افغانستان میں سعودی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے عادل الجبیر کوششیں

خبر کا کوڈ: 1413832 خدمت: دنیا
الجبیر

سعودی وزیر خارجہ نے افغان وزیر خزانہ سے ملاقات کرتے ہوئے افغانستان کے بعض منصوبوں میں مالی امداد کی پیشکش کی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے افغان وزیر خزانہ اکلیل حکیمی سے ملاقات کرتے ہوئے اس ملک کی امن و سلامتی کے متعلق گفتگو کی۔ 

یہ ملاقات سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوئی۔ 

اکلیل حکیمی نے اس موقع پر کہا کہ سعودی وزیر خارجہ نے ان سے افغانستان میں سعودی منصوبوں اور ان کے لئے لازم سرمایے کے انتظام کے سلسلے میں بات کی۔ 

انہوں نے اس ملاقات میں سعودی عرب اور افغانستان کے تعلقات میں مزید بہتری لانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب افغانستان میں جلال آباد سے 15 کیلو میٹر کی دوری پر 500 ملین ڈالر کی لاگت سے تیسری سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی بنا رہا ہے۔ 10 ہزار سے زائد طالبعلموں کو مد نظر رکھتے ہوئے 160 ہیکٹر میں بننے والی اس یونیورسٹی کی چاردیواری مکمل ہو گئی ہے۔

اس یونیورسٹی کا نصاب تعلیم عربی زبان میں ہوگا۔ اگر چہ افغان علماء اور پارلیمیٹ ارکان نے افغانستان میں وہابی تفکر کو فروغ دینے کی سعودی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس یونیورسٹی کے نصاب تعلیم کو عربی زبان میں رکھنے کا اصلی ہدف اس جامعہ میں اپنے منظور نظر یا سعودی اساتذہ کو معین کرنا ہے۔ 

دوسری طرف اس یونیورسٹی کا محل وقوع داعشی عناصر کی مطلوبہ جگہ ہے۔

سردار داود فوجی اسپتال پر ہونے والے حالیہ حملے میں شریک ایک حملہ آور ڈاکٹر بھی جلال آباد یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ 

سعودی عرب نے گذشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں نجم المدارس کو لاکھوں ڈالر کی مالیت کا کتاب خانہ سونپا تھا۔ 

کہا جا رہا ہے کہ ننگرہار میں داعش سے وابستہ افراد کی موجودگی کے سبب ہی سعودی عرب اس صوبے میں اتنی دلچسپی لے رہا ہے۔

کیوںکہ سعودی عرب نے اس سے پہلے افغانستان کے کسی بھی علاقے میں500 ملین کی خطیر رقم خرچ نہیں کی ہے۔ 

کچھ عرصہ قبل ہی افغانستان پارلیمنٹ کے رکن جمال فکوری بہشتی نے کہا تھا کہ افغان پارلیمنٹ کے ارکان حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے کیوںکہ سعودی بادشاہ صرف افغانستان اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے اکثر ممالک میں دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ 

یہ بات واضح ہے کہ سعودی عرب دنیا بھر میں بشمول افغانستان اور پاکستان میں متعصب دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری