تحریر: آر اے سید

ایران میں انتخابات؛ ایک جائزہ (پانچویں قسط)

خبر کا کوڈ: 1410549 خدمت: مقالات
آر اے سید

آج کے مقالے میں ایران کی دینی اور مغرب کی لبرل جمہوریت کا سرسری موازنہ کیا جائیگا۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد عوام نے حقیقی معنی میں سیاسی میدان میں شرکت کی اور انہوں نے مختلف انتخابات میں حصہ لے کر اپنا حقیقی مقام حاصل کر لیا۔ انتخابات، جمہوریت کے بنیادی عناصر کے طور پر سیاسی میدان میں عوام کی شرکت کا مظہر ہیں۔ لیکن ایران کی دینی جمہوریت اور مغرب کی لبرل جمہوریت میں عوام کی سیاسی میدان میں شرکت الگ الگ طرح کی ہوتی ہے۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل، دینی جمہوریت کا ایک نیا تجربہ ہے۔ نظام کے ڈھانچے کا سیاسی ہونا اور مقننہ اور انتظامیہ کےحکام کا ووٹوں کے ذریعے منتخب کیا جانا ایران کی دینی جمہوریت کی خصوصیات ہیں۔

آئین کی شق نمبر چھ کی رو سے اسلامی جمہوریہ ایران میں ملک کے امور کو عوام کے ووٹوں کی بنیاد پر چلایا جانا ضروری ہے۔ اس کے لئےضروری ہے کہ صدارتی، پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں یا جن مواقع پر آئین نے ریفرینڈم کرانےکو کہا ہے ریفرینڈم کرایا جائے۔ ظالم شاہی حکومت کی نسبت اسلامی جمہوری نظام میں عام آزادیوں اور انتخابات کے ذریعے تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے شہریوں، گروہوں، اور جماعتوں کی وسیع پیمانے پر شرکت کا زیادہ راستہ ہموار ہوا ہے۔

ایران میں جس جمہوری ماڈل کو پیش کیا گیا ہے اس کا سرچشمہ اسلام ہے اور اس میں لوگوں کو ہتھکنڈے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ تمام سیاسی مراحل اور سماجی زندگی میں ان کی انسانی اور الہی قدر و منزلت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ بنابریں ایران کی دینی جمہوریت میں عوام اسلامی جمہوری نظام کو مقبول بنانے کے لئے آزادانہ طور پر انتخابات میں شرکت کرتے ہیں اور ان کا فیصلہ ہی حرف اول بھی ہوتا ہے اور حرف آخر بھی۔

ایران میں دینی جمہوریت پر مبنی نظام میں عوام اور جماعتوں کو جو احترام دیا جاتا ہے وہ اسلامی جمہوری نظام اور عوام کے درمیان تعلق کی برقراری کی دائمی کڑی شمار ہوتا ہے۔ یہ کام ایران میں ہونے والے چونتیس انتخابات کی صورت میں انجام پایا ہے۔ ان انتخابات کا ٹرن آؤٹ اوسطا 65 فیصد رہا۔ اس سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کو انتخابات کے بعد بھی ان کے حال پر چھوڑا نہیں جاتا ہے بلکہ عوام مختلف طریقوں سے ہمیشہ اسلامی جمہوری نظام کے حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران میں دینی جمہوریت کا ماڈل مغرب کی جمہوریت کے ماڈل سے مختلف ہے۔ مغرب کی جمہوریت کی بنیاد ہیومن ازم (Humanism) پر ہے اور اس کی توجہ فرد کے صرف مادّی پہلو پر ہوتی ہے۔ اس سیاسی ماڈل میں عوام کا داخلی پالیسی اور خارجہ پالیسی میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔ مغربی حکام عوام کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں کیونکہ ان کے لئے صرف طاقت، دولت اور اقتصادی ذرائع ہی اہمیت رکھتے ہیں۔

مغرب کے سیاسی نظام میں، البتہ مغرب دو ہیں۔ ایک یورپ ہے اور دوسرا امریکہ۔ اگر ذرائع ابلاغ اور تشہیرات کو ہٹا دیا جائے تو عوام کی شرکت میں بہت کمی واقع ہوجائے گی۔ اس  کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہےکہ مغرب میں سیاسی نظام جماعتوں کی بنیاد  پر قائم ہوئے ہیں اور ان کا معاشرے کے تمام طبقات کا نمائندہ ہونا کوئی لازمی امر نہیں ہے۔ آپ امریکہ کو دیکھیں، برطانیہ کو دیکھیں اسی طرح فرانس پر نظر ڈالیں، مغرب کے سیاسی نظام میں جو زاویۂ نگاہ ہے وہ لازمی طور پر انتخابات میں تمام عوام کی شرکت کے سلسلے میں ان ممالک کے سیاسی نظام کو مقبول بنانے کی کوشش پر مبنی نہیں ہوتا ہے اور یہ امریکہ اور یورپ کی ایک بڑی کمزوری ہے۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ ایران میں ایسا نہیں ہے۔ یورپ میں عموما سب لوگ سیاسی نظام کو اپنے سے متعلق نہیں جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم نے تو اس میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ حقیقت یہ ہےکہ اگر مغرب سے دولت اور ذرائع ابلاغ کو چھین لیا جائے تو یورپ میں نظر آنے والے ٹرن آؤن میں بہت کمی واقع ہوجائے گی۔ لیکن ایران میں صورتحال مختلف ہے۔ اور اس کا سیاسی نظام مغرب کے سیاسی نظام سے مختلف شمار ہوتا ہے۔

لبرل ڈیموکریسی کے نزدیک لبرل سرمایہ دارانہ نظام سب سے زیادہ ترقی یافتہ تمدن اور سیاسی اجتماعی حکومت ہے۔ جمہوریت کا یہ ماڈل ترقی و پیشرفت کے مفہوم کی تعریف بھی مادی آسائش، تسلط کا دائرہ بڑھنے، فطرت پر انسان کے تیکنیکی قابو، بیوکریسی (Bureaucracy) میں پھیلاؤ، سرمایہ داری کے تسلط میں گہرائی نیز ہیومن  ازم اور  میٹریل ازم (Materialism) کے ساتھ کرتا ہے۔ اگرچہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ سمیت مغربی ممالک اپنے آپ کو جمہوریت کا گہوارہ قرار دیتے ہیں لیکن لبرل ڈیموکریسی کے ماڈل میں اقتصادی اور مادی امور کو ترجیح دیئے جانے کی وجہ سے عوام پریشان ہیں اور اس نظام حکومت میں بہت سے نقائص پائے جاتے ہیں مثلا امریکی انتخابات میں دولت اور لابی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں عوام کی شرکت کا دارومدار ان دو عناصر پر ہے۔ افراد سیاسی نظام میں اپنی ذمےداری محسوس کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔

    تازہ ترین خبریں