعد اب تک اس میں ترامیم بھی انجام پائی ہیں۔ اس قانون میں ایک شق "انتخابی مہم" کے حوالے سے ہے۔ اس قانون کی شق نمبر چھ میں انتخاباتی مہم کے طریقہ کار، امیدواروں کی الیکشن کمیشن کے قواعد و اصول اور ضابطہ اخلاق طے کیا گیا ہے۔ امیدواروں نے کس طرح انتخابی مہم چلانے اور سرکاری میڈیا کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ اس میں رہنمائی کردی گئی ہے۔

سب سے پہلے شرط یہ ہے کہ سرکاری میڈیا میں تمام امیدواروں کو یکساں اور مساوی امکانات فراہم کئے جائیں۔ سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کے حوالے سے تمام امیدواروں کو برابر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ آئین میں اس عمل کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لئے ایک نظارتی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کمیشن کے پانچ اراکین ہوتے ہیں جس میں اٹارنی جنرل، وزیر داخلہ، انتخابات کی مرکزی نظارتی کونسل کا سربراہ، انتخاب کی انتظامی کمیٹی کا سیکرٹری جنرل اور ریڈیو اور ٹی وی ادارے کا سربراہ شامل ہوتا ہے۔ اس میں گارڈین کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوسکتا ہے البتہ اس کی حیثیت ناظر کی ہوتی ہے اور وہ اس کمیشن کی کاروائی کو گارڈین کونسل کو منتقل کرتا ہے اور گارڈین کونسل کے نمائندے کی حیثیت سے گارڈین کونسل کے موقف کی ترجمانی کرتا ہے۔

انتخابی مہم کے حوالے سے ایک اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ انتخابی مہم کے حوالے سے جس چیز کی اجازت نہیں دی گئی ہے ان میں سرکاری وسائل کا استعمال خلاف قانون اور جرم شمار ہوگا اور عدلیہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کرے گی۔

مختلف ادارے مختلف انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتے ہیں۔ گارڈین کونسل بھی کسی صدارتی امیدوار کی اس طرح کے بے ضابطگی اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کیخلاف کاروائی کا حکم دے سکتی ہے۔

یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ انتخابات کی نگرانی کے حوالے سے گارڈین کونسل اور عدلیہ کے درمیان کوئی ٹکراو نہیں ہے کیونکہ ہر ایک کا دائرہ کار تعین کردیا گیا ہے۔ گارڈین کونسل کی ایک اہم ذمہ داری امیدوار کی صلاحیتوں کی تائید اور منصفانہ انتخابات کے بارے میں اعلان کرنا ہے۔ دوسری طرف آئین کی شق نمبر 156 کے مطابق عدلیہ کا کام جرم کے انجام پانے کو روکنا ہے۔

آئین کے اندر جن امور کو جرم قرار دیا گیا ہے اس کی پیروی کی ذمہ داری عدلیہ پر ہے۔ ان جرائم اور بدعنوانیوں میں سرکاری وسائل اور بیت المال کا غلط استعمال بھی شامل ہے۔

اگر انتخابات کے درمیان امیدوار یا ان سے متعلقہ افراد سے کسی قسم کے بے ضابطگی اور غیر قانونی عمل انجام پاتا ہے تو اس کیلئے قانون میں باقاعدہ سزا و جزا کا تعین کردیا گیا ہے۔

انتخابات میں بے ضابطگی یا غیر قانونی سرگرمی کی پیروی کا سلسلہ ان اداروں اور ایجنسیوں کی رپورٹ سے شروع ہوتا ہے جن کے ذمے جرائم کو ڈھونڈنا اور پکڑنا ہوتا ہے جن میں انٹیلی جنس کا ادارہ، سپاہ پاسدارا، پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے شامل ہیں۔ بے ضابطگی کی رپورٹ کے بعد سول کورٹ سے مقدمے کی کاروائی کا آغاز ہوتا ہے۔ عام شہری بھی کسی کا غیر قانونی سرگرمی اور بے ضابطگی کی رپورٹ کرکے انتخابی جرم کے خلاف شکایت کرسکتے ہیں۔

پولنگ اسٹیشنوں میں بیلٹ باکس کے اندر ڈالے گئے ووٹوں کی کی گنتی پر بھی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس میں نظارتی کمیٹی اور امیدواروں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نگرانی کا عمل انجام دیتی ہے۔ کسی بھی پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ اس وت تک صحیح اور قانونی تصور نہیں کیا جاتا جب تک نظارتی کمیٹی اس کی تائید نہ کرے۔

ووٹوں کی خرید و فروخت یا دوبارہ ووٹ دینا، اسی طرح پولنگ بوتھ پر غیر متعلقہ افراد کی طرف سے اپنے امیدوار کا نام لکھنا اور ووٹنگ کے عمل کو ڈسٹرب کرنا یا انتخابی عمل میں کسی طرح کی رکاوٹ ڈالنا جرائم میں شمار ہوتا ہے۔

جس کسی کو ووٹنگ کے طریقہ کار پر شکایت ہو وہ ایک ہفتے کے اندر تمام ثبوتوں کیساتھ گارڈین کونسل کے سیکرٹریٹ میں مقدمہ پیش کرسکتا ہے۔

اس طرح کی نگرانی انتخاباتی جرائم پر کنٹرول کرنے میں موثر واقع ہوتی ہے اور عوام کی رائے کے احترام کی ضامن ہوتی ہے۔

عوام کا ووٹ گویا ایک امانت ہوتا ہے اور انتخابات منعقد کرنے والے تمام ادارے عوام کی اس امانت کے محافظ و امین ہیں یہی وجہ ہے کہ ایران کے اسلامی نظام میں انتخابات کے تمام مراحل میں نگرانی اور نظارت کو آئین کا حصہ قرار دیا گیا ہے تاکہ انتخابات کے منصفانہ ہونے پر سب کا مکمل یقین ہو۔

رہبر انقلاب اسلامی کے فرامین میں آیا ہے کہ "انتخابات کے درمیان صحت مندانہ اور شفاف مقابلہ یہ ہے کہ ایک دوسرے پر جھوٹے الزامات نہ لگائے جائیں۔ انتخابات کا ماحول صاف و شفاف ہونا چاہئے، اگر عوام صدارتی امیدوار کو خود جانتے ہیں اپنی تشخیص کے مطابق عمل کریں اور اگر نہیں جانتے تو متدین اور با بصیرت افراد کے مشورے سے اس کام کو انجام دیں۔ انتخابات منعقد کرنے والی انتظامیہ بھی پوری توجہ اور باریک بینی سے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ یہ وہ اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر صاف و شفاف انتخابات منعقد کئے جاسکتے ہیں۔"

خوش قسمتی سے ایران میں گزشتہ 32-33 سالوں میں ریفرنڈم سمیت جو مختلف انتخابات منعقد ہوئے ہیں وہ سب منصفانہ اور صاف و شفاف تھے۔ کبھی کسی نے اعتراض کیا تو ان کی شکایت کی مکمل پیروی کی گئی۔ بعض مواقع پر بے ضابطگی بھی سامنے آئی لیکن مجموعی طور پر انتخابات مکمل شفاف اور منصفانہ تھے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔    

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری