جرمنی کا ترکی کو انتباہ! صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے

خبر کا کوڈ: 1411749 خدمت: دنیا
زیگمار گابریل

جرمن وزیر خارجہ نے دو جرمن شہریوں کی گرفتاری اور پارلیمنٹ وفد کی اینجرلیک فوجی اڈہ کے معائنہ اور وہاں تعینات فوجیوں سے ملاقات پر پابندی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "انقرہ جان لے کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔"

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جرمن پارلیمنٹ کے وفد کے اینجرلیک دورے پر ترکی کی طرف سے عائد پابندی پر جرمن وزیر خارجہ زیگمار گیبریل نے کہا: "میں صرف یہ امید کر سکتا ہوں کہ ترکی اپنے رویہ میں تبدیلی لائے گا ورنہ دوسری صورت میں جرمن پارلیمنٹ اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ ان کے فوجی ترک سرزمین پر رہیں۔

انہوں نے ایک روزنامہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب جب کہ ہر روز جرمنی کے باشندوں کو بیہودہ الزامات کی بناء پر گرفتار کیا جا رہا ہے اور انہیں ملک سے باہر سفر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے تو ایسی حالت میں جرمن پارلیمنٹ پر دباو بڑھتا جا رہا ہے اور ہمارا صبر بھی اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔

انقرہ نے جرمنی پر اپنے کچھ فوجی افسران کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے جرمن وفد کے اینجرلیک کے پہلے سے طے شدہ دورے کو رد کر دیا تھا۔

ترک وزیر اعظم نے جرمنی کے اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جرمنی دونوں ممالک کے تعلقات کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

جرمنی نے بھی ان شرائط میں ترکی کو اینجر لیک کے سلسلے میں اپنے موقف میں تبدیلی لانے کا انتباہ دیتے ہوئے اس کے بدلے کسی اور جگہ کے انتخاب کا مشورہ دیا تھا۔

ہفت روزہ اشپیگل نے ترکی سے بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اینجرلیک سے جرمن فوجیوں کو اردن کے کسی فوجی اڈے میں منتقل کرنے کے جرمن سرکار کے ممکنہ فیصلہ کی خبر دی تھی۔ 

اس ہفت روزہ جریدے کے مطابق رواں ہفتے کے آخری دنوں میں جرمن وزیر دفاع اردن کے فوجی اڈے "شہید موفق" کا جائزہ لیں گے تاکہ ترکی کے اینجرلیک سے اپنی فوجیوں کو وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔ اس ہوائی اڈے میں پہلے ہی امریکی ڈرون اور جنگی طیارہ موجود ہیں۔ جرمن وزیر دفاع نے اس سلسلے میں اردن کے دارالحکومت امان میں متعلقہ حکام سے گفتگو بھی کی ہے۔

جرمن چانسلر انجلا مرکل نے بھی جرمن وفد کو اینجرلیک کا دورہ کرنے سے روکنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول اور احمقانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمن فوج پارلیمنٹ کی تابع ہے اور پارلیمنٹ کے ارکان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فوجیوں سے ملاقات کر سکیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری