تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

پاکستان میں بدامنی کے فسانے سے افغان لڑکیوں کے دورے کی حقیقت تک

خبر کا کوڈ: 1411107 خدمت: پاکستان
پرچم پاکستان

گزشتہ دنوں افغانستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے پاکستان کے حالات کو بہانہ بنا کر قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کرکٹ نہ کھیلنے کے بعد افغانی لڑکیوں نے پاکستان سائیکلنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیکر دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور یہاں پر کسی کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق اسلام آباد میں جہاں قومی ویمن سائیکلنگ چیمپئن شپ میں افغانستان کی ٹیم نے بھی حصہ لیا وہیں سائیکلوں پر سوار افغانستان سے آئی لڑکیوں نازنین اور سحر نے اپنی ہی حکومت اور کرکٹ بورڈ کو آئینہ دکھا دیا اوران سمیت دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان ایک پرامن اور مہمان نواز ملک ہے۔

افغان لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ہم یہاں محفوظ ہیں، پاکستان بہت اچھا ہے اور یہاں خطرے کی بھی کوئی بات نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان آکر بہت خوشی محسوس ہورہی ہے اور یہاں کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز ہیں۔

تاہم اس کے برعکس دوسری جانب افغان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین عاطف مشال فرماتے ہیں کہ پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں لہذا دوطرفہ سیریز یا تو کسی نیوٹرل مقام پر کھیلی جائے یا پاکستانی ٹیم افغانستان آجائے، ہم پاکستان کرکٹ ٹیم کو مکمل سکیورٹٰی فراہم کریں گے۔۔۔۔۔ افغانستان اور سیکیورٹی؟؟؟

دہشتگردی میں گھرے ہوئے، جنگ زدہ، بدحال افغانستان کے حکام کے منہ سے سیکیورٹی کی باتیں کچھ اچھی نہیں لگتیں۔

یہاں ہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حال میں ہی ظاہر کی گئی اس رپورٹ کا تذکرہ نہ کریں گے جس میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے بھارت افغانستان اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں را، این ڈی ایس اور موساد پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کر رہی ہیں، تاہم ایک کہاوت ہے کہ چھاج بولے سو بولے، وہ چھلنی کیا بولے جس میں خود نو سو چھید؛ یعنی جہاں 33 فیصد رقبے پر طالبان قابض ہوں، جہاں کے صدر خود ملک میں داعش سمیت 20 دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے امریکہ سے امداد اور استحکام کا سوال کر رہے ہوں، جہاں بم دھماکہ ہونا معمول اور بم دھماکہ نہ ہونا اچھنبے کی بات ہو، اس ملک کا پاکستان کرکٹ ٹیم کو سکیورٹٰی فراہم کرنے کا دعوی کسی بیہودہ مذاق سے کم نہیں ہے۔

بہرحال پاکستان کو غیرمحفوظ قرار دینے والا بدحال اور تباہ معیشت والا افغانستان یہ بتانا بھول گیا کہ اگر پاکستان اتنا ہی غیر محفوظ ہے کہ مٹھی بھر افغان کھلاڑی طند روز کے لئے یہاں نہیں آسکتے تو لاکھوں افغان مہاجرین دہائیوں سے پاکستان میں کیوں آباد ہیں؟

افغان حکام سے مودبانہ گذارش ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے قبل ان لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے وطن بلا کر سیکیورٹی دیں جو بدامنی کے ہاتھوں مجبور ہو کر پاکستان، ایران اور جانے کہاں کہاں دربدر بھٹک رہے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں