ایرانی انتخابات اور ٹرمپ کے ساتھ مغربی ممالک کی لابی

خبر کا کوڈ: 1411004 خدمت: ایران
برجام

مغربی ذرائع کے مطابق مغربی ممالک نے ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی تند اور زہریلی بیان بازی سے ایران کے انتخابات کو متاثر نہ کریں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مغربی ذرائع ابلاغ نے لکھا ہے کہ مغربی ممالک نے امریکی صدر ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی تند و تیز بیانات کے ذریعے اس ملک کے صدارتی انتخاب کو متاثر نہ کریں۔

ایک مغربی ڈپلومیٹ نے برطانوی روزنامہ فائنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے امریکہ سے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ان کے ایران مخالف تند و تیز بیانات کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہوں۔

اس سیاسی شخصیت کے مطابق ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک واشنگٹن کو اس معاہدے کا پابند رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ اور تہران کے متعلق اپنی سیاست پر نظر ثانی کر رہی ہے۔

ان سب کے باوجود مغربی سیاستدان کا کہنا ہے کہ امریکہ ایٹمی معاہدے پر عمل کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں ایران پر لگی پابندیوں میں کمی کرے گا۔

تین باخبر ذرائع نے فائنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ حکومت ان پابندیوں کو برطرف کرنے کے لئے آمادہ ہے جو ایرانی کمپنیوں سے معاملات کرنے کی صورت میں امریکی کمپنیوں کو پابندیوں سے بچاتی ہے۔ 

اس روزنامہ کے مطابق امریکی حکام اور دیگر ممالک کی حکومتوں نے ایران کیخلاف پابندیوں کے ہٹائَے جانے کی خبر دی ہے۔

امریکہ کی عائد کردہ ان پابندیوں کو ہٹایا جانا ایٹمی معاہدے میں شریک ہونے کی وجہ سے امریکہ کا ایک اہم فرض ہے جو ایک عشرے کی کشمکش کے بعد ایران اور 5+1 ممالک کے درمیان طے پایا تھا۔

امریکہ سرکار نے ایٹمی مسئلہ کے علاوہ میزائیل پروگرام اور انسانی حقوق کی آڑ میں ایران کے خلاف ناحق پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں بارہا اس بات کا اعلان کیا کہ وہ ایرن سے ہونے والے ایٹمی معاہدے پر سب سے پہلے نظر ثانی کریں گے ان سب کے باوجود امریکہ کے حلیف مغربی ممالک اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ امریکہ کو اس معاہدے پر قائم رہنے کے لئے منا سکیں۔

ٹرمپ حکومت نے کچھ دن پہلے ہی ایٹمی معاہدے پر قائم رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے ایران پر مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے ہوئے اس معاہدے پر دقیق نظر ثانی کے بعد عمل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ جب تک اس معاہدے پر نظر ثانی نہیں ہو جاتی امریکہ اس معاہدہ کی شرائط پر عمل کرتا رہے گا۔

امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر رکن ونڈی شرمن نے ایرانی انتخابات اور ایٹمی معاہدے کے انجام سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر روحانی سے سخت کوئی اور شخص صدر بنتا ہے تو معلوم نہیں اس ایٹمی معاہدے کا انجام کیا ہوگا؟

اس معاہدے کے نتیجے میں دنیا پرامن ہے اور اس معاہدے پر تمام فریقین کی طرف سے عمل کرنا امریکی مفادات کے مطابق ہے۔

    تازہ ترین خبریں