تحریر: آر اے سید

ایران میں انتخابات؛ ایک جائزہ (آخری قسط)

خبر کا کوڈ: 1411762 خدمت: مقالات
آر اے سید

مختلف رپورٹوں کے مطابق آج لبرل ڈیموکریسی کے نظام میں عوام کی سرگردانی بہت واضح طور پر نظر آتی ہے اور آج کے مغربی معاشرے میں عوام اور سیاسی نظام کے درمیان پائے جانے والے فاصلے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: امریکہ کی دو بڑی جماعتیں اور امیدوار کارٹلز سے وابستہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہی جماعتیں اور امیدوار انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں اور عملی طور پر عوام کا ان کی کامیابی میں کوئی کردار نہیں ہوتا ہے۔

امریکہ کے چند انتخابات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوجاتا ہےکہ عوام کو اس ملک کے سیاسی نظام میں خاص مقام حاصل نہیں ہے۔ انتخابات کا فیصلہ دو چیزوں یعنی دولت اور لابی کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ سنہ 2016ء میں امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ حالیہ بیس برسوں کے دوران کم ترین تھا۔ ان انتخابات میں بہت سے ووٹروں نے اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کئے تھے اور امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ ووٹروں نے ووٹ دیئے۔

امریکہ کے گزشتہ برس کے صدارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ تقریبا پچپن فیصد تھا۔ امریکہ سمیت مغرب میں انتخابات میں عوام کی شرکت مغربی ڈیموکریسی کے لئے ایک مشکل شمار ہوتی ہے۔ اس مسئلے کی متعدد وجوہات ہیں۔ جن میں سے مغربی ممالک میں عوام کے سیاست زدہ ہونے، موجودہ صورتحال کی وجہ سے ناامید ہونے کی بنا پر سیاسی امور میں شرکت سے بے اعتنائی نیز حکام اور سیاستدانوں کی کارکردگی سے عوام کی ناراضگی کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے۔

یورپی ممالک، امریکہ، سوئٹزرلینڈ میں یا مثلا اسکینڈے نیویا  کے ممالک یعنی ڈنمارک، سویڈن اور ناروے  میں خواتین کو سنہ 1971ء  میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا تھا۔ یعنی اسلامی انقلاب کی کامیابی سے سات برس پہلے تک ان کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ اور ایسا نہیں ہے کہ دوسرے یورپی ممالک میں خواتین کو ووٹ کا حق حاصل ہونا کوئی بہت نئی بات ہو۔ امریکہ میں بھی صورتحال یہی تھی ۔ اور دوسرا مسئلہ جس کی وجہ سے میرے ذہن میں سوال اٹھتا ہے یہ ہےکہ مثلا کہا جاتا ہے کہ ان ممالک میں ہر شخص امیدوار کے طور پر کھڑا ہوسکتا ہے اور لوگوں سے ووٹ حاصل کر سکتا ہے لیکن ایران میں ایسا نہیں۔ میں اس بارے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایران میں سنتیس اڑتیس برسوں کے دوران پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں ایسے افراد پارلیمنٹ کےرکن بنے جو نظام پر سخت تنقید کرنے والے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا یورپی ممالک میں کیوں نہیں ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ ان کےنظام حکومت جمہوری ہیں۔ ان ممالک میں ایران جیسے صدارتی انتخابات کیوں نہیں ہوتے کہ امیدوار نئے نظریات اور پالیسیاں پیش کرے۔ سابقہ نظریات اور پالیسیوں کو بالائے طاق رکھ دے۔ اور اقتدار میں آنے کے بعد سابقہ حکومت کی پالیسیوں کے برخلاف پالیسیاں اختیار کرے۔ فرانس میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے۔ امریکہ میں کیوں نہیں ہوتاہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ میں ٹرمپ جیسا کوئی شخص آتا ہے تو پھر بھی امریکہ کی پالیسی اسرائیل کے ساتھ اتحاد اور ایران کی مخالفت پر ہی استوار ہوتی ہے اور سابقہ صدر کی پالیسی اور موجودہ پالیسی میں کوئی تضاد نہیں ہوتاہے صرف اقتصادی پالیسی مختلف ہوتی ہے۔

برطانیہ اور فرانس میں بھی عوام کا کردار زیادہ موثر نہیں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب میں عوام سیاسی میدان میں شریک ہونے کا رجحان ہی نہیں رکھتے ہیں اور اس مسئلے کی وجہ لبرل ڈیموکریسی کے نظریئے میں پایا جانے والا نقص ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہےکہ یورپی ممالک میں پولیٹیکل اسٹریٹیجیز بناتے وقت عوام کی رائے پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اور اس بارے میں ان کی رائےہی معلوم نہیں کی جاتی ہے۔

برطانیہ کے سماجی تحقیقات کے ادارے پاپولوس نے سنہ 2016ء میں  ایک سروے کیا جس کے مطابق فرانس کے اکیاون فیصد، امریکہ کے اکتالیس فیصد، مغربی یورپ کے ستاون فیصد اور مشرقی یورپ کے ساٹھ فیصد عوام کا خیال ہےکہ ان ممالک کے عوام کا ملک کی خارجہ پالیسی کےسلسلے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ سروے برطانیہ، امریکہ، جرمنی، فرانس ، بلغاریہ ، ہنگری، جمہوریہ چیک اور ہالینڈ میں کیا گیا۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہیومن ازم پر مبنی لبرل ڈیموکریسی اور مغربی ممالک پر حکمفرما سیاسی نظام کے درمیان ہم آہنگی نہیں پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مغربی ممالک کے عوام کی اکثریت اپنے ممالک کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ہیں اور وہ جنگ کے مخالف ہیں مثلا مغرب نے دہشت گردی کے بارے میں دوہری پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ جس کا نتیجہ مغرب میں بدامنی کی صورت میں برآمد ہوا ہے اور اسی لئے مغربی عوام اپنے سیاستدانوں پر اعتماد نہیں کرتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری