قاسمی: اسلامی ممالک ہوشیار رہیں، ریاض اجلاس باہمی اختلاف کا پیش خیمہ نہ بن جائے

خبر کا کوڈ: 1409880 خدمت: ایران
بہرام قاسمی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر کی سربراہی میں منعقد ہونے والے ریاض اجلاس کے بارے میں اسلامی ملکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس طرح کے اقدام عالم اسلام میں اختلاف اور نفاق نیز گروہ بندی کا باعث نہ بن جائیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں پوچھے گئے سوال کہ کیا سعودی عرب کی تخریبی سرگرمیوں کو ترک کرنے کی صورت میں ایران آل سعود سے گفتگو کا خواہاں ہے، کہا کہ ہم کشیدگی نہیں چاہتے، کسی بھی ملک سے تعلقات کشیدہ کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی ہم نے کہا تھا کہ ہم بات کرنے کیلئَے آمادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے ک آل سعود اپنی غلطیوں کی طرف متوجہ ہونگے اور ان کی تلافی کرنے کی کوشش کریں گے۔ کسی بھی ملک سے مذاکرات یا کوئی معاہدہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس ملک کی پالیسیوں اور سیاست سے متفق ہیں اور اس کی تائید کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے بھی اسٹریٹجک غلطیاں کی ہیں خاص طور سے علاقائی معاملوں میں جس کی اسے تلافی کرنا ہوگی۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں منعقد ہونے والے ریاض اجلاس کے بارے میں اسلامی ملکوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس طرح کے اقدام عالم اسلام میں اختلاف اور نفاق نیز گروہ بندی کا باعث نہ بن جائیں۔ انہیں ہوشیاری کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنا چاہئے اور صیہونیوں کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ عالم اسلام میں پائے جانے والے اختلاف کو مزید ہوا دیں اور ان کے درمیان مزید  دوریاں بڑھانے میں کامیاب رہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری