ٹرمپ حکومت کے 100 دنوں میں تارکین وطن کی گرفتاریوں میں 40 فیصد اضافہ

خبر کا کوڈ: 1411558 خدمت: دنیا
ٹرمپ

پچھلے سال گرفتار کیے جانے والے ایسے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد، جن کے خلاف کوئی فوجداری کیس نہیں تھا، 4200 تھی ، جب کہ موجودہ سال اسی مدت کے دوران حراست میں لیے جانے والوں کی تعداد 10800 ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد پہلے 100 دنوں میں غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریوں میں تقریباً 40 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کے روز جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ صدر ٹرمپ کے ایکزیکٹو آرڈرز کے بعد ہوا ہے جس میں امیگریشن کی ان خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جنہیں عہدےدار ہدف بنا سکتے ہیں۔

امیگریشن اور کسٹمز کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹامس ہومین نے بتایا کہ اس سال 22 جنوری سے اپریل کے اختتام تک 41 ہزار سے زیادہ غیرقانونی تارکین وطن کو پکڑا گیا جب کہ پچھلے سال اسی مدت کے دوران حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد 30 ہزار کے لگ بھگ تھی۔

پکڑے جانے والوں میں سے تقریباً دو تہائی لوگ ایسے ہیں جن کے خلاف فوجداری مقدمات تھے۔

لیکن اس سے ہٹ کر پکڑ جانے والوں کی تعداد میں 150 فی صدسے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

پچھلے سال گرفتار کیے جانے والے ایسے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد، جن کے خلاف کوئی فوجداری کیس نہیں تھا، 4200 تھی، جبکہ موجودہ سال اسی مدت کے دوران حراست میں لیے جانے والوں کی تعداد 10800 ہے۔

گرفتاریوں میں یہ اضافہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سربراہ جان کیلی کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ایکزیکٹو آرڈرز کے نفاذ کے باعث ہوا۔

انہوں نے کہا کہ امیگریشن اور کسٹمز حکام ان لوگوں کو پکڑتے رہیں گے جن کےخلاف امیگریشن جج نے ملک سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا ہے، چاہے انہوں نے کوئی فوجداری جرم کیا ہو یا نہ کیا ہو۔

سابق صدر براک اوباما بھی اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں کہ ان کے دور میں بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کیا گیا تھا۔

ان واقعات میں زیادہ تر ایسے افراد تھے جو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار ہو ئے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی صدارت میں اسی مدت کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلیوں میں 12 فی صد کمی آٹی ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سربراہ نے بتایا کہ اس سال میکسیکو کی سرحد عبور کر کے امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

امیگرنٹس کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور تارکین وطن نے ملک کے اندر غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریوں میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں